77

قبروں کے پتھر چرانا چھوڑیئے…حامد میر

امرتسر سے ایک سکھ صحافی دوست نے ایسی فرمائش کر ڈالی جس کو پورا کرنا بہت مشکل تھا۔ کہنے لگے: آپ نے اپنے ایک کالم میں بابا گورو نانک کے بارے میں ڈاکٹر علامہ اقبالؒ کے اشعار شامل کر کے ہمارے دل جیت لئے ہیں۔ ہم اگلے سال مارچ میں امرتسر میں ایک سیمینار کروا رہے ہیں، ہماری خواہش ہے کہ آپ اس سیمینار میں آئیں اور خطاب کریں۔ اس دعوت پر میں نے سکھ دوست کا شکریہ ادا کیا اور پوچھا کہ کیا آپ کا سیمینار بابا گورو نانک کے بارے میں ہو گا؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ نہیں، نہیں یہ سیمینار مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بارے میں ہو گا۔ یہ سُن کر مجھے کچھ دیر کے لئے چپ لگ گئی کیونکہ بابا گورو نانک کے احترام کا یہ مطلب تو نہیں کے میں رنجیت سنگھ کا بھی احترام کرتا ہوں۔ اس ناچیز نے اپنے سکھ دوست سے کہا کہ دراصل مجھے رنجیت سنگھ کی علمی خدمات سے زیادہ آشنائی نہیں ہے اس لئے میری طرف سے معذرت قبول کیجئے۔ سکھ دوست کہاں ماننے والا تھا۔ کہنے لگا: آپ فکر نہ کریں، ہم آپ کو تقریر لکھ کر دیدیں گے۔ آپ نے ہر صورت میں امرتسر آنا ہے۔ عجیب مشکل تھی۔ تھوڑی ہمت کی اور سکھ دوست سے کہا کہ سردار جی میری ناقص معلومات کے مطابق جب رنجیت سنگھ نے لاہور پر قبضہ کیا تو اُس نے بادشاہی مسجد کے احاطے میں گھوڑوں کا اصطبل بنا دیا اور شاہی قلعے کے بالکل سامنے حضوری باغ میں بارہ دری تعمیر کرائی جہاں وہ اپنی عدالت لگاتا تھا۔ حضوری باغ بارہ دری کی تعمیر میں اُس نے سنگ مرمر سمیت دیگر قیمتی پتھر استعمال کئے، یہ پتھر اُس نے جہانگیر اور نورجہاں کے مقبروں سے اکھاڑے۔ قبروں سے پتھر اکھاڑ کر اُس نے اپنی عدالت سجائی۔ ہو سکتا ہے کہ اُس نے بہت سے لوگوں کو انصاف دیا ہو لیکن قبروں سے پتھر اکھاڑ کر اُس نے تاریخ کے ساتھ جو ناانصافی کی، اُس کا جواب کون دے گا؟ یہ سُن کر سکھ دوست واہ واہ کرنے لگا اور اُس نے کہا رنجیت سنگھ مہاراج کتنے عظیم تھے اُنہوں نے قبروں سے پتھر اکھاڑ کر زندہ انسانوں کیلئے انصاف کی بنیادیں رکھیں۔ اب تو آپ کو ہمارے سیمینار میں ضرور آنا ہے۔ مجھے چشمِ تصور میں اس سیمینار کے دوران انڈے اور ٹماٹر پرواز کرتے ہوئے نظر آئے لہٰذا میں نے اس سادہ دل سکھ دوست سے زبردستی اجازت لے کر فون بند کر دیا۔

حیرت ہے کہ نیب کے پاس کسی بھی سیاستدان یا بیورو کریٹ کے 90دن کا ریمانڈ لینے کا اختیار ہے، نیب کسی بھی سویلین کو بغیر ثبوت اور مقدمے کے گرفتار بھی کر سکتا ہے لیکن پھر بھی یہ ادارہ شہباز شریف کے خلاف کوئی ثبوت حاصل نہیں کر سکا۔ نیب کا دعویٰ ہے کہ وہ اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کروا چکا ہے۔ بہت اچھی بات ہے۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے بھی 2013ء سے 2018ء کے دوران قومی خزانے میں اربوں روپے جمع کرائے۔ کرپشن ہمارے ملک کا ایک اہم مسئلہ ہے اور کرپشن کے خاتمے کیلئے نیب جیسے ادارے کو کامیاب بنانا بہت ضروری ہے لیکن نیب کے اندر بھی چیک اینڈ بیلنس کا مؤثر نظام نظر آنا چاہئے۔ نیب کو مزید کارگر بنانے کیلئے نیب کے قانون میں کچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ یہ تبدیلیاں نہ کی گئیں اور نیب کا احتساب نہ کیا گیا تو نیب ریاستی اداروں میں غلط فہمیاں پیدا کرتا رہے گا اور ہمیشہ متنازع رہے گا۔ رنجیت سنگھ نے جہانگیر اور نورجہاں کی قبر سے پتھر اکھاڑ کر اپنی عدالت سجائی تھی، مشرف نے نواز شریف کے احتساب بیورو کی قبر سے پتھر اکھاڑ کر نیب بنایا لیکن قبروں کے پتھروں سے جان چھڑایئے اور احتساب کا نیا ادارہ بنانے کیلئے نیا قانون بنایئے۔

Facebook Comments