95

دادبیداد ……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ……….بد اچھا بدنام بُرا

امریکی حکومت کی ڈپٹی اسسٹنٹ سکرٹری آف سٹیٹ ایلیس ویلز نے پاکستان کے دو روزہ دورے کے بعد امریکی سفارت خانہ اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے اپنے دورے کا خلاصہ ایک بامعنی جملے میں بیاں کیا اور کہا’’ دہشت گرد اچھا یا بُرا نہیں ہوتا،وہ صرف دہشت گرد ہوتا ہے‘‘۔اسلام آباد کے سفارتی اور صحافتی حلقوں میں اس پرگرما گرم بحث ہورہی ہے۔ایک طبقے کا یہ خیال ہے کہ ایمبیسڈر ویلز نے بلاسوچے سمجھے یہ بات کہدی۔دوسرے طبقے کا خیال ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر غلط بیان دیا حالانکہ اُس کو اچھی طرح علم ہے کہ دہشت گرد اچھا بھی ہوتا ہے برُا بھی ہوتا ہے۔اردو کا مقولہ ہے’’بد اچھا بدنام بُرا‘‘وائٹ ہاؤس اور پینٹا گان کے ریکارڈ میں1978سے لیکر2001تک کوئی بُرا دہشت گرد نہیں تھا۔1994اور2001کے درمیانی عرصے میں دو بڑے واقعات ہوئے۔ایک واقعہ یہ ہوا کہ افغانستان کے اندر کوکنار کی کاشت ختم کردی گئی،ہیروئیں کی پیداوار بند ہوگئی۔امریکی سفارت کاروں کی آمد کا بڑا ذریعہ بند ہوا،دوسرا بڑا واقعہ یہ ہوا کہ امریکی تیل اور گیس کمپنی کو افغانستان میں کاروبار کی اجازت نہیں ملی۔کاروبار کا یہ دوسرا نقصان تھا۔مگر دونوں ایسی باتیں تھیں کہ ان کا بہانہ کام نہیں دیتا تھا۔ان کا ذکر نہیں ہوسکتا تھا۔اس لئے نیویارک میں ایک بڑی عمارت کو گرایا گیا۔ہٹلر نے جنگ عظیم شروع کرنے کے لئے جرمن پارلیمنٹ کی عمارت کو آگ لگائی تھی امریکیوں نے اپنی جنگ عظیم کی بنیادورلڈ ٹریڈ سنٹر کے کھنڈرات پر رکھی اور اس کو نائن الیون کا نام دیا۔جارج بش نے12ستمبر 2001کو قوم کے خطاب کرکے مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ کا اعلان کیا۔اُنہوں نے نپے تلے انداز میں کروسیڈ ’’Crusade‘‘ کا نام لیا۔اُس دن کے بعد دہشت گرد کے لئے ’’برے دہشت گرد‘‘ کی ترکیب استعمال ہونے لگی۔جن لوگوں کو وائٹ ہاؤس میں دعوتوں میں بلاتے وقت ’’ ہیرو‘‘کانام دیا جاتا تھا۔ان کے لئے’’برے دہشت گرد‘‘کانام استعمال ہونے لگا۔یہ اس بات کا پہلا ثبوت ہے کہ دہشت گرد اچھا بھی ہوتا ہے بُرا بھی۔اگر آپ کو افیون کاشت کرکے دیدے اگر آپ کو تیل اور گیس کے کاروبار کی اجارہ داری دیدے تو اچھا دہشت گردہے اگر ایسا نہ کریں تو وہ بُرا دہشت گرد ہے۔ہمارے ہاں بسوں میں ایسی تختیاں استعمال ہوتی ہیں جن کے ایک طرف پشاور اور دوسری طرف لاہور لکھا ہوتا ہے پشاور سے روانگی کے وقت’’لاہور‘‘ والی تختی اویزاں کی جاتی ہے،جبکہ لاہور سے روانگی کے وقت پشاور والی تختی اویزاں کی جاتی ہے۔امریکی حکام نے ایک ہی تختی کے طرف’’مجاہد‘‘دوسری طرف ’’دہشت گرد ‘‘لکھا ہواتھا۔اس کی کارکردگی امریکہ کے مفاد میں ہوتو مجاہد کی تختی اویزاں ہوتی تھی خدا نخواستہ امریکہ کے خلاف تو ’’دہشت گرد‘‘والی تختی اویزاں ہوتی تھی۔یہ تاریخ کی لمبی چوڑی کہانی یا فلسفیانہ موشگافی نہیں۔ہماری آنکھوں نے یہ مناظر دیکھے ہوئے ہیں۔یہ سامنے کی باتیں ہی۔زمانہ حال کے حالات ہیں۔جنہیں اخباری زبان میں حالات حاضرہ کہا جاتا ہے۔گذشتہ 40سالوں میں حالات بالکل نہیں بدلے ضیاء الحق کے دورسے مشرف کے دور تک سارے دہشت گرد اچھے تھے۔برُا کوئی نہیں تھا۔مشرف کے دور میں امریکی لغت نے ان کی درجہ بندی کرکے بیک وقت اچھے بُرے دہشت گرد بنائے۔معیار یہ رکھا گیا کہ امریکہ کے مفاد میں کام کرنے والا دہشت گرد اچھا ہے۔امریکی مفاد کے خلاف کام کرنے والا دہشت گرد برُا ہے۔وائٹ ہاؤس اور پینٹاگان کی کتابوں اب بھی یہ ترکیبیں استعمال ہوتی ہیں۔پاکستان پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کا اچھا دہشت کہا جاتا ہے۔ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ان کو اسلحہ اور مال ودولت سے نوازا جاتا ہے۔افغانستان کے اندر امریکی کانوائے پر حملہ کرنے والا بُرا دہشت گرد کہلاتا ہے امریکی ریکارڈ میں ملا فضل اللہ اچھا دہشت گرد ہے،حقانی بُرا دہشت گرد ہے۔ہمارا مشورہ ہے کہ امریکی ڈپٹی اسسٹنٹ سکرٹری آف سٹیٹ کو تھوڑی اردو سکھائی جائے اور ان کو بتایا جائے کہ اردو کا مقولہ’’بداچھا بدنام بُرا‘‘ ایسے ہی مواقع پر بولا جاتا ہے۔ہماری ہمدردیاں ایمیسڈر ویلز کے ساتھ ہیں ہماری دعا ہے۔
ہردن ہو تیرا لطف عام اور زیادہ
اللہ کرے زور بیاں اور زیادہ

Facebook Comments