141

صدا بصحرا …. دیوانِ بَپ لل …. ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی ؔ

محمد اقبال خان عرف بپ لل کا فارسی دیوان 1911 میں کلکتہ سے شائع ہوا دیوانِ محمد اقبال کا کوئی نسخہ پاکستان کی کسی لائبر یر ی میں دستیاب نہیں البتہ بپ لل کے پڑپونے میر عجم خان تیموری نے مطبوعہ دیوان کے چند اوراق کو ڈھونڈ نکالا ہے اس پر ’’ ناقص لاول ‘‘ نا قص لآخر‘‘ کی اصطلاح صادق آتی ہے سرورق پر تسمیہ کے بعد دیوانِ محمد اقبال کا ٹکڑا نظر آتا ہے کا تب کا نام عبداللہ میر ٹھی لکھا ہے صفہ 3 سے لیکر 29 تک کتاب کے صرف 27 صفحے دستیاب ہیں حمد و نعت اور منقبت کے علاوہ غزلیات بھی ہیں ردیف الف سے ’’ ھ‘‘ تک شاعر کا کلام اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑے پا یے کے عالم اور شاعر تھے فصاحت اور بلاغت کے اصولوں پر ان کو عبور حاصل تھا علم بد یع اور عروض کے ماہر تھے عربی اور فارسی کے فاضل تھے محمد اقبال عرف بپ لل خیبر پختونخوا کی سابق ریاست چترال کے شاہی خاندان رضا خیل کے چشم و چراغ تھے جن کا جدا مجد قزل بیگ گذرا ہے جنہوں نے صلح کے ذریعے تاج و تخت اپنے بھائی کو دیکر جاگیر یں اپنے نام کر والئے تھے محمد اقبال کے پڑ دادا کا نام ما مالل اور دادا کا نام سلطنت لل تھا اُن کا باپ محمد اکبر خان گلگت کی سرحد پر واقع پر گنہ چپاڑی کا حاکم تھا یہ علاقہ مشہور درہ چو مارکھا ن کے راستے غذ ر سے جا ملتا ہے حاکم اس پر گنے کا انتظا می سر براہ ہوا کر تا تھا محمد اقبال خان حاکم محمد اکبر خان کا منجھلا بیٹا اور حاکم فرمان اکبر خان کا بھا ئی تھا اس خاندان میں دو شعرا ء گذرے ہیں محمد اقبال خان عرف بپ لل اور حاکم رحمت اکبر خان رحمت ،اول الذل فارسی کے اور مو خرالذ کر ما دری زبان کھوار کے شاعر تھے ان کا کلام یاد گار رحمت کے نام سے شائع ہو چکا ہے بپ لل کی تاریخ پید ائش اور تاریخ وفات محفوظ نہیں وہ ریاستی حکمران شاہ فاضل اور امان الملک کا مصاحب تھا نظام املک ، امیر الملک اور شجا ع الملک کے ادوار میں خانہ نشینی کی زندگی گذاری تاہم گورنر مستوج شہزادہ نا صر الملک کے ساتھ ان کی دوستی تھی قرائن سے معلوم ہو تا ہے کہ ان کا زمانہ 1850 ؁ء سے 1930 ؁ء تک کا دور تھا دیوان کی اشاعت کے وقت 1911 ؁ء میں وہ حیات تھے دیوانِ محمد اقبال خان کے جو اوراق دستیاب ہیں ان میں خیا لات کی بلند ی ، فکر کی پختگی کے ساتھ زبان و بیان پر عبور کے واضح ثبوت ملتے ہیں حمد شریف کے اشعار ردیف’’ الف‘‘ میں ہیں ؂
برا ئے رہزنی در راہ حق دیوان واژدرہا
زبسم اللہ سازم بہر قتل غول خنجر ہا
نعت شریف کے بعد اصحاب کبار اور چہار یارؓ کی شان میں منقبت کے اشعار ہیں اور شاعر نے اپنا تخلص ’’ بپ لل ‘‘ رکھا ہے ردیف ’’ دال میں ایک مقطع ہے ؂
اگر جو یا ئے اسراری تو بپ لل
بشو این جملگی طو مار کا غذ
اس طرح ردیف ’’ عین‘‘ میں ایک مقطع اس طرح آیا ہے
سو خت بپ لل خو یش را پر وانہ وار
بر دلبر خوش روئے جانا نم چو شمع
بعض مقامات پر پورا نام تخلص کیساتھ لا یا گیا ہے مثلاً غزل کا ایک مقطع یوں بھی ہے
محمد اقبال خان بپ لل نا اُمید است از جہاں
می کند دردرگہ پاک خدا ئے خو یش عرض
ایک غزل کا مقطع ایسا بھی ہے جس میں صر ف نام آیا ہے ؂
در بیاض محمد اقبال خان نگر
خط غلط ،املا غلط، انشا غلط
پیرانِ پیر حضرے غوث الا اعظم دستگیر ؒ کی شان میں منقبت کے اشعار اس طرح ہیں
شاہ جیلان پیر کا مل آنکہ بود
قد وہ اولادِ سلطانِ نجف
وقت وعظ آں شہ رو حا نیاں
قد سیاں ایستاد ہ ہر سو صف بہ صف
محمد اقبال خان بپ لل سلوک و عر فان کے بحر ذخار کی موجوں سے بھی واقف تھے انہو ں نے علوم متداولہ کے حصول کے بعد تز کیہ نفس کی منزلوں میں بھی جادہ پیما ئی کی تھی بعض اشعار میں سلوک و عر فان کے واضح اشا رے ملتے ہیں ؂
حالتے دارم ز احو الم مپر س
گفتہ ام بشنو ز افعالم مپرس
ہمچو شاہین می پر م اندر ہوا
جرا تم بین از پر و بالم مپر س
برسر دارم چو منصور شہید
اے کہ دید ی حال از قالم مپر س
نعت شریف کے اشعار میں بھی عشق ومستی اور وار فتگی کا رنگ نمایاں ہے مولانا روم،حافظ و سعدی اور عمر خیا م کا انداز بیاں ملتا ہے ؂
می طلبم ساقی کو ثر قدح
می طلبم شافع محشر قدح
نہ طبق و شش جہت و چہار برج
آ ں ہمہ خور دند سر اسر قدح
شمس زمستی نشد ے پا ئیکو ب
گر نشد ے نوش منور قدح
نیز بہ بز مت شہ جیلانِ من
یا فت ز دستِ تو معتبر قد ح
شام و سحر یادِ تو بپ لل کند
بہر خدا ساقی کو ثر قدح
خاندانِ حا کما نِ چپاڑی کے چشم و چراغ میر عجم خان تیموری نے اس کا مختصر تعارف بھی لکھا جس میں محمد اعظم خان رضا خیل کے خاندان میں گذر ے ہوئے ممتاز اور نما یا ں بزرگوں کا ذکر ہے دیوان کے ایک حصے کا ترجمہ ماہر تعلیم اور ہائی سکول بونی کے پر نسپل صاحب الرحمن نے کیا ہے ترجمے کے اندر ادبی چاشنی موجود ہے اور اچھے تراجم میں گننے کے قابل ہے کوئی پبلشریا قدر دان ملے تو دیوان کو اردو ترجمے کے ساتھ دو بارہ شائع کیا جاسکتا ہے
Facebook Comments