59

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں آپریشن کے بعد جس لاش کی تصاویر جاری کی گئی تھیں وہ اسامہ بن لادن کی لاش نہیں تھی، امریکی فوجی اہلکار نے بھانڈہ پھوڑ دیا، کیا اسامہ بن لادن زندہ ہیں؟ چونکا دینے والے انکشافات

واشنگٹن (آوازچترال نیوز ڈیسک) پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں آپریشن کے بعد جس لاش کی تصاویر جاری کی گئی تھیں وہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی لاش نہیں تھی، اس بات کا انکشاف امریکی نیوی سیل رابرٹ اونیل نے ایک اخبار کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کیا،انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ کی لاش کی جاری شدہ تصاویر جعلی ہیں۔ رابرٹ اونیل نے اپنے انٹرویو میں 11 مئی 2011ء کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں مارے گئے امریکہ کو مطلوب ترین شخص اسامہ بن لادن کی کھوج لگانے اور انہیں مارنے میں اپنے کردار سے متعلق آگاہ کیا۔ اپنے انٹرویو میں فوجی اہلکار نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ بن لادن کی لاش کی جو تصاویر جاری کی گئی تھیں وہ جعلی تھیں، انہوں نے کہا کہ دنیا کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے پینٹاگان کو اسامہ بن لادن کی اصل لاش کی تصاویر جاری کرنی چاہئیں۔ رابرٹ اونیل نے کہا کہ جب اس نے اسامہ بن لادن کو گولی ماری تو ان کا سر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا اور اس کے بعد ان کی لاش کی جو تصاویر جاری کی گئیں وہ اصلی نہیں تھیں۔ امریکی فوجی اہلکار نے کہا کہ یہ باتیں اپنی کتاب میں نہیں لکھ سکا اس لیے انٹرویو کے ذریعے بتا رہا ہوں۔ رابرٹ اونیل کا کہناہے کہ اسامہ بن لادن کو گولی مارنے کے بعد پینٹکس کیمرے سے 20 تصاویر لی گئیں جو واشنگٹن کو جاری کرنی چاہئیں۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ اسامہ بن لادن کو گولی مارتے وقت اسے ذرا بھر خوف محسوس نہیں ہوا اور وہ اس دوران بالکل پرسکون تھے اور وہ اس بات پر خوش تھے کہ وہ اس تاریخی لمحے کا حصہ بن رہے ہیں۔ پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں آپریشن کے بعد جس لاش کی تصاویر جاری کی گئی تھیں وہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی لاش نہیں تھی

Facebook Comments