77

ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین نے ساڑھے چار سالوں میں چترال کے بڑے بڑے مسائل حل کئے۔چیئرمین محمد علی شاہ

 چترال(نمائندہ  آوازچترال )سابقہ چیئرمین یونین کونسل محمد علی شاہ اورعزیز الملک نے ایک مشترکہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے اپنی قابلیت اور صلاحیت سے خاموش تحریک سے گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں چترال کے بڑے بڑے مسائل حل کئے جس پر پوری قوم ان پر فخر کرتی ہے۔ 2013 ؁ء میں جنرل مشرف کے ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد نواز شریف حکومت سے فائدہ اُٹھانے اور چترال جیسے پسماندہ علاقے کے مسائل حل کرنا کسی معجزے سے کم نہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ لواری ٹنل میں کام مکمل طور پر بند ہو چکی تھی۔ سالانہ پچاس کروڑ کے فنڈز کو نواز شریف نے سالانہ چھ ارب کر کے منظور کروا کر دن رات ایک کر کے اس اہم پراجیکٹ کو مکمل کروائے بلکہ میاں نواز شریف خود انکا افتتاح فرمایا۔چکدرہ چترا ل روڈ، چترال بونی شندور روڈ تورکہو تریچ، لوٹ اویر روڈ کیلاش ویلی روڈ گرم چشمہ روڈ دیگر مختلف گاوں کے گیارہ مزید روڈ کی منظوری اربوں کے فنڈز مرکزی حکومت سے PSDPمیں شامل کروایا ۔ چترال کے لئے گیس پلانٹ ،کمیونکیشن چترال بھر میں متعارف کروانا۔ FMریڈیو کی منظوری تین دفعہ وزیر اعظم پاکستان کو چترال لے کر آنا اور زلزلہ کے متاثرین کے ساتھ تقریباََ تین ارب روپے کا مالی امداد کروانا۔ گولین گول ہائیڈرو پروجیکٹ سے 35میگا واٹ بجلی چترال کے لئے مختص کروا کر چترال بھر میں بجلی کے لائینوں ٹرانسفر میر وغیرہ کے لئے چار ارب اسی کروڑ روپے کے فنڈز منظور کروانا۔ سب ڈویژن مستوج/چترال/دروش کے لئے بڑے بڑے ٹرانسفر مروں کی منظوری اور ان علاقوں تک فوری بجلی پہنچانے کا بندوبست کرنا۔ یہ سب ان کی دیانتداری صاف گوئی اللہ پر بھروسہ اور سب سے بڑی بات یہ کہ کسی پر احسان نہ کرنا اوراپنا فرض منصبی سمجھنا جلسہ جلوس اور دوسرے لوگوں کی طرف کسی اور کے کام کو اپنے کھاتے میں شامل کرنے کی کوشش نہ کرناہے۔اُنہوں نے کہا کہ چترال کے عوام نہایت سمجھدار اور تعلیم یافتہ ہیں اور اپنی قابل فخر بیٹے شہزادہ افتخار الدین کے کاموں کی نہ صرف تعریف کرتے ہیں۔ بلکہ ہر ایک کے زبان میں یہ الفاظ ہیں کہ ائیندہ پچاس سالوں تک کے لئے عوام ان کے کاموں سے فائدہ اُٹھائینگے۔ اور بجلی /روڈ، گیس وغیرہ کے لئے نعرے لگانے والوں کے منہ پر شہزادہ افتخار الدین نے تالا لگا دئیے ہیں۔ ہم انہیں شاباش دیتے ہیں۔ اور توقع رکھتے ہیں کہ چترال کی ترقی کے لئے مزید اپنی صلاحیتوں کو اُجاگر کریں۔اُنہوں نے کہا کہ مندرجہ بالا تمام پراجیکٹ جو کہ عوام کے بنیادی حقوق تھے مرکزی حکومت نے عوام کو یہ حقوق دئیے ۔ صوبائی حکومت گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں ضلع چترال جیسے پسماندہ علاقے کی طرف توجہ نہیں دی اور عوا م کے حقوق دینے میں ناکام رہے KPK کے ساڑھے چار سالوں کے 95%بجٹ نوشہرہ اور صوابی میں خرچ کیے ہیں انکو صادق امین نہیں کہہ سکتے ہمارے حقوق میاں نوازشریف نے ادا کئےاُنہوں نے کہا کہ ہم ا نا اہلی کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں میاں نواز شریف کو آمین صادق تسلیم کرتے ہیں۔اور میاں محمد نواز شریف کے خلاف جو سازش کی گئی انکی مذمت کرتے ہیں چترال کے عوام اپنے محسن میاں نواز شریف کی عمردرازی اور کامیابی کے لئے اللہ کے حضور دعا گو رہینگے
Facebook Comments