50

چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست ختم کرنے کے خلاف الیکشن کمیشن میں پٹیشن کی سماعت

 اسلام آباد (  آوازچترال رپورٹ ) چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست ختم کرنے کے خلا ف الیکشن کمیشن آف پاکستان اسلام آباد میں دائر پٹیشن کی سماعت جمعہ کے دن ہوئی ۔ پشاور ہائی کورٹ کے وکیل سید غفران اللہ شاہ نے چترال کی طرف سے پیش ہوئے اور تمام قانونی و آئینی پہلوں پر مفصل دلائل پیش کئے ۔ اور چترال کے دورآفتادگی اور رقبہ کے لحاظ سے صوبے کا سب سے بڑا ضلع ہونے اورساتھ موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے چترال کو دو اضلاع میں تقسیم کرنے کے اعلان اور صوبائی کیبنٹ اجلاس میں منظوری کا بھی ذکر کیا ۔ جس پر کمیشن نے کیبنٹ منظوری کو ناکافی اور چترال ضلع کو ایک ہی ضلع قرار دیا۔چترال سے ایم این اے شہزادہ افتخار الدین، ایم پی ایز سلیم خان ، سردار حسین ،چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری و سی سی ڈی این کے چےئرمین سرتاج احمد ، سابق ایم این اے عبد الاکبر چترالی ، سابق کمشنر کسٹم عبد الولی ، سابق ایم پی اے غلام محمد، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل شہزادہ خالد پرویز، انجینئر فضل ربی ، پی ایم ایل این کے ضلعی صدر نوید الرحمن چغتائی اور اسلام آباد و پشاور میں مقیم چترالی وکلاء برادری بھی موجود تھے۔ جبکہ چترال میڈیا کی نمائندگی پریس کلب کے سینئر نائب صدر سیف الرحمن عزیز نے کی ۔سلیم خان ، سردار حسین، سرتاج احمد اور سابق ایم این اے عبد الاکبر چترالی نے بھی چترال کے جغرافیائی و سابقہ حیثیت سے عدالت کو اگاہ کیا۔ سید سردار حسین نے بتایا کہ چترال 1969تک ایک مکمل ریاست تھی۔ جس کو ختم کرکے پاکستان کے ساتھ ضم کیا گیا ۔ اوراُس وقت سے اب تک صوبائی اسمبلی کی دو نشستیں تھیں ۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ سالوں چترال میں مسلسل قدرتی آفات آنے کی وجہ سے چترال کی نصف آبادی شہروں کی طرف منتقل ہونے پر مجبورہوگئی ہے۔ اور ساتھ مردم شماری سردیوں میں ہونے کی وجہ سے لوگ چترال ضلع سے باہر تھے۔الیکشن کمیشن نے تقریبا ایک گھنٹہ انتہائی دلچسپی اور غورسے چترال کے دلائل سنے۔ اور فیصلہ محفوظ کرلیا ۔ تاہم اس موقع پر بتایا گیا کہ نشست کو ختم کرنے یا اضافہ کرنے کا اختیار الیکشن کمیشن کو نہیں ہے ۔ جس کیلئے متعلقہ فلور سے قانون پاس کرنا ہوگا۔الیکشن کمیشن کی سماعت کے بعد چترال کے عمائدین کا ایک اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں آئندہ کیلئے لائحمہ طے کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کے مکمل فیصلہ آنے کے بعد پشاور میں دوبارہ اجلاس بلانے اور پٹیشن مسترد ہونے کی صورت میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔ دریں اثنا سرتاج احمد خان کی زیر صدارت سی سی ڈی این کا اجلاس پشاور میں منعقد ہوا ۔ جس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد آئندہ کا لائحمہ عمل طے کرنے کافیصلہ ہوا۔
Facebook Comments