97

نویں اور دسویں جماعت کی کتابیں نایاب ، پرائیویٹ سکولوں کے طلبا وطالبات کی تعلیم بری طرح متاثر

چترال (  نمائندہ آوازچترال)صوبے کے دوسرے اضلاع کی طرح چترال کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں دسویں اور نویں جماعت کی کتابیں شارٹ ہونے کیو جہ سے طلبا و طالبات کی تعلیم بری طرح متاثرہوگئی ہے ۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے دسویں اور نویں جماعت کے مختلف کتابوں میں تبدیلی کی ہے۔ اورنئی کتابیں دستیاب نہیں ۔جس کی وجہ سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں۔ والدین نے صوبائی حکومت سے ان کتابوں کی جلد دستیابی کو ممکن بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں نئے سال کی کلاسیں شروع ہیں ۔ مگر کتابین دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کے ساتھ والدین بھی انتہائی پریشانی سے دوچار ہیں۔ یادرہے کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے آٹھویں جماعت تک مختلف پبلیشرز کی کتابیں پڑھاسکتے ہیں مگر نویں جماعت کے بعد پشاور بورڈ کے تحت امتحان دینے والے تمام تعلیمی ادارے پشاور ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابیں ہی پڑھاتے ہیں ۔ مگر پشاور بورڈ سے تاحال نئی کتابیں عام مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔دریں اثنا صوبائی حکومت کی طرف سے ہر سال کی طرح اس سال بھی درسی کتابوں کی ترسیل گورنمنٹ سکولوں کیلئے جاری ہے۔ ہائی سکول چترال میں ایک درجن سے زیادہ ٹرکوں میں بھری کتابیں پہنچ گئی ہیں ۔ جس کو عوامی حلقوں نے سراہا ۔ تاہم نویں جماعت کے چار ، دسویں کے ایک اور پرائمیری کلاسوں کے تقریبا 9کتابیں شارٹ ہیں۔ جس کی وجہ سے گورنمنٹ سکولوں کے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے ۔ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ کتابیں سرکاری طور پر طلباو طالبات کو ملنے کی وجہ سے مقامی بازار میں بھی دستیاب نہیں ہیں۔ جس کیو جہ سے والدین پریشانی سے دوچار ہیں

Facebook Comments