82

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاوٴنٹس سے پیسہ واپس لانے کیلئے کمیٹی بنادی

سلام آباد(ویب ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاوٴنٹس سے پیسہ واپس لانے کیلئے کمیٹی بنادی۔سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاوٴنٹس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔ سیکرٹری فنانس اور گورنر اسٹیٹ بینک عدالت میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے بیرون ملک اکاوٴنٹس اور املاک بنا رکھی ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک بتائیں کہ سوئٹزرلینڈ میں موجود اکاوٴنٹس سے پیسہ کیسے واپس پاکستان آسکتا ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ اتنا سارا پیسہ بیرون ملک چلا گیا، ممکن نہیں کہ ساری رقم کالے دھن کی ہو، کچھ ایسے بھی ہوں گے جو قانونی طریقے سے رقم لے گئے ہوں، تاہم اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو غیر قانونی طریقے سے رقم لے کر گئے ہیں، کہاجاتا ہے یہ پیسہ واپس آجائے تو ہمارے سارے قرضے اتر جائیں۔گورنر  سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے بتایا کہ بیرون ملک اکاوٴنٹس کے حوالے سے معاہدے ہو رہے ہیں اور سوئٹزرلینڈ سے بھی دو طرفہ معاہدہ ہو گیا ہے، پیسہ واپس لانے کے لیے ہم اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔جسٹس اعجازالاحسن نے حکم دیا کہ جرمنی و سوئٹرز لینڈ سے ہزاروں لوگوں کے اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات لیں، بھارت نے بھی سوئٹرز لینڈ سے سینکڑوں لوگوں کی معلومات لی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملائیشیا میں بھی لوگ سرمایہ کاری کررہے ہیں، کیا متحدہ عرب امارات میں بھی پاکستانی اپنی جائیداد خرید سکتے ہیں؟۔چیف جسٹس نے گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ کی سربراہی میں چیئرمین ایف بی آر اور سیکرٹری خزانہ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے حکم دیا کہ مل جل کر طریقہ کار بنائیں، کمیٹی ایک ہفتے میں گائیڈ لائن دے کہ بیرون ملک سے رقم کیسے واپس لانی ہے، کمیٹی حکومت کے کسی بھی ادارے سے معلومات لینے کی مجاز ہوگی، مقصد یہ ہے کہ غیرقانونی طریقے سے بھیجی رقم واپس لائی جائے، پیسہ واپس لانے والوں کو رعایت دینے کے معاملے پر غور کریں گے۔

Facebook Comments