63

سابق وزیر اعظم کو ہٹانے کے بعد لواری ٹنل انتظامیہ کی طرف سے چترال کے عوام کے ساتھ جاری نارواسلوک کا نوٹس لیا جائے۔ عوامی حلقے

چترال (  آوازچترال رپورٹ ) سابق وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی طر ف سے لواری ٹنل کوعام ٹریفک کیلئےکھولنے کے اعلان پر چترال کے عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی اور چند مہینوں تک چترال کے عوام چوبیس گھنٹے لواری ٹنل سے بے غیر کسی رکاوٹ کے سفر کرکے خود کو ستر سال کی قید سے آزادمحسوس کررہے تھے ۔ مگر سابق وزیر اعظم کو ہٹانے کے بعد ہی لواری ٹنل حکام کی طرف سے چترال کے عوام کو آذیت دینے کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا گیا ۔جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ جس کی چترال کے عوام شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار چترال کے مختلف مکاتب فکر نے   لواری ٹنل کو شام 7بجے سے صبح 9بجے تک بند رکھنے کے سلسلے میں اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ لواری ٹنل کو اگر برف باری کے موسم میں پھسلن کے خدشے کے پیش نظر رات کے اوقات میں بند کیا گیا تھا تو اب کس خدشے کے پیش نظر خواتین اور بچوں کو شام سے صبح نو بجے تک ہوٹل مالکان کی رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ لواری ٹنل کو رات کے وقت بند کرنے کا کوئی اور جواز نظر نہیں آتا صرف دیر میں ایک ہوٹل مالک کو فائدہ پہنچانے کیلئے پانچ لاکھ آبادی کو یرغمال بناناچترال کے عوام کے ساتھ انتہائی زیادتی اور ظلم ہے ۔انھوں نے ضلعی انتظامیہ کی بے بسی پر بھی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشاور کے مختلف چور آڈوں سے چترال کیلئے رات کے وقت جاری فلائنگ کوچ سروسز کو بند نہیں کراسکتی تو کم از کم این ایچ اے حکام سے رابطہ کرکے لواری ٹنل کو چوبیس گھنٹوں کیلئے کھلا رکھنے کیلئے انتظامات کرے۔انھوں نے منتخب نمائندگان کی خاموشی پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کے اعلان پر من و عن عمل کرانے کیلئے اپنے حصے کاکردار ادا کرنے اور لواری ٹنل چوبیس گھنٹے کھلا رکھنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ انھوں نے مذید کہا کہ لواری ٹنل کو بے غیر جواز کے بند رکھنے کا مقصد عوام میں مرکزی حکومت کیلئے نفرت پیدا کرنے کی سازش ہے ۔ لہذا مرکزی حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگی ۔

Facebook Comments