69

لواری ٹاپ پر ایک ہفتہ پہلے برف کے تودے میں دب کر لاپتہ ہونے والے دونوں نعشیں نکال لی گئیں

چترال ( نمائندہ آوازچترال ) لواری ٹاپ پر ایک ہفتہ پہلے برف کے تودے میں دب کر لاپتہ ہونے والے دونوں نعشیں نکال لی گئیں ۔ اور مقامی لوگوں کی طرف سے تلاش اور ریسکیو اپریشن کا کام اختتام پزیر ہوا ۔ منگل کے روز نورالدین کی نعش نکالنے میں کامیابہ ہوئی تھی ۔ جس سے یہ امید پیدا ہوگئی تھی ۔ کہ اُن کے بیٹے عبیداللہ کی نعش بھی قریب ہی کہیں ملے گی ۔ اس لئے بدھ کے روز بھی گجر برادری اور عشریت سے تعلق رکھنے والے تقریبا ڈیڑھ سو افراد نے تلاش میں حصہ لیا ۔ اور عین شام کے قریب جب ریسکیو کا کام اگلے دن تک ملتوی کیا جا رہاتھا ۔ کہ لاش کے آثار نمایاں ہوئے ۔ جس پر ریسکیو میں مزید تیزی لائی گئی ۔ اور بالاخر اُسے بازیاب کیا گیا ۔ Image may contain: outdoor and natureبدھ کے روز چترال کمیونٹی ڈویلپمنٹ نیٹ ورک ( سی سی ڈی این )کے چیرمین سرتاج احمد خان نے لاشوں کی تلاش کرنے والے افراد کیلئے سامان اور خوراک لے کر ریسکیو میں حصہ لیا ۔ جبکہ اُن کی حاضری میں ہی لاش کی بر آمدگی کے بعد ریسکیو کا کام مکمل ہوا ۔ بر آمد شدہ نعش کو چترال سکاؤٹس ایمبولینس میں دروش ٹی ایچ کیو ہسپتال پہنچا کر پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد آبائی گاؤں روانہ کر دیا گیا ۔ اس موقع پر چیر مین سی سی ڈی این سرتاج احمد خان ، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل چترال شیر محمد اور گجر برادری کے رہنما حاجی انظر گل نے مطالبہ کیا ۔ کہ یہ جان بحق ہونے والے باپ بیٹے اپنے گھر کے کمانے والے تھے ۔ اس لئے حکومت متاثرہ خاندان کی صحیح معنوں میں مالی امداد کرے ۔ تاکہ خاندان کے مالی مشکلات کا ازالہ ہو سکے ۔ حاجی انظر گل نے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے عدم تعاون اور ریسکیو 1122کی طرف سے کئے جانے والے کام پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔ اور کہا ۔ کہ گجر برادری کو اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں کو نکالنے میں کامیابی ہوئی ۔ جبکہ ریسکیو 1122کے چند جوان تو موقع پر موجود رہے ۔Image may contain: 5 people, people standing, beard and outdoor لیکن اُن کے پاس کوئی سامان موجود نہیں تھا ۔ کہ لاشوں کی تلاش میں مدد مل سکے ۔ انہوں نے پی ٹی سی ایل حکام کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا ۔ کہ پوسٹ ماٹم کے بعد پی ٹی سی ایل کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا ۔ جنہوں نے انتہائی ناموافق موسم میں باپ بیٹے کو لواری ٹاپ جانے پر مجبور کیا ۔ جس کے نتیجے میں باپ بیٹے کی موت واقع ہوئی ۔ اور مستہزاد یہ کہ ایک ہفتے کے تالاش کے دوران پی ٹی سی ایل کا کوئی بھی ذمہ دار اہلکار اُن کے پاس نہیں آیا ۔ اور نہ ہی صدمے اور تعزیت کا اظہار کیا ۔ واضح رہے ۔ کہ ایک ہفتہ پہلے نگر دروش کے رہائشی باپ بیٹا اور داماد لواری ٹاپ پر پی ٹی سی ایل ٹاور کی ڈیوٹی پر جارہے تھے ۔ کہ اُن پر برف کا تودہ گرا ۔ جس سے باپ نورالدین اور بیٹا عبیداللہ تودے میں دب کر لا پتہ ہو گئے ۔ جبکہ تیسرا شخص شفیق معجزنہ طور پر بچ گیا ۔ جس نے حادثے کی اطلاع پولیس اور گاؤں کے لوگوں کو دی ۔ جس کے بعد مقامی لوگوں ، ریسکیو 1122، چترال پولیس ، چترال لیویز وغیرہ نے حصہ لیا ۔ اور سات دن بعد عبیداللہ کی نعش بر آمد ہونے کے بعد اپریشن مکمل ہوا ۔Image may contain: 1 person, snow, outdoor and nature

Facebook Comments