60

سال 2014 کو ایف ڈبلیو او نے میرکنی ارندو روڈ کی تعمیر کا کام فنڈز کی نایابی کے سبب ادھورا چھوڑ دیا اس روڈ پر کام کرنے والے مقامی پیٹی ٹھیکہ داروں کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ۔ روڈ کی زد میں آنے والی زمینات کا معاوضہ نہ ملنے سے وہ پریشانی میں مبتلا ہیں ۔ عبدالامین

چترال(نمائندہ آوازچترال) چترال کے علاقہ ارندو کے عمائیدین وی سی ناظم قاری عبدالامین،قاری محمد یوسف،حاجی رحمت اعظم اور ٹھیکہ دار شاہ محمد نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان بونڈری کے قریب بسنے والے عوام ارندو انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں سال 2014 کو ایف ڈبلیو او نے میرکنی ارندو روڈ کی تعمیر کا کام فنڈز کی نایابی کے سبب ادھورا چھوڑ دیا اس روڈ پر کام کرنے والے مقامی پیٹی ٹھیکہ داروں کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی ۔ایک طرف سڑک نا مکمل ہونے کی وجہ سے ہروقت گردو غبار چھایا رہتا ہے تو دوسری طرف عوام کو روڈ کی زد میں آنے والی زمینات کا معاوضہ نہ ملنے سے وہ پریشانی میں مبتلا ہیں ۔آر ایچ سی میں ڈاکٹر کئی مہینوں سے موجود نہیں اور بیماریوں کا ہر وقت حملہ ہوتا رہتا ہے بار بار درخواستیں دے کر تنگ آگئے ہیں ۔صوبائی حکومت نے نوجوانوں کیلئے فٹ بال گراؤنڈ کا وعدہ کیا تھا جو تاحال ایفا نہ ہوسکا ۔سرحد پار سے طالبان فائیرنگ سے چند افراد پچھلے دنوں زخمی ہوئے تھے مگر انھی تک ان کو کوئی معاوضہ نہیں ملا ۔انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پر زور مطالبہ کیا کہ ارندو کی ہزاروں آبادی کو مشکلات سے نکالنے کیلئے ہنگامی طور پر اقدامات اٹھائے جائیں ۔اور ڈاکٹر کی فور ی تعیناتی کے لئے احکامات دئیے جائیں اور ارندو روڈ کی تعمیر کا کام فوری طور پر مکمل کیا جائے ۔

Facebook Comments