34

ڈپٹی کمشنر چترال کی طرف سے انتہائی نا زیبا سلوک کے بعد جنگلات کے تحفظ ، مال مویشیوں کی جنگلات میں چرائی ، بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے تحت پودوں کی نگہداشت و تحفظ اور لاکھوں فٹ عمارتی لکڑی جو جنگل میں پڑے ہوئے ہیں ، کی حفاظت سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہیں سیف اللہ کالاش

چترال ( نمایندہ آوازچترال ) جائنٹ فارسٹ منیجمنٹ کمیٹی رمبور کے ممبران و عہدہ داران نے ضلعی انتظامیہ چترال کی طرف سے دباؤ ڈالنے ، ایک نامعلوم فہرست پر جبراً دستخط لینے اور دھمکیاں دینے کی پُر زور مذمت کرتے ہوئے جنگل رمبور کے تحفظ ، بلین ٹریز سونامی پراجیکٹ کی کامیابی اور رمبور کے جنگلات میں کٹائی شدہ لاکھوں فٹ عمارتی لکڑی کے تحفظ کی ذمہ داری خود ڈپٹی کمشنر چترال پر ڈال دی ہے ۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیف اللہ کالاش ، شیر زادہ کالاش ، عنایت اللہ ، عبید اللہ ، رحمت نواز ، میر خان اور عبد الروف وغیرہ نے کہا ۔ کہ ڈپٹی کمشنر چترال کے حکم پر جے ایف ایم سی رمبور کے ممبران کو اسسٹنٹ کمشنر چترال نے اپنے دفتر میں طلب کیا ۔ اور ایک فہرست پر دستخط کرنے کیلئے اُنہیں مجبور کیا گیا ۔ لیکن جب انہوں نے اس نا معلوم فہرست پر دستخط کرنے سے انکار کیا ۔ تو اُن کو دھمکیاں دیتے ہوئے اُن کی تصاویر لی گئیں ۔ اور انتہائی نامناسب رویہ روا رکھا گیا ۔ جس کی وہ بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اس تضحیک اور ناروا سلوک کے بعد وہ ڈی ایف او چترال کے علم میں یہ بات لانا چاہتے ہیں ۔ کہ انہوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر محکمہ جنگلات سے تعاون کرکے جنگلات کی حفاظت کی ۔ ڈپٹی کمشنر چترال کی طرف سے انتہائی نا زیبا سلوک کے بعد جنگلات کے تحفظ ، مال مویشیوں کی جنگلات میں چرائی ، بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے تحت پودوں کی نگہداشت و تحفظ اور لاکھوں فٹ عمارتی لکڑی جو جنگل میں پڑے ہوئے ہیں ، کی حفاظت سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہیں ۔ آیندہ جنگل کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچے تو ڈپٹی کمشنر چترال اُس کے ذمہ دار ہوں گے ۔ اور رمبور جے ایف ایم سی کے ممبران اور کمیونٹی کو اُس سے کوئی سروکار نہیں ہو گا ۔

Facebook Comments