88

داد بیداد …مزیدڈرامے… ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

تھیٹر، ڈرامہ اور تماشا پیرس ،برلن اور لندن کے ساتھ مخصوص فن یا کرتب نہیں ہے تھیٹرکہیں بھی ہوسکتاہے ڈرامہ اور تماشا کہیں بھی لگایاجاسکتاہے وطن عزیز کی سیاست میں تھیٹر اورور ڈرامے کا بڑا دخل رہا ہے آغا حشر کاشمیری اگر زندہ ہو تے تو اپنے فن پارے جلا دیتے بخاری بردران اگر زندہ ہوتے تو چلو بھر پانی ڈوب مرتے ضیا ء محی الدین کا فن بھی آج سیاسی کرتب بازوں کے سامنے پانی بھر تا ہو ا نظر آتاہے مثلادیکھئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزاہوئی تو لوگوں نے کہا ڈرامہ ہے اْن کی سزامعطل کی گئی پھر لوگوں نے یہ بھی ڈرامہ ہے کراچی کے ہسپتال میں قیدی شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں تو لوگوں نے کہا یہ ٹوپی ڈرامہ ہے ٹیسٹ کرنے پر ان بوتلوں میں خالص شہد اور زیتون کا تیل نکل آیا تولوگوں نے کہا یہ بھی ڈرامہ ہے بھئی حد ہو گئی چیف جسٹس نے چھاپہ مارا تم اس کو ڈرامہ سمجھنے لگے آخر کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے عرصہ ہو ا بھارت کے ایک شہری نے کینیا کے قومی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی قوم کی ایک بڑی کمزوری کو کینیا کے عوام کی کمزوری کی طرح ناقابل علاج قرار دیا تھا بھارتی دانشور نے نہایت دردمندی کے ساتھ اپنی شائستہ انگریزی میں کہا کہ کینیاکی طرح ہمارے ہاں بھی ایک مرض عام ہے کوئی بھی شخص اپنا کام نہیں کرتا دوسروں کے کاموں میں مشورے دیتاہے مثلا “دہلی کے ایک کھوکھے میں بیٹھا ہو ا پختہ چائے فروش چلم کے دوکش لیکر وزیر خارجہ کو امریکہ کے ساتھ تعلقات پر مشورہ دے گا ٹنڈولکر کو کرکٹ میں بیٹنگ اور فیلڈنگ کے گْرسکھانے کی کوشش کرے گا بھارتی وزیر اعظم کو ملکی پیدا وار بڑھا نے اور بر آمد ات میں اضا فہ کرنے کے سلسلے میں مفید مشورے دیگا اس کی با توں سے لگتا ہے کہ وہ دنیا کے ہر شعبے میں ہر کا م پر مہا رت رکھتا ہے مگر مسلۂ یہ ہے کہ وہ اچھی چائے نہیں بنا سکتا اگر وہ دوسروں کے کا موں پر لمبے تبصروں کی جگہ اپنے کا م پر تھو ڑ ی توجہ دیتا تو اچھی چا ئے بن سکتی تھی ۔‘‘ہو بہو یہی مسلہ ہم پا کستانیون کا بھی ہے وطن عزیز میں کون ہے جو اپناکا م کر تا ہے پاک فوج مردم شما ری اور انتخا بات کر اتی ہے عد لیہ کے جج ہو ٹلوں ، دکا نوں ، ہسپتا لوں اور تندوروں پر ڈیوٹی دیتے ہیں ، سیا ست دان مذہب اور شریعت کی موشگا فیوں پر وقت ضا ئع کر تے ہیں جبکہ علمائے کر ام نا لیوں کو پختہ کرنے ، نلکوں میں پا نی لانے اور بجلی کے ٹرانسفار مر درست کرنے پر اپنا اور ہما را وقت بر باد کرتے ہو ئے دکھا ئی دیتے ہیں دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ واقعی سب ڈرامہ ہے لو گوں کی زبان کا کوئی اعتبار نہیں لوگوں نے ایم کیو ایم کے قا ئد کو ڈرامہ آرٹسٹ قرار دیا ہم نے نہیں ما نا ، لو گوں نے پا ک سر زمین پار ٹی، ملی مسلم لیگ اور لبیک والی تحریک کو ڈرامہ قرار دیا ہم نے کہا خدا کا خوف کرولوگوں نے میمو گیٹ کو ڈرامہ کا نام دیا ہم نے تسلیم نہیں کیا لو گوں نے پا نا مہ لیکس کو ڈرامہ قرار دیا ہم نے ماننے سے انکار کیا لوگوں نے ڈان لیکس کو ڈرامہ قرار دیا ہم اپنی ضد پر اڑے رہے کہ یہ ڈرامہ نہیں ہے نتیجہ یہ ہو ا کہ لو گ جیت گئے اور ہم نے ہار مان لی ہر کہا نی ڈرامہ ثابت ہوئی با قی با توں سے صرف نظر کیجئے ایان علی کیس کو لے لیجئے دوستوں کا خیال تھا کہ یہ بھی ڈرامہ ہے ہم اصرار کرتے تھے کہ ڈرامہ نہیں ہے مگر آخر میں وہ بھی ڈرامہ ثا بت ہو ا نیو یارک سے آنیوالا تھیٹر “نا ئن الیون ” 18سالوں سے چل رہا ہے آج بھی پہلے دن کی طرح مقبول ہے اس طرح ملکی سطح پر گمشدہ افراد (Missing persons) کا ڈرامہ 20سالوں سے چل رہا ہے ایک اور ڈرامہ جو بیحد کا میاب ہوا ہے وہ نا معلوم افراد کا ڈرامہ ہے اس ڈرامے کا سکر پٹ بہت جا ندار ہے لگتا ہے یہ سکر پٹ ہا لی وڈ کی کسی فلم کا چر بہ ہے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اگر نا معلوم افراد اتنے طا قتور ہیں تو ہم ملک کی با گ ڈور ان کے ہاتھوں میں کیوں نہیں دیتے ؟ وہ بڑی بڑی واردات کر کے پو لیس اور فوج کو خا طر میں لائے بغیر بھا گ جا تے ہیں اغوا ء برائے تاوان کی وارداتوں میں پانچ کروڑ روپے بڑے افیسر سے وصول کر کے لے جاتے ہیں سر کاری تنصیبات پر حملے کر تے ہیں تو پتہ لگتا ہے کہ ان کا اسلحہ ہماری سیکورٹی فورسز سے بہتر تھا ان کی تر بیت بھی ہما ری سیکورٹی فورسز سے بہتر تھی آخر کب تک ہم ان کو نا معلوم کہتے اور لکھتے رہینگے 1979ء میں با چا خان نے کہا تھا کہ دہشت گر دی کے خلاف افغان جنگ ہماری نہیں امریکہ کی جنگ ہے 6ستمبر 2018کو سب نے کہا “یہ ہماری جنگ نہیں تھی “جس دن یہ خبر آئی اس دن مجھے اخبار کے نیوز ڈیسک کا ایک وا قعہ یاد آیا اخبار کے دفتر میں خبر آئی تھی کہ با رودی سرنگ کے دھماکے میں 4شہریوں نے جان دیدی خبر دو گھنٹے تک آگے نہ جا سکی مسلہ یہ تھا کہ مر نے والوں کو شہیدکہا جائے یا جان بحق لکھا جائے ؟ دوگھنٹے بعد ٹیلی وژن پر خبر آئی کہ چار شہری جاں بحق ہوئے ہم نے بھی جاں بحق لکھا اور خبر لگادی ابھی مزید ڈرامے دیکھنے کو ملینگے یار زندہ صحبت باقی

Facebook Comments