86

’بددیانت قرار دیے گئے شخص کی نااہلیت تاحیات

سلام آباد(ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے کہاہے کہ بددیانت قرار دیے گئے شخص کی نااہلیت تاحیات ہے تاہم 5 سال یا ایک سال جلد تعین کرلیں گے۔عدالت عظمیٰ نے ملتان کنٹونمنٹ بورڈ کے نائب صدرکی نااہلی کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ آئین کی شق 62(1) (f)کے تحت بددیانت قرار دیے گئے شخص کی نااہلیت تاحیات ہے، 5 سال یا ایک سال جلد تعین کرلیں گے جب کہ اس ضمن میں عدالت کا فیصلہ آئندہ کے لیے قانون ہوگا۔ گزشتہ روز چیف جسٹس میاں ثاقب نثارکی سربراہی میں فل بینچ نے نااہلیت کے فیصلے کے خلاف کنٹونمنٹ بورڈ ملتان کے نائب صدر ہمایوں اکبرکی اپیل مسترد کرتے ہوئے قرار دیاہے کہ پاناما لیکس کیس کے فیصلے میں طے ہوچکا ہے کہ اثاثہ چھپانا بددیانتی ہے، یہ طے کرنا باقی ہے کہ آرٹیکل62 ون ایف کے تحت نااہلیت تاحیات، 5 سال یا ایک سال کیلیے ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ نااہلیت کی مدت کے تعین کیلیے 5 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا جاچکا ہے جو30 جنوری کو سماعت کرے گا، اس ضمن میں عدالت کا فیصلہ آئندہ کیلیے قانون ہوگا۔ چیف جسٹس نے سابق وزیراعظم نوازشریف اور جہانگیر ترین کی نااہلی کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا اورکہاکہ اثاثہ ظاہر نہ کرنے پر وہ بددیانت قرار پائے،درخواست گزار نے بھی بینک اکاؤنٹ میں موجود 37 لاکھ روپے ظاہر نہیں کیے، رقم چھپانے کو اثاثہ چھپانا ہی کہا جائے گا۔

Facebook Comments