78

نواز شریف شہباز شریف کے اقتدار کاسورج غروب،2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی،عمران خان وزیراعظم ہونگے،حیرت انگیز پیش گوئیاں کردی گئیں

 پشاور(این این آئی)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ 2018 کے انتخابات میں تحریک انصاف کلین سویپ کرے گی۔ اور عمران خان ہی اس ملک کے وزیر اعظم ہوں گے۔ اس ملک میں اب حقیقی تبدیلی اچکی ہے ۔ نواز شریف شہباز شریف اقتدار کی کرسی کا سوچ چھوڑ دیں۔ عوام نے فیصلہ کرلیا۔مولا نا فضل الرحمن نے ہمیشہ اسلام کی بجائے اسلام آباد کی سیاست کی۔ غریب انسانیت کی عزت و تکریم حکمرانوں پر لازم ہے اور غریب کی عزت کا اولین تقاضا یہ ہے کہ غریب کو اُس کا حق دیا جائے ۔وہ سیاستدان جو صرف ووٹ لینے کی حدتک غریب کو استعمال کریں اور اقتدار میں آنے کے بعد غریب کو بھول جائیں وہ قیادت اور اقتدار کے اہل نہیں۔ جن لوگوں نے نظام تباہ کیا ، غریب کو نظر انداز کیا وہ دوبارہ پرانے نعروں کے ساتھ عوام کے پاس آئیں گے ۔ عوام کرپٹ اور شفاف سیاستدانوں میں فرق کریں ۔ پاکستان کی سلامتی و ترقی کیلئے نااہل سیاستدانوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایماندار قیادت کو آگے لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔اپنی سوچ اور دماغ سے فیصلہ کریں۔دُنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ایماندار اور مخلص قیادت کے بغیر مسائل سے چھٹکار ا ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے صدری خیل پیر پیائی ضلع نوشہرہ میں بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایم این اے ڈاکٹر عمران خٹک، ضلع ناظم لیاقت خٹک، نائب ناظم اشفاق احمدخان، تحصیل ناظم احد خٹک، ممبر ضلع کونسل شوکت نذیر ، صدر پی ٹی آئی پیر پیائی گل نبی، سینئر صدر پی ٹی آئی پی کے۔13 اکرام الدین، شمشیر خان حسین احمد خٹک اور نذیر خان نے بھی جلسے سے خطاب کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ سیاستدان غریب اور عام آدمی کے سہارے ایوان کے اقتداروں تک پہنچتا ہے ۔مگر بد قسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے حکمرانوں نے اپنی سیاست اور حکومت کے مجموعی نظام میں غریب کو نظر انداز کیا۔ ہر انسان چاہے وہ غریب ہی کیوں نہ ہو قابل تکریم ہے بلکہ عام آدمی حکمرانوں ، سیاستدانوں اور با اثر طبقے کی توجہات کا زیادہ مستحق ہے ۔حکمرانوں پر لازم ہے کہ وہ غریب کی عزت کریں ۔ غریب کو اُس کا حق دیں ۔ جن غریبوں نے ووٹ دے کر سیاستدانوں کو اقتدار کے ایوانوں میں بٹھایا اُن کا خیال رکھیں۔ غریب کو سہولت دیں اُس کی مشکلات کا ازالہ کریں۔ وہ مفاد پرست عناصر جن کو اپنی عیاشی عزیز ہو ، طاقت اور اقتدار کے نشے میں مست ہو کر غریب کو بھول جائیں وہ قیادت اور حکمرانی کا حق نہیں رکھتے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں جن لوگوں نے اداروں کو تباہ کیا جنہوں نے سی ایم ہاؤ س کو کرپشن ہاؤس میں بد ل دیا تھا وہ دوبارہ اپنے گھسے پٹے نعروں کے ساتھ عوام کے پاس آنے کیلئے تیار ہیں۔وزیراعلیٰ نے عوام سے کہا کہ پاکستان کا شہری ہونے کی حیثیت سے اپنی سوچ اور دماغ سے فیصلہ کریں، قومی مفادات کو ترجیح دیں اور عوام دوست اور عوام دشمن قوتوں میں موازنہ کریں ۔پرویز خٹک نے صوبائی حکومت کی اصلاحات اور اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اُنہیں تباہ حال اور ٹوٹا پھوٹا صوبہ ملاتھا ۔ ماضی کی حکومتوں کے گند کو ٹھکانے لگانے اور عوام کو انتہائی بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے اربوں روپے خرچ کئے گئے۔ اگر ماضی کے حکمرانوں نے اپنی ذمہ داری ادا کی ہوتی تو آج ہم اپنے اقدامات میں دس قدم اور آگے ہوتے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم نے ساڑھے چار سال تبدیلی کے ایجنڈے کے تحت بھر پور اقدامات کئے ہیں۔ ہماری نیت اور ہمارے عزم میں اخلاص ہے۔ ہم غریب کیلئے کھڑے ہیں اور اُس کی آسانی کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔ہم نے خیبرپختونخوا میں ایک شفاف اور قابل عمل نظام کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اگر اس صوبے میں چور دوبارہ حکومت میں آجاتے ہیں تو ہمیں افسوس ضرور ہو گا کہ جس نظام کی اصلاح کیلئے ہم نے اربوں روپے خرچ کئے ، دن رات محنت کی ، چور حکمران پھر اس کو تبادہ کردیں گے مگر تکلیف سب سے زیادہ عوام اُٹھاتے ہیں، عوام کے مسائل میں اضافہ ہو گا اسلئے عوام کو چاہیئے کہ وہ ہماری حکومت اور ماضی کی حکومتوں میں موازانہ کریں اور اپنے مستقبل کیلئے فیصلہ کرنے میں بالغ نظری کا مظاہرہ کریں۔ پرویز خٹک نے کہا کہ اُن کی حکومت نے تعلیم ، صحت، پولیس اور عوامی خدمات کے دیگر شعبوں کو ڈیلیور کرنے کے قابل بنایا ہے ۔سکولوں اور ہسپتالوں میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار سٹاف پورا کیا گیا ۔ سہولیات فراہم کی گئیں تاکہ غریب کو صحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات میسر آئیں۔ ہم نے نہ صرف عصر ی تعلیمی اداروں کا معیار بلند کیا بلکہ دینی تعلیم کے فروغ اور اسلامی اقدار کے احیاء کیلئے ٹھوس اقدامات کئے ۔پرویز خٹک نے صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کی ضرورت اور اہمیت اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کی کاوشوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبے کے جس ضلع میں بھی جاتے ہیں ہر طرف نوکری کا سوال کیا جاتا ہے ۔صوبے میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے پیچھے ماضی کی حکومتوں کی نااہلی ہے ۔ صوبائی حکومت نے بیروزگار ی کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے بیک وقت دو جہتوں پر کام کیا۔ ماضی میں تھرڈ ڈویژن میٹرک پاس کو اُستاد لگایا جاتا تھا ۔ نوکریاں فروخت ہوتی تھیں جس کی وجہ سے ایک طرف قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے سے نا انصافی اور دوسری طرف نااہل لوگوں کی بھرتیوں سے ادارے تباہ ہوئے ۔موجودہ صوبائی حکومت نے میرٹ پر بھرتیوں کا عمل شروع کیا۔ حقدار کو حق دیا ۔ این ٹی ایس کے ذریعے بھرتیاں کی گئیں ۔گزشتہ تین ، چار ماہ کے دوران سوا لاکھ ملازمین کو اپ گریڈ کیا گیا ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ اقدامات اپنی جگہ ضروری تھے مگر بڑھتی ہوئی بیروزگاری کو دیکھتے ہوئے سرکاری نوکریاں کافی نہیں تھیں اور پرائیوٹ سیکٹر میں روزگار حکمرانوں کی لوٹ مار ، رشوت اور کرپشن کی نظر ہو گیا تھا۔ صنعت بیٹھ چکی تھی ۔ سرمایہ کار صوبے سے بھاگ رہے تھے تو روزگار کیسے پیدا ہوتا۔ موجودہ صوبائی حکومت نے حالات کی نزاکت کا ادراک کیا اور ہنگامی بنیادوں پر سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے جامع منصوبہ بندی کے تحت جدوجہد شروع کی ۔سی پیک کے تناظر میں اور اُس سے ہٹ کر بھی وسیع پیمانے پر کارخانے لگانے کیلئے سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش مراعات رکھی گئیں۔ آج خیبرپختونخوا سرمایہ کاری کے لئے موزوں ترین صوبہ بن چکا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ بڑھتی ہو ئی سرمایہ کاری کے پیش نظر خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کیلئے ٹیکنکل مراکز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ نوشہرہ میں ٹیکنکل یونیورسٹی ، صوبہ بھر میں 100 کے قریب کالجز اور اضلاع کی سطح پر یونیورسٹی کیمپسز قائم کئے گئے ہیں تاکہ نوجوان تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی سیکھیں اور روزگار کا باعزت مواقع حاصل کرسکیں۔وزیرا علیٰ نے کہاکہ تحریک انصاف کی موجودہ صوبائی حکومت نے صوبے میں جس شفاف نظام کی بنیاد رکھ دی ہے اس پر مضبوط اور خوشحال پاکستان کی عمارت کھڑی کریں گے ۔ تحریک انصاف اپنے ہدف کی تکمیل کیلئے کامیابی سے کوشاں ہے اور اس کی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے ۔جب حکومتوں کا آخری سال آتا ہے تو سیاسی جماعتوں کے اپنے دیرینہ کارکن بھی ساتھ چھوڑ دیتے ہیں مگر ہم نے روایت بدل دی ہے۔ہمارے ساتھ دوسری جماعتوں کے لوگ بھی شامل ہو رہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ تحریک انصاف نوجوانوں اور باشعور عوام کے تعاون سے دوبارہ بھر پور قوت کے ساتھ حکومت میں آئے گی اور خیبرپختونخوا کی روایت بدل دے گی ۔

Facebook Comments