58

خیبر پختونخوا احتساب کمیشن آخری سانسیں لینے لگا،خاتون کمشنر کا بے قاعدگیوں پر خط

پشاور(ارشد عزیز ملک) تحریک انصاف کا بے اختیار صوبائی احتساب کمیشن آخری سانسیں لینے لگا‘ 90روز میں احتساب کا نعرہ لگانے والے عمران خان کا احتساب کمیشن معطل ہو کر رہ گیا‘ کمشنر سیدہ ثروت جہاں احتساب کمیشن میں بے قاعدگیوں اور بے ضابطگیوں پر پھٹ پڑیں‘ قائمقام ڈائریکٹر بریگیڈئر(ر) سجاد کی غیر قانونی تعیناتی اور بھرتیوں میں گھپلوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے انہوں نےتحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کو خط لکھ دیا‘ انہوں نے احتساب کمیشن کو ’’وینٹی لیٹر‘‘ پر قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل ’’سرجری‘‘ کا مطالبہ کر دیا‘ احتساب کمیشن گہری کھائی میں جاگراہے جس کیلئے ادارے سے کالی بھیڑوں کو نکال کر درپردہ قوتوں کا راستہ روکنا ہوگا ’’جنگ‘‘ کے پاس موجود طویل خط میں کمشنر سیدہ ثروت جہاں نے کہا ہے کہ فروری 2016ء میں سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد خان کے مستعفی ہو نے کے بعد بریگیڈئر (ر) محمد سجاد کو قائمقام ڈائریکٹر جنرل تعینات کیاگیا تاہم مارچ 2017ء میں ان کا کنٹریکٹ ختم ہونے کے باوجود وہ تاحال اسی عہدے پر تعینات ہیں ‘ اس حوالے سے محکمہ قانون سے رائے بھی طلب کی گئی اور مئی 2017ء میں محکمہ قانون نے بریگیڈئر (ر) سجاد کی کنٹریکٹ ختم ہونے کے بعد بحیثیت قائمقام ڈائریکٹر جنرل تعیناتی برقرار رکھنے کو غیر قانونی قرار دیا تاہم احتساب کمشنرز کو محکمہ قانون کی رائے سے ہی بے خبر رکھاگیا ‘ثروت جہاں کے مطابق مارچ 2017ء سے اب تک احتساب کمیشن کی سر گرمیوں پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے کہ ان کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟نئے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کیلئے اختیار پشاور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کو دیا گیا جو احتساب ایکٹ کے آرٹیکل 175اے کی خلاف ورزی تھی تاہم پشاور ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا ‘فروری 2016ء سے احتساب کمیشن ڈائریکٹر جنرل کے بغیر چل رہا ہے اور اب قانون پیچیدگیوں کے باعث تعیناتی میں مزید تاخیر ہو رہی ہے ‘ بریگیڈئر (ر) طارق احتساب کمیشن میں ڈائریکٹر انٹرنل مانیٹرنگ اینڈ پبلک کمپلینٹس ونگ تعینات تھے انہوں نے اپنی رپورٹ میں ادارے میں بے ضابطگیوں اور غیر قانونی بھرتیوں کی نشاندہی کی تو انہیں بھی احتساب ایکٹ میں ترامیم کرکے عہدے سے ہٹا دیاگیا‘ مارچ 2017ء سے ڈائریکٹر آئی ایم اینڈ ڈی سی کی آسامی بھی خالی ہے ‘ احتساب ایکٹ میں ترامیم پہ ترامیم کی وجہ سے احتساب کمیشن میں بھرتیوں اور تعیناتیوں کا اختیار احتساب کمشنرز کے پاس ہے اور نہ ہی پشاور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کے پاس‘ادارے میں مکمل بلیک آئوٹ ہو چکا ہے‘احتساب کمشنرز اور پراسکیوٹر جنرل کی ملازمت اگست 2018ءمیں ختم ہو جائیگی اور احتساب کمیشن ترمیمی ایکٹ کے تحت اب ادارے میں صرف 2کمشنرز ہونگے اگر ایسا ہوا تو احتساب کمیشن کی افادیت ہی ختم ہو جائیگی ‘ خط میں واضح کیاگیا ہےکہ احتساب کمشنرز اس تمام تر صورتحال کی وجہ سے اکتا چکے ہیںاب انہیں کمیشن کے حوالے سے ہونے والے تمام فیصلوں اور قانون سازی سے بے لاعلم رکھا جا رہا ہے‘ سیدہ ثروت جہاں نے واضح کیا کہ اندرونی دبائو کے باوجو دوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اس خط کے ذریعے ادارے کے معاملات سے آگاہ کیا جا رہا ہے اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو ادارہ مکمل طور پر بے اثر ہو جائے گا ‘ثروت جہاں نے خط میں واضح کیا کہ صوبائی احتساب کمیشن کی صورتحال کے حوالے سے صوبائی اسمبلی کے فلور پر بعض ایم پی ایز نے آواز بھی اٹھائی تاہم احتساب کمیشن کو ایک شخص کی ایما پر چلایا جا رہا ہےکیونکہ احتساب کمیشن میں کلیدی عہدے پر تعینات ایک افسر ‘ ایک صوبائی وزیر کے رشتہ دار ہیں اور ادارے میں تمام فیصلے اور ترامیم بھی انہی کے کہنے پر ہو رہی ہیں ۔دریں اثناء جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے سیدہ ثروت جہان نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک ،چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کو خط لکھنے کی تصدیق کی اور کہا کہ اگست 2018ء میں پانچوں احتساب کمشنرز کی مدت ملازمت مکمل ہو رہی ہے جس کے بعد وہ ریٹائرڈ ہو جائیں گے اور قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے دوبارہ بھرتی کا کوئی آئینی طریقہ کار موجود نہیں ہے جس سے خیبر پختونخوا احتساب کمیشن عملاً ختم ہو کر رہ جائے گا۔

Facebook Comments