100

انصار عباسی ……..حکمران اور ممبران پارلیمنٹ کیا یہ بوجھ اٹھا سکتے ہیں

حکمرانوں اور ممبران پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیاں چاہے اُن کا کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق ہو کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش پھر آن پڑی ہے۔ قصور سے تعلق رکھنے والی زینب اور سات دوسری معصوم بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد انہیں قتل کرنے والا درندہ آخر کار پنجاب حکومت نے گرفتار کر لیا۔ گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا کہنا تھا اُن کا بس چلے تو اس شخص کو سرعام چوک میں پھانسی دی جائے۔ انہوں نے کچھ قانونی رکاوٹوں کا ذکر کیا اور یہ بات بھی کی کہ اس مقصد کے لیے قانون میں ترمیم کرنی پڑی تو وہ بھی کرنی چاہیے تاکہ اس قاتل کو صحیح معنوں میں نشان عبرت بنایا جا سکے۔ دو روز قبل سینیٹ کی پارلیمانی کمیٹی برائے داخلہ نے بھی موجودہ قانون میں ترمیم تجویز کی تاکہ ایسے گھنائونے جرائم کے مجرموں کو سر عام پھانسی دی جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ کیا کرتے ہیں!!! پہلے تو افسوس کا مقام یہ ہے کہ ایک ایسا ملک جو اسلام کے نام پر قائم ہوا، جس کا آئین اسلامی ہے، جس میں بسنے والی بہت بڑی اکثریت مسلمانوں کی ہے وہاں اسلامی قوانین اور اسلام کے عدل و انصاف کا نظام آج تک نافذ نہیں ہوا۔ اسلام سنگین جرائم کی صورت میں مجرموں کو جرم ثابت ہونے پر سر عام سزائیں دینے کا حکم دیتا ہے اور قصاص کو معاشرہ کے لیے زندگی سے تعبیر کرتا ہے۔ ایک زانی اور قاتل اور وہ بھی ایسا جس نے معصوم بچیوں( ایک نہیں، دو نہیں بلکہ آٹھ) کو پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اُن کی جان بھی لے لی ویسے ہی اتنا قابل نفرت بن چکا ہے کہ اُسے تو سرعام سزا دینے کا مطالبہ ویسے ہی زور پکڑ رہا ہے۔ لیکن حکومت اور پارلیمنٹ کو ایسے مجرموں کو سر عام سزا دینے کا مقصد اسلام کے قانون کی پابندی ہونا چاہیے کیونکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق شرعی حدود اور سزائوں کا نفاذ معاشرہ میںامن کے قیام کے ساتھ ساتھ رحمت الہٰی کا سبب بنتا ہے۔ یہاں حکمرانوں اور قانون ساز پارلیمنٹیرینز کے لیے سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا وہ اللہ کے قانون کے نفاذ میں رکاوٹ بنتے رہیں گے جیسا کہ ہم نے گزشتہ سات دہایوں کے دوران دیکھا کیو نکہ دنیاوی طور پر اسلامی قوانین اور حدود کے نفاذ کی ذمہ داری پارلیمنٹ اور حکمرانوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اگر اس ملک میں اسلامی قوانین پر عملدرآمد اور شرعی حدود کا نفاذ نہیں ہو رہا تو یہ ا س صورتحال پر ممبران سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کو فکر مند ہونا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ کیا آخرت میں وہ یہ بوجھ برداشت کر سکتے ہیں کہقرآن و حدیث کے حکم کے مطابق شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے اختیار رکھنے کے باوجود انہوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ وہ راستے میں رکاوٹ بنے رہے؟ کیا ہماری پارلیمنٹ اور حکومت کو اس بات پر غور نہیں کرنا چاہیے کہ اُنہوں نے اس ملک کے نظام کو چلانے کے لیے اسلامی قوانین اور اصولوں کی بجائے انگریز کے قانون اور اُن کی روایات کو کیوں ابھی تک برقرار رکھا ؟؟ اس ملک کا ایک عام شہری ہونے کی حیثیت سے میں یہ سوچتا ہوں بحیثیت مسلمان ہمارے لیے اس سے بڑا المیہ کیا ہو سکتا ہے کہ یہاں اللہ کے قانون کے نفاذ کے لیے ہمیں پارلیمنٹ اور حکومت کی طرف دیکھنا پڑرہا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس کے بارے میں ہر پاکستانی کو سوچنا چاہیے اور اپنی خود احتسابی بھی کرنی چاہیے کہ آیا ہم اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے اختیار کے مطابق اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں یا نہیں؟؟ قصور سانحہ کے تناظر میں ہمارے پاس سنہری موقع ہے کہ آٹھ معصوم بچیوں کے قاتل کا مقدمہ جلد از جلد چلا کر اُسے اسلامی اصولوں کے مطابق سر عام قصور شہر کے ہی کسی اہم چوراہے پر پھانسی دی جائے اور اُسے دو تین روز تک وہیں لٹکتا رہنے دیا جائے۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کو فوری طور پر اسلامی سزائووں کے نفاذ کے راستہ میں تمام قانونی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنا چاہیے تا کہ اُس گناہ کی تلافی ہو سکے جو ہم سے بحیثیت قوم گزشتہ ستر سالوں سے سرزد ہو رہا ہے۔

Facebook Comments