61

گولین گول پراجیکٹ سے متعلق ایم پی اے سلیم خان کے بیان کا۔۔ مسلم لیگ ن سب ڈویژن چترال کے صدر محمد کوثر ایڈوکیٹ کی طرف سے جواب۔۔۔

"ایم پی اے سلیم خان کا گولین گول پراجیکٹ میں حصہ داری سورج کو چراغ دیکھانے کے مترادف ہے۔موصوف کبھی لواری ٹنل کا کریڈٹ بھٹو مرحوم سے منسوب کرکے خود کو ایسے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتاہے کہ گویا اس ٹنل پر پہلا کدال سلیم خان نے اپنے دست مبارک سے مارا ہو۔۔۔محترم سلیم صاحب بھٹو مرحوم کی خدمات کو ہم سلام پیش کرتے ہیں مگر بھٹو مرحوم کو گذرے چالیس سال کا عرصہ گذرا ہے آپ 89 سے 90 پھر 93 سے 96 تک پی پی کی حکومت اس کے بعد 2008 سے اب تک آپ وزیر اور موجودہ ایم پی اے ان عرصوں میں آپ نے لواری ٹنل کے لیے کیا کیا؟ ھم مانتے ہیں کہ بھٹو اپنے کارناموں کی وجہ سے زندہ ہے مگر آپ اور پی۔پی بھٹو کے بعد کی اپنی کارکردگیان دیکھا دین۔لواری ٹنل کب کے بن چکا ہوتا اس وقت آپ وزیر اور وفاق میں آپ کی پارٹی سارے پیسے ملتان میں لگا بیٹھے آج کس منہ سے لواری کا کریڈٹ اپنے نام کرنے کے خواہشمند ہیں،؟ اگر ایسے سابقہ کاموں کی تختی دیکھا کر ووٹ مانگنا ہے تو سلیم صاحب اور ان کے حواریوں کو چاھئے کہ مسلم لیگ کو ووٹ دین میرے قاید کے لیے آپ کا قایدعوام اور اب تک آپ کے سارے لیڈرز احتراما کھڑے ہوتے ہیں یعنی قایداعظم محمد علی جناح جس نے پاکستان بنایا۔اگر مردوں کی سیاست کرنا ضروری ہے تو سلیم صاحب کو چاہیے مسلم لیگ کی حمایت کریں۔سلیم صاحب ہم بھٹو اور جنرل مشرف کے چترال کے لیے خدمات کو مانتے ہیں مگر یہ بتادیں کہ اگر میرا قاید بھرپور فنڈنگ کرکے یہ منصوبے تیار نہ کرتے تو کیا یہ سب کچھ ممکن تھا ؟ گولیں گول کے پراجیکٹ میں بھی آپ کا اور آپ کے پارٹی کا یہی حال ہے کہ آپ لوگوں نے ایک آنہ کام نہیں کیا مگر جب مسلم لیگ ن اور قاید میاں نوازشریف نے اس کو عملی جامہ پہنایا تو آپ مورخ اور محسن بن کے عوام کے آنکھوں میں دھول جونکھنے کی کوشش کررہے ہو۔ اگر واقعی ایسا کچھ تھا تو 2014 میں پاور کمیٹی آل پارٹیز جلسے میں آپ کو مدعو کیا گیا تو آپ بھاگ گیے۔ازین بعد بجلی کے بحران میں آپ ایک فیصد بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا بلکہ الٹا روڑے اٹکانے کی کوششیشیں کیں۔اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہو تو یہ بھی بتادین کہ چترال کو چترال ہی میں گرڈ بنا کے تیس میگاواٹ بجلی دینے کا اعلان بھی کیا بھٹو شہید گڑھی خدابخش کے عالی شان قبرستان کے عالم ارواح میں بیٹھ کر کیا تھا؟۔۔۔سلیم صاحب چترال کے عوام اب حقیقت کو پا چکے ہیں۔اب چترال بدل رہا ہے۔نسلی منافرت مذھبی تصادم لسانی تعصب علاقائی تقسیم اور جھوٹ اور پروپیگنڈے کی سیاست اختتام پذیر ہے۔مظبوط موقف اور مظبوط کام کرکے دیکھانا چاہیے۔خدا را اس قوم کے مستقبل سے کھیل کھیلنے سے باز آجائیں۔چترال کے عوام آج سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اور مسلم لیگ ن کی کارکردگی کو عملا ملاحظہ کررہے ہیں۔ لہذا بےتکی کریڈٹ لے کر شرمندہ ہونے کے بجائے دوسروں کے اچھے کاموں کو تسلیم کرنا دل گردے کا کام اور معاشرے میں صحتمندانہ روش پیدا کرنے کے بنیادی ذرائع ہیں۔

Facebook Comments