51

لیڈیز شاپنگ سنٹر کی ہر گزاجازت نہیں دی جائیگی۔ جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کی مشترکہ اجلاس میں فیصلہ

چترال(آوازچترال  رپورٹ )مورخہ 19فروری کو جمعیت علماء اسلام ضلع چترال کے امیر قاری عبدالرحمن قریشی اور جماعت اسلامی ضلع چترال کے امیر مولانا جمشید احمد کی سربراہی میں اہم ضلعی رہنماؤں کا ایک مشترکہ اور غیر معمولی اجلاس شاہی بازارجامع مسجد چترال میں منعقد ہوا۔جسمیں چترال شہر میں لیڈیز شاپنگ سنٹر کے مسئلے پر تفصیلی غور وخوص ہوا۔اور درج ذیل متفقہ قرارداد کی منظور ی دی گئی۔۱۔ہردور کی طرح آج بھی چترال کا سب سے اہم مسئلہ امن کا قیام ہے ۔ملکی اور علاقائی حساس جغرافیائی حالات کے تناظر میں امن کو یقینی بنانے کی آشد ضرورت ہے۔لہذا ضلعی انتظامیہ ہرصورت اور ہر قیمت میں امن کو یقینی بنائیے ۔اور ہر اُس صورت سے اجتناب کریں جس سے امن کا عمل متاثر ہو۔۲۔ضلع چترال کے تہذیبی روایات ہیں ہم سول سوسایٹی کے لوگ دینی اقدار کے ساتھ اس تہذیبی ورثے کے امین اور وکیل ہیں۔ہم ہر صورت اس کی حفاظت کو یقینی بنانا اپنا اخلاق شرعی،تہذیبی اورقانونی فریضہ سمجھتے ہیں۔۳۔خواتین مارکیٹ چترال کے سلسلے میں ڈسٹرکٹ کونسل چترال کے کسی تجویز کا حوالہ دیا جاتا ہے حالانکہ وہ تجویز اُسی دن اُسی وقت مسترد ہوگئی تھی۔لہذا اس کا حوالہ دینا بد دیانتی ہے۔

۔ضلع چترال میں بننے والی /آنے والی خواتین کی ضرورت کو بنیاد بناکر کسی نئے ماڈل شاپنگ سنٹر کی قطعاً اجازت نہیں دی جاسکتی۔۵۔لہذا ضلعی انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ گورنمٹ ضلع چترال کے امن کو یقینی بناتے ہوئے کسی بھی نان ایشو کو ایشو بنانے والے عناصر پر کڑی نگاہ رکھے اور ان کے پس پردہ مفادات کو پیش نظر رکھ کر راست اقدام اُٹھائے۔مذکورہ قرارداد کے مندرجات پر عملدارآمد نہ ہونے کی صورت میں ہم ہر لحاظ سے ہر سطح پر مزاحمتی تحریک شروع کرینگے۔

Facebook Comments