86

حا مد میر………………..پرانی غلطیوں کے شوقین

 اگر آپ کو پاکستانی سیاست کی سمجھ نہیں آ رہی تو اس کی وجہ سیاستدان کم اور ٹی وی چینلز زیادہ ہیں۔ اکثر ٹی وی چینلز اپنی ہیڈلائنز اور بریکنگ نیوز زمینی حقائق سے زیادہ اپنی مخصوص پالیسی کےمطابق بناتے ہیں۔ مختلف چینلز کی مختلف پالیسیاں حقیقت اور افسانے کو آپس میں گڈمڈ کر دیتی ہیں اوریوں کنفیوژن جنم لیتی ہے اور آخرکار مختلف ٹی وی چینلز پر تجزیے پیش کرنے والے خواتین و حضرات بھی کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر بڑی ہی دردمندی کے ساتھ اپنی ہی پیداکردہ کنفیوژن کو ایک قومی المیہ قرار دے کر رونا دھونا کیاجاتا ہےاور اس ’’درد فروشی‘‘ پر سادہ دل عوام سے خوب داد بھی وصول کی جاتی ہے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں خود الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ ہوں اور خود ہی الیکٹرانک میڈیا پر کنفیوژن پھیلانے کا الزام کیوں لگارہا ہوں؟ ہوسکتا ہے کہ بہت سے لوگ مجھ سے اتفاق نہ کریں لیکن میں کافی عرصے سے یہ کہہ رہا ہوں کہ میڈیا کنگ میکر نہیں ہے، میڈیا صرف نیوز بریکر ہے۔ میڈیا کو حکومتیں بنانے اور گرانے کا کام چھوڑ کر صرف حقائق کو سامنے لانے پر توجہ دینی چاہئے۔ یاد کیجئے! جب 2012میں میموگیٹ اسکینڈل اپنے عروج پر تھا اور ہر شام کو آصف زرداری کو عہدہ ٔ صدارت سے فارغ کرنے کے دعوے کئے جاتے تھے یہاں تک کہ ان کی زبان کو فالج ہونے کی بریکنگ نیوز نشر کردی جاتی تھی، میں اس وقت بھی کہتا تھا کہ میڈیا اس حکومت کو نہیں گرا سکےگی۔ پھر آصف زرداری کو نکالنے کے لئے ڈاکٹر طاہر القادری کو لایا گیا۔ ’’سیاست نہیں ریاست بچائو‘‘ کا نعرہ لگا۔ نواز شریف صاحب کالاکوٹ پہن کر سپریم کورٹ جاپہنچے ۔ سپریم کورٹ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نکال دیا لیکن آصف علی زرداری کو صدارت سے نہ نکال سکی۔ 2014میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنا دیا۔ مختلف ٹی وی چینلز پر نواز شریف کی حکومت ختم ہونے کی تاریخیں دی جانے لگیں لیکن میرا موقف مختلف تھا۔ میں آپ کو واضح الفاظ میں بتاتا رہا کہ دھرنے کا اصل مقصد نواز شریف کو نکالنا نہیں بلکہ پرویز مشرف کو آئین سے غداری کے مقدمے سے بچانا ہے۔ پھر نواز شریف نے شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان اور مشاہد اللہ خان کے مشورے کے مطابق مشرف کوپاکستان سے جانے کی اجازت دے دی اور مدعا سپریم کورٹ پر ڈال دیا۔ یہاں سے سپریم کورٹ کےساتھ ایک سردجنگ شروع ہوئی جس کا نتیجہ پاناما کیس میں نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں آیا۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد کہا گیا کہ یہ نااہلی جمہوریت کے خلاف سازش ہے اور بہت جلد جمہوریت ختم ہوجائے گی۔ بلوچستان میں سیاسی تبدیلی آئی تو کہا گیا کہ یہ سینیٹ کا الیکشن روکنے کی سازش ہے۔ طاہر القادری نے لاہور میں احتجاج کااعلان کیا اور اس احتجاج میں آصف زرداری کے ساتھ ساتھ عمران خان کو بلایا تو کہا گیا کہ نظام لپیٹا جارہا ہے۔

پچھلے چند دنوں میں لاہور ، کراچی، پشاور اور اسلام آباد میں ملک کی اہم سیاسی شخصیات کے ساتھ سیاسی حالات پر آف دی ریکارڈ گفتگو سے میرے اس تاثر کو مزید تقویت ملی کہ ٹی وی چینلز کی ہیڈلائنز اور تجزیوں کو سن کر عام آدمی کو سیاست کی سمجھ نہیں آ سکتی البتہ اخبارات کو غور سے پڑھ کر سیاسی حالات کو سمجھنا زیادہ آسان ہے۔ سیاستدان ٹی وی پر پورا سچ نہیں بولتے اور مختلف چینلز پر نشر ہونے والے خبرناموں میں خبر پر کم اور سنسنی پر توجہ زیادہ ہوتی ہے کیونکہ خبرنامے کی ریٹنگ سے پروڈیوسر کی ترقی یا تنزلی کا فیصلہ ہوتاہے۔ یہی حال کرنٹ افیئرز کے پروگراموں کا ہے۔ عوام کےاصل مسائل کو چھوڑ کر سنسنی خیز موضوعات پرزیادہ توجہ دی جاتی ہے تاکہ ریٹنگ متاثر نہ ہو لہٰذا ریٹنگ آگے نکل جاتی ہے اور صحافت پیچھے رہ جاتی ہے۔ یہی وہ دکھ ہے جو مجھے اپنے گریبان میں بار بار جھانکنے پر مجبور کرتا ہے اور میں اس تانک جھانک میں آپ کو بھی شامل کرلیتاہوں۔ اب میں آپ کے ساتھ کچھ ایسی خبریں شیئر کرتا ہوں جو آپ کو ٹی وی چینلز پر دکھائی نہیں دیں گی۔ شہباز شریف کا خیال ہے کہ ان کے خلاف دھرنوں اور جلسے جلوسوں کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ نواز شریف کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ انہیں یہ یقین بھی نہیں ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے وزارت ِ عظمیٰ کے امیدوار وہی ہوں گےکیونکہ ان کے بارے میں کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا کچھ اخبار نویسوں کے سامنے ایک رائے کا اظہار کیا گیا ہے اوریہ رائے بدل بھی سکتی ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور میں شہباز شریف صاحب نے ایک نجی گفتگو کے دوران سینیٹر پرویز رشید کا ذکر بڑے اچھے الفاظ میں کیا تو میں چونک گیا۔ پرویز رشید کےبارے میں شہباز شریف کے الفاظ کو چوہدری نثار علی خان کی تردید کہا جائے توغلط نہ ہوگا۔ پرویز رشید اور چوہدری نثار علی خان کے مابین جو ہلکی پھلکی لفظی جھڑپیں جاری ہیں، ان کےپیچھے ایک لمبی کہانی ہے۔ یہ لڑائی پرویز رشید اور چوہدری نثار علی خان کی نہیں بلکہ نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کی ہے۔ پرویز صاحب ڈان لیکس کے بارے میں پورا سچ نہیں بول رہے اور چوہدری صاحب بھی سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے یہ نہیں کہہ پا رہے کہ نواز شریف صاحب اگر آپ کومجھ سے شکایت ہےتو خودکیوںنہیں بولتے؟ پرویز رشید صاحب کو ڈان لیکس کی اصل سچائی ضرور سامنے لانی چاہئے اوربتانا چاہئے کہ انہیں وزارت سے نکلوانے میں صرف چوہدری نثارکا نہیں کچھ اور لوگوں کا بھی ہاتھ تھا اور یہ لوگ وزیراعظم ہائوس کے اندر ہی تھے۔
مسلم لیگ (ن) کے بہت سے رہنما آج کل عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ ساتھ آصف زرداری کو بھی خوب کوس رہے ہیں۔ وہ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ آصف زرداری سینیٹ کے انتخابات ملتوی کرانے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ زرداری صاحب سینیٹ کے انتخابات کی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کچھ دن پہلے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی دعوت پر مجھے سیہون شریف جانے اور حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے مزار پر حاضری کاموقع ملا۔ یہاں بلاول بھٹو زرداری نے امراض قلب کے ایک جدید اسپتال کا افتتاح کیا اور دل کے آپریشن کالائیو منظر بھی دیکھا۔ صاف نظرآتا تھاکہ مراد علی شاہ اور بلاول صاحب انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ بلاول صاحب نے سینیٹ کے انتخابات والد صاحب پر چھوڑ رکھے ہیں اور خود عام انتخابات کی تیاری کر رہےہیں۔ آصف زرداری اور بلاول ایک ہی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ دونوں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے انتخابات کا التوانہیں چاہتے ا ورٹی وی چینلز پر اپنے بارے میں تبصرے سن کر قہقہے لگاتے ہیں۔
عمران خان اور ان کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک بھی انتخابات کی تیاریوں میں ہیں۔ تحریک ِ انصاف کے کچھ رہنما سینیٹ کے انتخابات ملتوی کرانے کی خواہش رکھتے تھے لیکن اس خواہش کی تکمیل کے لئے آصف زرداری ان کے ہاتھ نہیں آئے۔ طاہر القادری کے احتجاج میں آصف زرداری اور عمران خان کی شرکت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ دونوں رہنما کوئی سیاسی اتحاد بنا رہے ہیں۔
پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کا سیاسی اتحاد نہیں بن سکتا البتہ انتخابات کے بعد ایک دوسرے سے تعاون کی صورت نکل سکتی ہے۔ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مقبول سیاستدانوں کے بارے میں مصدقہ یا غیرمصدقہ خبروں کے آگے پیچھے انڈین گانے لگا کر وہ بادشاہ گر بن گئے ہیں، ان سے گزارش ہے کہ بادشاہ گری کی خواہش چھوڑیں اور صرف صحافی بنیں۔ آج کل اصل خبر وہ نہیں جو بریکنگ نیوز بن کر ٹی وی چینلز پر تھرکتی دکھائی دیتی ہے اصل خبر وہ ہے جو ٹی وی چینلز پر نظر نہیں آ رہی اس خبر کو تلاش کریں اور سامنے لائیں۔ کنفیوژن نہ پھیلائیں بلکہ کنفیوژن ختم کریں۔ صحافی کا کام مقبول سیاستدانوں کی ’’خوشنودی‘‘ حاصل کرنا یا انہیں برباد کرنا نہیں بلکہ غیرمقبول سچ لکھنا ہے۔ سب سے بڑا غیرمقبول سچ یہ ہے کہ نواز شریف، آصف زرداری اور عمران خان میں فرق ختم ہو رہا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی غلطیاں دہرا رہے ہیں۔ غلطیوں کا اتنا ہی شوق ہے تو کوئی نئی غلطی کرلو پرانی غلطیاں نہ دہرائو

Facebook Comments