79

داد بیداد ………… سرد جنگ کی طرف واپسی………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

 امریکی وزیر دفاع کا بیان میڈیا میں نئی بحث کا باعث بن گیا ہے جیمز میٹس نے اپنے تازہ بیا ن میں کہا ہے کہ امریکا کے دفاعی بجٹ میں حالیہ اضافہ اسلئے ضروری تھا کہ اب ہماری پہلی ترجیح دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ روس اور چین کا راستہ روکنا ہے اپنے بیان میں امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی جاری رکھیں گے تاہم زیادہ وسائل اور وقت روس اور چین کا راستہ روکنے پر لگائیں گے یاد رہے کہ امریکی بجٹ میں دفاع کیلئے پچھلے سال کے 624عرب ڈالر کے مقابلے میں اس سال878ارب ڈالر مختص کئے گئے ہیں امریکی وزیر دفاع کے بیان کو حالات حاضرہ کے تناظرمیں بے حد اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ گذشتہ سال کے آخری سہ ماہی میں امریکہ نے اقوام متحدہ کو اپنے حصے کا فنڈ دینے سے انکار کیا تھا اس کے ساتھ ہی امریکہ نے اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی رکنیت بھی واضح لے لی یہ ادارہ دنیا میں انسانی فلاح و بہبود کے لئے کام کرتا ہے نئے سال کی آمد پر امریکی وزارت دفاع نے افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا اعلان کیا ہے نیز امریکی صدارتی محل وائٹ ہاوس سے بھی پاکستان کو دھمکی آمیز پیغام میں33ارب ڈالر امداد کا طعنہ دیا گیا اس امداد کا نام کولیشن سپورٹ فنڈ تھا اور یہ پاکستان کو نہیں ملا بلکہ افغانستان میں امریکی فوج کی رسد ،حمل و نقل وغیرہ پر خرچ ہوا پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا 70ہزار بے گناہ شہری اور فوجی امریکہ کی اس جنگ میں مارے گئے پاکستانی فوج کا جتنا نقصان امریکی جنگ میں ہوا اتنا نقصان بھارت کا خلاف 4بڑی جنگوں میں بھی نہیں ہوا تھا 1990میں سویت یونین کے ٹوٹنے اور افغان جنگ میں امریکہ کی فتح سے پہلے امریکہ اور سویت یونین کی درمیان ہتھیاروں کی دور دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافے کا جو مقابلہ تھا اس کو سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم یاسوشلزم کے درمیان سرد جنگ یا کولڈ وار کانام دیا جاتاتھا۔ سویت یونین ٹوٹ گیا امریکہ نے ویت نام میں اپنی شکست کا بدلہ افغانستان میں لے لیا برلن کی دیوار گرا دی گئی مشرقی یورپ میں سرمایہ درانہ نظام لایا گیا مگر دنیا میں امن کی طرف پیش رفت نہ ہوسکی سویت یونین کے زوال کے بعدتجزیہ نگاروں نے لکھا کہ سویت یونین مرا نہیں ہے سانپ کینچلی بدلنے (Hibernation)کے لئے روپوش ہو گیا ہے امریکہ اب ہتھیاروں کی دوڑ کے لئے نیا دشمن پیدا کر یگا امن قائم ہونے نہیں دے گا کیونکہ امریکی معیشت کا دارومدار اور انحصار بدامنی ٗدہشت گردی اور جنگ پر رکھی جا چکی ہے امن کا قیام امریکہ کے لیئے قابل قبول ہر گز نہیں ہو گا چنانچہ اسی سال امریکہ نے مسلمانوں کے خلاف عراق میں جنگ کا اعلان کیا سعودی عرب ٗ کویت ٗمتحدہ عرب امارات ٗبحرین وغیرہ میں بھی فوجی اڈے قائم کئے 10سال بعد افغانستان میں چوتھی عالمی جنگ شروع کی گئی امریکہ کی سربراہی میں29ممالک کی فوجوں نے اس جنگ میں حصہ لیا جسے سابق امریکی جاسوس جارج فریڈ مین اور دیگر دانشوروں نے اپنی کتابوں میں چوتھی عالمی جنگ کا نام دیا تھا یہ جنگ مسلمانوں کے خلاف لڑی جارہی ہے سہولت اور پروپیگنڈے کے لئے اسے دہشت گردی کا نام دیا گیا ہے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کے تازہ ترین بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ روس اور چین کے خلاف امریکہ کی نئی جنگ شروع ہو چکی ہے یہ سرد جنگ کی واپسی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ روس کینچلی بدل کر باہر آگیا ہے ایران ٗ یمن اور شام پر امریکی قبضے کی راہ میں دیوار بن کر کھڑا ہوگیا چین نے امریکہ کو معاشی ٗصنعتی اور تجارتی میدانوں میں شکست دی ہے اب خلائی تحقیق کے میدان میں چین کے سٹیلائٹ امریکی سٹیلائٹ کا راستہ روک رہے ہیں ایشاء اور بحرالکاہل کے وسیع براعظم میں امریکہ کا قدم ڈگمگا رہا ہے فلوریڈا ،واشنگٹن اور دوسرے امریکی شہر شمالی کوریا کے میزائلوں کی زد میںآگئے ہیں عراق اور افغانستان پر فوجی قبضے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا اب امریکی حکمت عملی یہ ہوگی کہ مسلمانوں کے خلاف اُس کی جنگ جاری رہے گی روس اور چین کے خلاف سرد جنگ کا احیاء کیا جائے گا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کا دور امریکہ کا سنہرا دور ہوگا ان کے دور میں ری پبلکن پارٹی وہ سارے اہداف حاصل کریگی جن کی طرف رونالڈریگن اور جارج بش نے محض اشارہ کیا تھا عالمی سطح پر جنگ کے 4نئے محاذکھولے جائینگے دہشت گرد گروہوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا 2020ء تک امریکہ کا دفاعی بجٹ 10ارب ڈالر کی حد کو عبور کرے گا ۔
Facebook Comments