54

پاکستان کا وہ سیاستدان جس نے سیاست چمکانے کیلئے پاکستان کے خلاف ایسی بات کہہ دی کہ بھارت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جان کر ہر پاکستانی کا دل افسردہ ہو جائے گا

لاہور ( آوازچترال رپورٹ )چین پاکستان میں اقتصادی راہداری اور اس سے منسلک منصوبوں پر 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہاہے جس پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خطے کیلئے گیم چینجر ثابت ہو گا تاہم اس کی راہ میں روڑے اٹکانے کیلئے پاکستان کا دشمن بھارت کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اور جھوٹے پراپیگنڈے کے ساتھ ساتھ دہشتگردی اور تخریب کاری کے بھی ثبوت سامنے آ چکے ہیں جس کی سب سے بڑی مثال کلبھوشن یادیو بھی ہے تاہم کچھ دن پہلے قومی اسمبلی کے ممبر نواب یوسف تالپور کی جانب سے انتہائی حیران کن بیان سامنے آیا جس کی چینی حکومت نے تردید جاری کر دی ہے ۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کامران خان نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پیپلز پارٹی کے ممبر قومی اسمبلی” نواب یوسف تالپور“ نے یہ کہہ دیا کہ دراصل چینی جو سی پیک پر کام کرنے آئے ہیں انہیں چین نے اپنی جیلوں سے چھوڑاہے یہ چین کی قیدی ہیں جنہیں پاکستان میں سی پیک کے منصوبوں پر کام کروایا جارہاہے، چین نے اس بیان پر پر زور احتجاج کیاہے اور سختی کے ساتھ مستردکیا ہے ۔دو روز قبل چینی حکومت کے ترجمان نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب افواہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک رکن اسمبلی نے یہ کہا کہ سی پیک منصوبے پر قیدی کا م کر رہے ہیں ۔
چینی سفارتخانے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ چینی کمپنیاں صرف انجینئرز اور تربیت یافتہ افراد لاتی ہیں ، صرف سکھر تا ملتان موٹروے پر 22 ہزار پاکستانی کام کر رہے ہیں کیا وہ سب قیدی ہیں ،اس سے قبل بھی مختلف افواہیں آتی رہیں جس کی چینی حکومت وقت کے ساتھ ساتھ تردید کرتی رہی ہے ۔
اس سے قبل بھی یہ پراپیگنڈہ سامنے آیا کہ سی پیک کے تحت پنجاب میں زیادہ منصوبے لگائے جار ہے ہیں جس پر چین میدان میں آیا اور وضاحت کرتے ہوئے بیان جاری کیا کہ ”کیا یہ چین پنجاب اقتصادی راہداری ہے ؟ سی پیک کے تحت بلوچستان کے 16 ، سندھ کے 13 ،پنجاب کے 12 اور کے پی کے کے 8 منصوبے ہیں “۔

Facebook Comments