84

صدا بصحرا …ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ …اور یہ اہل کلیسا کا نظامِ تعلیم

خبر آئی ہے کہ حکومت نے نظام تعلیم میں دور رس اصلاحات کے لئے ایک اور کمیٹی بٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ اس سلسلے کی دو سو پچاسویں کمیٹی ہوگی۔ پہلے سے بنی ہوئی دو سو اننچاس کمیٹیوں کی طرح اس کا نتیجہ بھی صفر ہوگا۔ خبر کی تفصیلات میں بتا یا گیا ہے کہ سکول اور مدرسہ میں قُربت لائی جائیگی۔ مدرسہ کی اصلاح کر کے اس کو ’’ مشرف بہ دنیا‘‘ کیا جائے گا۔ سکول میں اصلاحات متعارف کروا کر اس کو ’’ مشرف بہ دین ‘‘ کیا جائے گا۔ گویا وہی صورت حال ہوگی جس کی طرف شاعر نے اشارہ کیا ہے ’’ ہاتھ سے امت بیچاری کا دین بھی گیا دُنیا بھی گئی‘‘۔ یادش بخیر ! سابق صوبائی وزیر قادر نواز خان مرحوم باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے۔ انہوں نے نوشہرہ میں تعلیم حاصل کی، مردان اور کابل میں نوکری کی۔ تحریک آزادی اور تحریک پاکستان میں شیر بہادر خان اور پیر آف مانکی شریف کی قیادت میں بھرپور حصہ لیا۔ ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ ڈالا۔ مرحوم کہا کرتے تھے مدرسہ قیام پاکستان سے پہلے سکول کا نام تھا، مدرسے کا تعلق مسجد، مولوی اور دارالعلوم سے نہیں تھا۔ علاقے کے علماء سکول کو کفر قرار دیتے تھے۔ سکول جانے والوں کو دوزخی اور کافر سمجھتے تھے۔ اس زمانے میں ایک قطعہ مشہور ہو ا تھا
سبق دَ مدرسے وائی
دپارہ دَ پیسے وائی
جنت کی بہ زائے نہ وی
دوزخ کی بہ گسے وہی
جو مدرسے کا سبق پڑھتا ہے ، نوکری اور تنخواہ کے لئے پڑھتا ہے ۔ جنت میں اس کی کوئی جگہ نہیں ۔ دوزخ میں ٹھوکریں کھاتا پھرے گا۔75سال بعد زمانہ کتنا بدل گیا؟دارالعلوم کا نام مدرسہ ہوگیا۔ اور مدرسہ والوں کو جنّت کی بشارت مل گئی۔ سمندرخان سمندر یا عبد الستار عارف خٹک سے اس پر قطعہ کہنے کی فرمائش کی جاتی تو دوسرا قطعہ بھی عنایت ہوتا۔ مگر دونوں ہم میں نہیں رہے۔ مسئلہ بہت سنجیدہ ہے۔ ایک یونیورسٹی میں سیمینار تھا۔ موضوع تھا ’’ پاکستانی قومیت اور ثقافت کا مسئلہ‘‘ پہلا سوال یہ تھا کہ ہم اس کو مسئلہ کیوں سمجھتے ہیں؟ کیاحقیقت میں یہ مسئلہ ہے؟ جواب یہ آیا کہ حقیقت میں اس کو مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔ اور اس کو کسی اور نے مسئلہ نہیں بنایا۔ استاد ، سکول ، مدرسہ ، دارالعلوم ، کالج اور یونیورسٹی نے مسئلہ بنادیا۔ اس مسئلے کی طرف برطانیہ کی ولنٹیر سروسز اور اورسیز (VSO) کے لئے تیار کی گئی رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ رپورٹ مارچ 1986 ء کی ہے۔ اسے رچرڈ ایلی سن ( Richard Allison) نے مرتب کیا ہے۔ رپورٹ میں صراحت کے ساتھ لکھا گیا ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نظام اس قوم کی پراگندگی اور پسماندگی میں اضافہ کر رہا ہے۔ لکھنے والے نے لکھا ہے کہ یہاں 8 قسم کے نظامِ ہائے تعلیم ایک دوسرے کے مقابلے میں کام کررہے ہیں ۔ سرکاری سکول ، کالج اور یونیورسٹی کے مقابلے میں دارالعلوم اور مدرسہ ہیں۔ دونوں کا رُخ الگ الگ ہے۔ او لیول کے مقابلے میں گاؤں کی سطح پر دو کمروں اور تین کمروں والے چھوٹے پبلک سکول ہیں ۔ دونوں الگ الگ سمتوں میں رواں دواں ہیں۔ایچی سن کے مقابلے میں درمیانہ سطح کے پبلک سکول ، کالج اور نجی ادارے ہیں۔دونوں الگ الگ سمتوں کے مسافر ہیں۔کیڈٹ کالجوں اور کانونٹ سکولوں کے مقابلے میں این جی اوز سکول ، کالج اور ان کی یونیورسٹیاں ہیں۔ یہاں بھی دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ایک کا رخ شمال کی طرف ہے دوسرے کی سمت جنوب میں ہے۔ برطانوی ادارے کی رپورٹ میں دینی مدارس کو ایک متحدہ یونٹ قرار دیا گیا ہے۔ حقیقت میں دینی مدارس بھی پانچ الگ الگ سمتوں میں رواں دواں ہیں۔ دیوبندی کا وفاق المدارس ہے۔ بریلوی کا تنظیم المدارس ہے۔ اہل حدیث اور اہل تشیع کے الگ ہیں۔ جماعت اسلامی کا رابطتہ المدارس ہے ۔ پانچ بورڈ ہیں۔ پانچوں کی آپس میں دشمنی ہے۔ ادیانِ باطلہ کے نصاب میں ہر مکتبہ فکر نے باقی چار کو باطل قرار دیا ہے۔ اس طرح 12سمتوں پر تعلیمی سفر ہورہا ہے۔ علامہ اقبال ؒ نے کہا
گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صدا لا الٰہ الا اللہ
کہا جارہا ہے کہ حکومت نے نظام تعلیم کی اصلاح کے لئے دو سو پچاسویں کمیٹی قائم کررہی ہے۔ اب یہ کمیٹی قائم ہوگی تو کیا کرے گی۔ایک درجن متصادم اور متحارب گروہوں کو ایک جگہ اکٹھا کر کے جاپان ، چین ، برطانیہ ، ترکی اور ایران کی طرح یکسان نظام تعلیم مرتب کرنا جتنا اہم اور ضروری ہے اتنا مشکل بھی ہے ۔ اس کے لئے فیلڈ مارشل ایوب خان اور جنرل مشرف کی طرح لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ اگر لیڈر شپ میسر آئے تو یکساں نظام تعلیم رائج کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد اُمید پیدا ہوگی کہ 20سال بعد ڈگری لیکر باہر آنے والے پاکستانی ایک قوم، ایک مذہب اور ایک ملک کے ساتھ محبت کرنے والے ہونگے ورنہ یہی انتشار ہمارا مقدر رہے گا۔ مفکر پاکستان نے تحقیق کے بعد سوچ سمجھ کر یہ بات کہی
اور یہ اہل کلیسا کا نظام تعلیم
فقط اک سازش ہے دین و مروت کے خلاف

Facebook Comments