58

ڈیڑھ لاکھ سے زائد ایف آئی آرز کمپیوٹرائزڈ

پشاور(آوازچترال رپورٹ ) ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود نے کہا ہے کہ پولیس فورس میں جدید اور نت نئے ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہر قسم کی دہشت گردی اور دیگر جرائم پر موثر طریقے سے قابو پایا جاسکتا ہے ۔
واضح رہے کہ آئی جی پی صلاح الدین خان محسود روز مرہ کی پولیسنگ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عمل میں لانے کو اولین ترجیح دے رہے ہیں۔ اس اقدام کی روشنی میں خیبر پختونخوا پولیس نے ایف آئی آرز کی کمپیوٹرائزیشن کا عمل تیزکردیا۔ صوبہ میں 1,54,458 ایف آئی آرز کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا۔ خیبر پختونخوا پولیس نے صوبے میں تمام پولیس اسٹیشنوں کے ایف آئی آرز کے ریکارڈ کے لیے ایک سنٹرل ڈیٹا بیس بنادیا ہے۔
متعلقہ شخص کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ ، اس کے نام و لدیت، پتہ اور اس کے زیر استعمال موبائل فونز کے ذریعے FIR تک رسائی براہ راست کی جاتی ہے۔ ضلع پشاور نے سال رواں کے دوران اب تک 28,520ایف آئی آرز ، مردان نے 18,185 ، چارسدہ نے 7,525 ، نوشہرہ نے 4,484، صوابی نے 6,699، سوات نے 14,608 ، بونیر نے 9,324، شانگلہ نے 3,638 ، دیر لوئر نے 6,808، دیر آپر نے 2,760 ، چترال نے 3,073، ایبٹ آباد نے 7,478،
ہری پور نے 4,731 ، مانسہرہ نے 4,581 ، بٹگرام نے 582، کوہستان لوئر نے 432، کوہستان آپر نے 503، تور غر نے 156، کوہاٹ نے 6,882، ہنگو نے 2,687، کرک نے 3,102، بنوں نے 7,023 ، لکی مروت نے 2,940 ، ڈی آئی خان نے 6,358 اور ٹانک نے 1,379 ایف آئی آرز کو کمپیوٹرائز کیا ہے۔ آن لائن کمپیوٹر ریکارڈ کے بدولت تمام ریکارڈ سنٹرلائزڈ اور صوبے کے تمام تھانوں کو رسائی سے قانون شکن عناصر کے خلاف موثر کاروائی اب سیکنڈوں میں ہونے لگی ہے۔
اب ملزم ایک ضلع سے بھاگ کر صوبہ کے کسی بھی کونے میں جاکر پولیس کے نظر سے اوجھل نہیں ہو سکتا ہے۔ ملزم کے خلاف مکمل فائل اس کمپیوٹرائزڈ نظام کا حصہ ہے۔ مقدمے میں تمام پولیس اور عدالتی کاروائیوں کو آن لائن نظام میں درج کیا جاتا ہے۔جیسے ہی کسی تھانے میں FIRدرج ہوتی ہے تو اس کی ایک کاپی کمپیوٹر سیل کو موصول ہوتی ہے۔ جہاں پر اس کاپی کو کمپیوٹرائزڈ نظام کا حصہ بنایا جاتا ہے

Facebook Comments