48

”مجھ پر یوٹرن کا الزام لگتا ہے لیکن یوٹرن ہوتے کس لیے ہیں ، اب سامنے دیوار آجائے تو بندہ ۔۔۔ “ عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو میں ایسی بات کہہ دی کہ آپ کی ہنسی نہ رکے گی

اسلام آباد (  آوازچترال رپورٹ) سینئر صحافی ارشاد بھٹی کا کہنا ہے کہ عمران خان سے صحافیوں کی ڈیڑھ گھنٹہ گفتگو میں بہت سے دلچسپ مراحل بھی آئے، خاص طور پر وہ موقع جب انہوں نے یوٹرن کے حوالے سے بات کی۔

 اپنے کالم میں ارشاد بھٹی نے لکھا ”دوپہر ڈیڑھ بجے جب ہم کانفرنس روم میں بیٹھ چکے تو 5 منٹ بعد فواد چوہدری اور افتخار درانی کے ہمراہ وزیراعظم بھی آگئے، نعیم الحق پہلے سے موجود، سینیٹر فیصل جاوید بعد میں آئے، علیک سلیک کے بعد گفتگو شروع ہوئی، دو تین اینکرز نے شکوہ کیا، فواد چوہدری، نعیم الحق اور افتخار درانی کے علاوہ آپ کا کوئی وزیر ہمارے پیغام کا جواب بھی نہیں دیتا، رابطے کا یہ فقدان کیوں، عمران خان کا جواب تھا ”یہ ہماری غلطی، واقعی گزشتہ دو ماہ میں حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے جس طرح ہمیں آگاہ کرنا چاہئے، نہیں کر سکے، موثر رابطہ نہیں رکھ پائے لیکن آئندہ ایسا نہیں ہو گا“۔
 ارشاد بھٹی نے لکھا ” ڈیڑھ گھنٹے کی اس بیٹھک میں بڑے دلچسپ مراحل بھی آئے، جیسے جب لوٹی دولت پر بات ہو رہی تھی تو عمران خان کہنے لگے ”ہم نے یو اے ای حکمراں سے کہا، آپ ہماری لوٹی دولت ہی واپس کر دیں، قرضہ نہ بھی دیں تو کام چل جائے گا“ عمران خان بولے ”مجھ پر یوٹرنز کا الزام، بتائیں یہ یوٹرنز ہوتے کس لئے ہیں، لینے کیلئے، اب چلتے چلتے سامنے دیوار آجائے تو بندہ یوٹرن نہ لے تو کیا کرے، کوئی بے وقوف ہی ہو گا جو مڑنے کی بجائے دیوار کو ٹکریں مارتا رہے گا“۔
Facebook Comments