91

چترال میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا گیا

چترال (نمائندہ آواز چترال ) ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح بدھ21فروری کو چترال میں بھی مادری زبانوں کا عالمی دن منا یا گیا۔اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ اسمبلی ہال (ٹاؤن ہال) چترال میں انجمن ترقی کھوار ‘حلقہ چترال’،کھوار اہل قلم اور مادرٹانگ انیشیوٹیوز فار ایجوکیشن اینڈریسرچ(مئیر)کے مشترکہ انتظام اور تعاون سے ایک تقریب کا انعقاد گیا گیاجس میں چترال کی مختلف زبانوں کے نمائندے،ادباء ،شعراءاور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت ناظم ویلج کونسل اور صدر الخدمت فاؤنڈیشن چترال نوید احمد بیگ جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈسٹرکٹ سیٹلمنٹ آفیسر سید مظہر علی شاہ تشریف فرماتھے۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا اس کے بعد گجری زبان کی نمائندگی کرتے ہوئے عمران خان نے اپنے مقالہ میں کہا کہ کسی بھی قوم کی پہچان اسکی زبان ہوتی ہے اور اس کو ترقی دینے میں ادباء اور شعراء کا بڑا کردار ہے ۔انہوں نے  گجری زبان کا تعارف کرتے ہوئےکہا کہ یہ زبان چیچنیا، افغانستان، روس اور پاکستان میں بولی جاتی ہےتاہم انہوں نے زبان کی ترقی اور نشونما میں حکومت کی عدم دلچسپی کا بھی ذکر کیا۔
اس موقع پر کلاشہ زبان(کالاش وار)کی نمائندگی کرتے ہوئے  مقالہ نگار عمران کبیر نے Image may contain: 4 people, people sitting and indoor کہا کہ کالاشہ زبان کو ایک قدیم زبان ہے اور کالاشہ  قوم پری وید قوم ہے۔ انہوں  نے مزید بتایا کہ اس زبان کے کچھ ڈایلیکٹس گلگت اور کشمیر سے بھی آئے ہیں۔ زبان کی اہمیت و افادیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا  کہ زبان کا  مقصد کمیونیکیشن کے ساتھ ساتھ انسانوں کو منظم بھی کرنا ہوتا ہے۔ اس موقع پر ظفراللہ پرواز نے اپنے خطاب میںمام تنظیموں کی مشترکہ کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ان تنظیموں کی جانب سے مادری زبانوں کے فروغ کی طرف سے پہلی مشترکہ اور مخلصانہ کوشش ہے۔ آپ نے اس دور میں کھوار زبان کی اہمیت کا ذکر کیا اور ساتھ ہی ساتھ ان تنظیموں سے گلہ بھی کیا کہ وہ ادباء اور شعراء کی حوصلہ افزائی نہیں کرتی ہیں۔گواربتی زبان کی نمائندگی کرتے ہوئے عبداللہ  نے اپنے مقالے میں کہا کہ گواربتی زبان کو فروغ دینےاور ترقی میں شعراء اور ادباء کا بڑا ہاتھ Image may contain: 4 people, including Allauddin Khanہے۔انہوں نے گواربتی کی ترقی میں مختلف تنظیموں کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ زبان اب دستاویزی شکل میں ترقی کی منزل طے کررہی ہے۔یدغہ زبان کی نمائندہ کی حیثیت سے حمیدالدین نے اپنے مقالہ میں کہا کہ یہ زبان افغانستان اور ایران سے لوٹ کوہ میں آئی ہے اور صدیوں سے اس زبان کے بولنے والے اس کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔Image may contain: 4 people, people on stage and people sitting
زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے اپنے خطاب میں عبدالولی خان ایڈوکیٹ نے کہاکہ کھوار زبان کی خاصیت ایک منفرد ہے اور ہم اپنی زبان سے محبت اور الفت کرکے ہی اس زبان کو ترقی دے سکتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ جس زبان میں دوسری زبان کو قبول کرنے کا مادہ موجود ہو وہ زبان بہت جلد ترقی کر سکتی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے کہا کہ وہ قوم خوش قسمت قوم ہے جن کے ہاں زیادہ زبانیں ہوں۔انہوں نے عالمی سطح پر مادری زبانوں کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوسری جگہوں پر مادری زبانوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے لیکن ہمارے ملک میں  مادری زبانوں کو حکومتی سرپرستی بھی حاصل نہیں۔ ڈاکٹر فیضی نے مزید کہا کہ دو سال پہلے ایک قرارداد میں 22 زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا تھالیکن اب تک عوامی نمائندوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے سرد خانے میں پڑاہے۔تقریب کےمہمان خصوصی سید مظہر علی شاہ  نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چترال اپنی الگ شناخت کی وجہ سے پورے پاکستان میں اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ہمیں اپنی ثقافت اور زبان پر فخر ہے اورہمیں اپنی زبان  کی حفاظت اور ترقی کے لیے مل جل کر کام کرنا Image may contain: 2 people, people sitting and indoorچاہئے۔صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے نوید احمد بیگ نے کہا کہ چترال اپنی ایک شناخت اور زبان کی وجہ سے نہ صرف ملک بلکہ پوری دنیا میں مشہور ہے۔انہوں نے مختلف اعداد و شمار بھی پیش کئے اور کہا کہ دنیا میں تقریبا پانچ ہزار نو سو پندرہ زبانیں بولی جاتی ہیں اور کئی زبانین معدومیت کے خطرے سے دوچار Image may contain: 2 people, people smiling, people sittingہیں۔صدرمجلس نے کھوار زبان کی حفاظت اور دوسری زبانوں کی یلغارسے اسے بچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر ایک قرارداد کے زریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر زبانوں کی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور چترال میں بولی جانے والی زبانوں کی ترویج ترقی میں اپنا کردار ادا کرے ۔ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ نجی تعلیمی اداروں میں کھوار تدریس کا حصہ بنایا جائے اور پی ٹی وی میں کھوار کو مناسب وقت دینے کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان چترال میں طاقت ور ٹرانسمیٹر نصب کرکے اسے پورے چترال اور غذر میں سننے کے قابل بنایا جائے۔اس موقع چترال میں بولی جانے والی مختلف زبانوں کے فنکاروں نے اپنی اپنی زبانوں میں لوک موسیقی پیش  کرکے حاضرین کو محظوظ کیا۔Image may contain: 2 people, people sitting

Facebook Comments