63

تحریر ..محمدکوثر ایڈوکیٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جواب آں غزل

جنرل پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ چترال کے وزیر اطلاعات برادرم  جی-کے صریرصاحب نے ” شکایتیں ” کے عنوان سے جس طرح جنرل مشرف صاحب کا گن گایا ہے یقینا سریر صاحب کی ادبی ذوق کی عکاسی کرتاہے۔الفاظ کو جس خوبصورتی سے ادا کیا ہے پڑھ کر مزا آگیا۔
میرا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے اور میں پرانے اور دیرینہ کارکن اور ایک وژن کا پیروکار ہوں۔میں مشرف صاحب کے بیہیمانہ پالیسیوں اور طرزحکمرانی کو کبھی بھی مثالی نہیں سمجھا مگر چترال کی حد تک مشرف صاحب کی خدمات لایق تحسیں ہیں۔مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کوں کیا ہے کیا نہیں مگر میں صرف نوازشریف کا سپاہی ہوں اقدار کی اور شرافت کی سیاست کو ترجیح دیتا ہوں۔اس لیے سریر صاحب کے گذارشات پر پس منظر بیان کرکےکچھ عرض کرنا چاہونگا۔
. یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی میں مختلف حکومتوں نے اپنے تئیں چترال کی خدمت کیے ہیں مگر بھٹو کے بعد جنرل مشرف واحد شخصیت ہیں کہ جس نے چترالیوں کا دل ایسا جیتا کہ چترال کے عوام 2013 میں اس محاورے کو غلط ثابت کیا کہ مصیبت کے وقت اپنے ساتھ چھوڑ دیتےہیں۔ مشرف صاحب کی ملک میں ناکامی صاف ظاہر تھا مگر چترال کے عوام اپنے محسن کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑے ہوگئے۔ میں چنکہ مسلم لیگ ن کی طرف سے امیدوارتھا مگر عوام کی اکثریت پرویز مشرف کو ہر صورت ووٹ دینا چاہتے تھے اور بھاری مینڈیٹ سے ان کو کامیاب کرایا۔البتہ صوبائی سیٹ میں مشرف کا ایک نشست میری وجہ سے بدترین طور متاثر ہوا ورنہ لویر چترال بھی جنرل مشرف کا تھا۔
. جی-کے صریر صاحب میں آپ کے لیڈر کا کٹر مخالف ہونے کے باوجود آپ کے لیڈر جنرل مشرف کے چترال کے لیے ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔یہ الگ بات ہے کہ جنرل مشرف کے نام پر ووٹ لینے والے اب مشرف صاحب کے سایے سے بھی ڈرتے ہیں۔الیکشن کے وقت ” پرویزو قسمت جنت غیریتائی مہ چھترار "کے گیت پر ناچتے ہویے میرے قاید کے بارے نازیبا الفاظ اور غلط غلط پروپیگنڈے بھی آپ کے ” شاہینوں ” نے شروع کیے اور آج "کارکیو پھوستو انجی ” میرے قاید کے پیچھے بھی آپ ہی کے "شاہینوں” کی "جھرمٹ” ہے۔
اب آتا ہوں برسر مطلب یعنی جنرل مشرف صاحب نے صرف دو کام چترال میں ایسے کیے جو چترال کے لیے اشد ضروری تھے یعنی لواری ٹنل اور بجلی۔ ہردو منصوبوں کا آغاز جنرل صاحب نے کیا۔بلکل ہم اں کے شکرگذار ہیں مگر آپ کو شاید علم ہوگا کہ لواری میں کام کا آغاز چالیس سال پہلے بھٹو نے کیا تھا جبکہ پچھلی بار جنرل مشرف صاحب نے دوبارہ کام کا آغاز کیا تو سارا چترال مشرف کا ہوگیا۔مگرمشرف صاحب کے بعد پی۔پی۔پی یعنی بانی ٹنل کی حکومت میں ایک صوبائی وزیر بھی ہونے کے باوجود ٹنل پر کام رک گیا۔2013 کے الیکشن میں میں تو ہار گیا مگر میرے قاید میان نوازشریف 23 ارب روپے ہنگامی بنیادوں پر ریلیز کرکے افتتاح بھی کر لیا یوں لواری ٹنل پرسب سے زیادہ80% رقم میاں نوازشریف نے رکھا لہذا اب یہ کریڈٹ مسلم لیگ ن اور میاں نوازشریف ہی کو جاتا ہے۔
جہان تک گولیں گول ہایڈرل کا تعلق ہے یہ بھی جنرل فضل حق کے دور کا ہے مگر یہ بھی حق ہے کہ مشرف صاحب کے دور میں کالونی تعمیر کرکے کام کا آغاز کردیا گیا تھا ۔ مگر ” غریبوں” کی پارٹی اس منصوبے کو بھی کھڈے لاین لگایا مگر میاں صاحب اس کو بھی ازخود نوٹس لیکر بھرپور فنڈنگ کراکے ہمارے لیے علحیدہ گرڈ اسٹیشن بنا کے 30 میگاواٹ ہمیں دیا جس کے بارے 2012 سے پہلے کسی کے تصور میں بھی نہ تھا۔۔۔لہذا یہ کریڈٹ بھی میرے قاید کے نام ہوا۔
میاں صاحب کے چترال کےلیے دیگرکارنامے آپ بھی تسلیم کرتے ہیں مگر آج جس کسمپرسی کے عالم میں میں اے۔پی۔ایم۔ایل کو دیکھ رہا ہوں تو مجھے قدرت کے انتقام پر حیرت ہوتی ہے۔2008 سے پہلے ہم ایسے ہی تھے بلکہ آپ کے پارٹی سے بدرجہا بہتر تھے مگر آل پاکستان اتنا یتیم ہوچکا ہے کہ کسی ایک فورم میں بھی جنرل مشرف کے حق میں آواز ندارد۔
بہ خدا آپ کے "موسمی شاہیںنوں ” کی جگہ کوئی اور سچا وفادار ” سایورج” ہوتا تو شاید اسمبلی میں دھوم مچا چکا ہوتا۔مگر۔۔۔۔
آخر میں ایک خوشخبری۔۔۔۔آپ کے لیے مگر دو دں بعد۔

Facebook Comments