88

قتل ہوتے رہتے ہیں ،ادھر ادھر نہیں پھر سکتا،خیبر پختونخوامیں پیش آنیوالے واقعات پر پرویز خٹک کا اپنی عوام کو صاف جواب

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مردان میں عاصمہ زیادتی کیس اور کوہاٹ میں طالبہ عاصمہ کے قتل اور ملزم کے بیرون ملک فرار ہونے کے بعد خیبر پختونخوا حکومت پر بہت سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ کے پی کے پولیس میں ایسے واقعات سے نمٹنے کی اہلیت نہیں ،نجی ٹی وی دنیا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ یہ بلائنڈ کیسز ہوتے رہتے ہیں ،کچھ شہادتیں آجاتی ہیں کچھ نہیں آتیں ،تو یہ کوئی انوکھی بات تو آپ نہیں کر رہے ،آپ لوگوں نے تو ہوا بنا دیا ہے جیسے ملک آج خراب ہو رہاہے ،یہ نارمل ہے،قتل بھی ہوتے ہیں ،کیسز بھی ہوتے ہیں ۔پولیس اپنا کام کرتی ہے ،بات یہ ہے کہ پہلے آپ لوگ سوئے ہوئے تھے ،ایسے کیسز ہمیشہ ہوتے رہے ہیں ،ہوتے رہیں گے ،دو چار کیسز آپ نے پکڑ لئے ،ادھر تو ہزاروں کیسز کورٹس میں چلتے ہیں تو کوئی بھاگ جاتا ہے ،کیسز تو چلتے رہتے ہیں ۔جو بلائنڈ مرڈرز ہوتے ہیں وہ امریکہ میں بھی گرفتار نہیں ہوتے ،ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں ،جب موقع ملتا ہے ،سارے لوگ وہاں کے خوش ہیں ،سارے کہہ رہے ہیں کہ پولیس ہمیں سپورٹ کررہی ہے ،دن رات کام کر رہی ہے ۔عوام وہاں ٹھیک بات کر رہے ہیں آپ یہاں پر الٹاالزام لگا رہے ہیں ،کوئی پرابلم نہیں ہے کوئی کسی کی گارنٹی نہیں دے سکتا، آپ کیا بات کر رہے ہیں،امریکہ میں بھی کوئی گارنٹی نہیں ہے ،یہ ہوتے رہتے ہیں،ہم اس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں،تفتیش کی کارکردگی خراب نہیں ہے ۔آپ وہاں کے لوگوں سے پوچھیں ،صورتحال آپ کی نظر میں خراب ہوگی لیکن پبلک رسپانس بہت اچھا ہے ،بلائنڈ مرڈرزہوتے ہیں وہ اپنا لگے ہوئے ہیں ،کہیں کوتاہی ہے تو بتا دیں کہ کہاں کوتاہی ہے ،یہاں دن میں دس کیسزہوتے ہیں ،میں سارا دن ادھر پھرونگا۔

Facebook Comments