98

محنت میں عظمت ہے………..تحریر : اقبال حیات آف برغذی

تجارتی سامان کا ایک بھاری بوجھ پیٹھ پر اٹھائے ایک ضعیف العمر شخص میرے گاؤں کی طرف چڑھائی چڑھتے ہو ئے سامنے آیا ۔ سلام دعا کے بعد انکی سکونت کے بارے میں پوچھنے پر انھوں نے کہا کہ (زا باجوڑ ئم) میں باجوڑ کا ہوں ۔ عمر کے بارے پوچھنے پر پھولے ہوئے سانس کو آہ بھرنے کی صورت میں با ہر نکالتے ہو ئے کہا کہ تقریباََ 75سال ہے ۔ فوری طور پر سر کار دو عالم ﷺ کے ایک صحا بی کے محنتی کھردرے ہاتھوں کو اپنے مبارک ہونٹوں سے بو سہ دینے کا واقعہ میری ذہن میں آکر میں نے اس عمر رسیدہ شخص کے عظمت کا احترام کر تے ہو ئے ان کی داڑھی کو بو سہ دیتے ہوئے معذرت خواہی کے ساتھ اپنی راہ لی ۔اس تناظر میں اگر سر زمین چترال کے با سیوں کا جائیزہ لیا جائے تو ہماری مٹی میں محنت کے عنصر کی بہت کمی پائی جا تی ہے گھر کے اندر ایک شخص کمانے والا ہو تا ہے تو باقی سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں اور حرکت کر نے سے احترار کر تے ہیں ۔ ساٹھ سال کی عمر کے بعد تو دنیاوی امور کا تصور ہی ذہن سے نکل جا تا ہے ۔ بد قسمتی سے ہم من حیث القوم ایسی ہر قسم کی محنت سے گریزاں رہتے ہیں جو ہماری نظر میں عزت نفس کے ذمرے میں آتے ہیں ۔ ساماں تجارت پیٹھ پر اٹھائے گاؤں گاؤں پھیرنے ، سڑکوں کے آرپار بیٹھے تجارت کے عمل سے روزی کمانے اور ریڑیوں پر اشیائے ضرورت فروخت کر نے کو
اے طائر لاھوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو، پرواز میں کوتاہی
کے مصداق سمجھتے ہیں ۔ حصول علم سے فراعت کے بعد سر کاری ملازمت کے لئے آس لگائے بیٹھے رہتے ہیں اوراس کے علاوہ کسی اور ذریعہ آمدن کو اپنانے سے عار محسوس کر تے ہیں اور خود ساختہ بیروزگاری کو قسمت کے کھاتے میں ڈالتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ رب العزت نے انسان کی قسمت سے متعلق واضح نقشہ پیش کر تے ہیں کہ انسان کووہ ہی کچھ ملے گا جسکی وہ جستجو کر ے گا ۔ یہ الہامی کلمات انسان کو زندگی کے اسلوب سکھاتے ہیں اور اس میں انسان کی مکلف ہو نے کی طرف اشارہ ہے ۔ عقل و خرد اوربصیرت کے اوصاف سے نوازنے کے بعد ازندگی کے سفر میں اپنے لئے راہ متعین کر نے کا اختیار دیا گیا ہے اوراس اختیار کے تحت اسے منزل تک رسائی کے لئے خود کاوش کر نے کا پابند کیا گیا ہے ۔ عقل و خرد کی رہنمائی میں اعضاء کی حرکات سے ہی مقاصد کے حصول کا امکان پیدا ہو سکتا ہے ۔ چاھے ان مقاصد کا تعلق دنیا سے ہو یا آخرت سے کیونکہ
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت سے نہ نوری ہے نہ ناری
چونکہ ہم اسلام کے آغوش رحمت میں پناہ گزین ہیں اس لئے دینی اعتبار سے سے بھی ہمیں اپنے مقام کی تلاش کی تاکید ملتی ہے ۔

خدانے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال ا پنی حالت آپ بدلنے کا

یہی وہ حقائق ہیں جنکی بنیاد پر ہر انسان کی زندگی کو محنت سے مشروط کیا گیا ہے ۔ حضرت ادرس علیہ السلام بھیس بدل کر اپنے بارے میں لوگوں کی آرا معلوم کر نے کے لئے با ہر آتے ہیں ۔ ہر کسی کی زبان سے ان کے بارے میں توصیعی کلمات نکلتے ہیں ۔ جنرائیل امین ؑ انسانی لبادے میں سامنے آتے ہیں اور ادریس علیہ السلام کے سوال کے جواب میں بیت المال سے کھانے کے عمل کے بغیر مجموعی طور پر انکی تعریف کر تے ہیں ۔ ادریس ؑ فوری طور پر اپنے لئے ہاتھ کی کمائی کے ذرائع کیلئے اللہ رب العزت سے خواستگار ہو تے ہیں اور یوں انہیں روزی کمانے کے لئے زرہ بنانے کے فن سے نوازا جا تا ہے ۔

یہ ہی ہو حقائق ہیں جنکی بنیاد ہر یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ انسان اپنے لئے نہ صرف مقام کا تعین خود کر سکتا ہے۔ بلکہ اس مقام تک رسائی بھی اللہ رب العزت کی طرف سے ودیعت کر دہ ذرائع سے ممکن سے ممکن بنا سکتا ہے ۔ یہی ذرائع اگر کام میں لائے جائیں تو انسان کو اسکی تصور کی دنیا تک رسائی کے قابل بنا سکتے ہیں اور اگر ان ذرائع کو کام میں لا نے سے گریز کیا جائے اور مقدر کی لکیر پر سر رکھ کرسہارے کی امیدوں کے خواب دیکھے جائیں گے تو گمنامی اور نا کامی کی دنیا کے اندھیروں میں بھٹکنا پڑے گا ۔ کیونکہ
تقدریر کے قاضی کا یہ فتوی ہے ازل سے
ہے جرم صعیفی کی سزا مر گ مفاجات

Facebook Comments