84

لاہور جلسے میں حیرت انگیز واقعہ،طاہر القادری عمران خان کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتے رہے اور عمران خان نے سب کے ساتھ ایسا کام کردیا کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا

لاہور(نیوزڈیسک)لاہور جلسے میں حیرت انگیز واقعہ،طاہر القادری عمران خان کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتے رہے اور عمران خان نے سب کے ساتھ ایسا کام کردیا کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا، تفصیلات کے مطابق لاہور جلسے میں اس وقت بدمزگی پیدا ہوگئی جب جلسے کے دوسرے سیشن کی صدارت کے لئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سٹیج پر پہنچے، اس موقع پر طاہرالقادری نے عمران خان کا پرتپاک استقبال کیا اور اظہار یکجہتی کیلئے ان کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کرتے رہے لیکن عمران خان نے اپنے ہاتھ سیدھےعوام کی جانب ہی رکھے اور طاہر القادری کیبار بار کی کوشش کے جواب میں بالاخر ان کا ہاتھ جھٹک دیا ،عمران خان کے شدیدردعمل پر شرکاء جلسہ ششدر رہ گئے ،طاہرالقادری یکجہتی کا مظاہرہ کرنے اور اس بات کا اظہارکرنے کے لئے کہ عمران خان ان کے ساتھ ہیں ان کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کررہے تھے لیکن عمران خان کو ان کا یہ انداز پسند نہ آیا اور بار بار ہاتھ سیدھا رکھنے کے بعد بالاخر انہوں نے سب کے سامنے طاہرالقادری کا ہاتھ جھٹک دیا اور سہاتھ چھڑاکر اپنی نشست پر جابیٹھے ،بعد ازاں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے آئندہ کے لائحہ عمل کیلئے دو روز میں ہی قیادت سے ملاقاتوں اور آل پارٹیز کانفرنس کی اسٹیرنگ اور ایکشن کمیٹی کے اجلاس بلا نے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مال روڈ کے احتجاجی جلسے میں شریک جماعتوں کے کارکن جاتی امراء کی جانب منہ کر کے تھوک ہی دیں توآپ کے محلات اس میں بہہ جائیں گے ،اب دنیا کی کوئی طاقت حکمرانوں کو نہیں بچا سکے گی او رانہیں جانا ہوگا ،اس جدجہد میں کامیابی عوام کی ہو گی اورحکمرانوں کا عبرتناک انجام ساری دنیا دیکھے گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز متحدہ اپوزیشن کے مال روڈ پر منعقدہ احتجاجی جلسے سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کیا جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ جس پارلیمنٹ میں تین سو کروڑ کی چوری کرنے والے شخص کو اپنا سربراہ چن لیا جائے میں اس پر لعنت بھیجتا ہو ں ،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کی تجویز پر واپس جا کر پارٹی میں مشاورت کروں گا اور ہو سکتا ہے کہ ہم جلد ہی استعفوں کے معاملے میں شیخ رشید کو جوائن کر لیں ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے جلسے سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کو بتانا چاہتا ہوں کہ اب شہدائے ماڈل ٹاؤن کے انصاف کی تحریک صر ف عوامی تحریک کی نہیں رہی بلکہ یہ پورے پاکستان کی حصول انصاف کی جنگ بن چکی ہے یہ پوری قوم کی آواز بن چکی ہے اور اس جنگ میں ہم سب یکجا ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں کو ئی فیصلہ تنہا نہیں کروں گا ،میں نے جاتی امراء جانے کا بھی سوچا ، قریب واقعہ پنجاب اسمبلی کی عمارت کا بھی سوچا ، تخت رائے ونڈ کا بھی سوچا ۔ مجھے اللہ کی عزت کی قسم اگر میں مظلوم بیٹوں، بیٹیوں اور کارکنوں کو حکم دیدوں تو یہ تمہارے بدن کے کپڑے او ربوٹی بوٹی نوچ ڈالیں یہ تمہاری نسلوں کو سبق سکھا دیں ،ہم بزدل او ر نا توا ں نہیں ہم چاہیں تو تم سے انتقام لے لیں اورتمہیں سبق سکھا دیں لیکن ہمارے حوصلے اور صبر کی داد دو ،ہم نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا ،ہم نے آئین بد امنی کا فیصلہ کیا نہ کریں گے ۔ ہمیں معلوم ہے کہ خاموش اور پر امن احتجاج سے حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ انہوں نے کہا کہ فیض آباد میں 1500سے 2000ہزار افراد چوبیس روز تک بیٹھے رہے لیکن کوئی اقدام نہیں ہوا لیکن جب جلاؤ گھیراؤ ،بد امنی پھیلائی گئی تو مسئلہ حل ہو گیا ۔ میرے ذہن میں بھی یہ بات آتی ہے لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ اگر آج کے جلسے میں شامل پی ٹی آئی ، پیپلز پارٹی ، عوامی تحریک سمیت دیگر جماعتیں جاتی امراء کی طرف چل پڑیں او ر ان کے طرف اس طرف منہ کر کے تھوک دیں تو آپ کے گھر او رمحل اس سیلاب میں بہہ جائیں ہم آپ کے محلات کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں اور تمہیں تمہاری ظالمانہ حکمرانی کا مزا چکھا دیں ۔ انہوں نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کہو تو تاریخ دیدوں، اگلی اتوار کو رائے ونڈ کی اینٹ سے اینٹ بجا دو گے ، ابھی چلو گئے جس پر شرکاء نے پرجوش انداز میں نعرے لگائے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے علم ہے کہ یہ میرے جیالے ہیںیہ عمران خان اور بینظیر بھٹو کے جیالے ہیںیہ شہیدوں کے خون کا بدلہ لینا جانتے ہیں ۔ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے ۔ اگر ہم ٹکرا گئے تو بڑے بڑے سمندر شرما جائیں گے ،طوفان کی موجیں شرما جائیں گی لیکن ہم امن آئین اور جمہوریت کے پاسبان ہیں ۔ میرا کوئی فیصلہ تنہا نہیں ہوگا یہ ہم سب کی مشترکہ جنگ ہے ۔ اب اس جدوجہد کی مشترکہ آنر شپ ہو گی ۔ ہم نے طے کر لیا ہے اگلے دو روز میں ملاقاتیں ہو گی جس میں آئندہ کی تاریخ کا اعلان کریں گے ، اے پی سی کی اسٹیئرنگ کمیٹی او رایکشن کمیٹی کے اجلاس ہوں گے جس میں ضبط تحمل دانشمندی سے آگے بڑھیں گے ، ہم حادثاتی حالات نہیں پیدا کرنا چاہتے ۔انہوں نے کہا کہ اب حکمرانوں کو دنیا کی کوئی طاقت بچا نہیں سکتی اور تمہیں جانا ہوگا ۔ حکمران طبقے کی طاقت کا خمار اور فرعونیت کا بخار اترے گا۔ ہم مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے اور فتح اور کامیابی عوام کی ہو گی اور حکمرانوں کا عبرتناک انجام پوری دنیا دیکھے گی ۔قبل ازیں پہلے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے کہا کہ لاہور کے آج کے منظر میں میرا کوئی کمال نہیں، یہ کمال ہے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کے مقدس خون کا، یہ کمال ہے ان معصوم بچوں بچیوں کاجن کی حفاظت کے لئے سب اکٹھے ہوئے۔معاشرے میں اتنی تقسیم و تفریق ہوچکی ہے کہ کسی معاملے پر مل بیٹھنے کا حوصلہ نہیں رہا۔ لیکن آج ہم سب سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف دلانے جمع ہوئے ہیں، سب کو بلانے کا مقصد اپنی ذات کے لیے کچھ حاصل کرنا نہیں بلکہ سوئی ہوئے شعور کو جگانا اور بے آوازوں کو آواز دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کچلے جارہے ہیں اور قومی دولت لوٹی جارہی ہے۔ہم آئین کو نہیں سلطنت شریفیہ کو توڑنا چاہتے ہیں، جمہوریت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے اور نہ ہی ملک کے امن کو توڑنا چاہتے ہیں۔ہم عدلیہ کو آزاد رکھنے اور ہر مظلوم کو انصاف دلانے اور ملک کو درندوں سے بچانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں، قوم اٹھے اور پہچانے کہ دشمن کون ہے۔طاہر القادری نے کہا کہ ہم اس ملک کے امن کو نہیں توڑنا چاہتے، اگر ایسا کرنا ہوتا تو نواز شریف اور شہباز شریف کو جاتی امرا ء سے باہر ایک قدم رکھنے کی جرات نہ ہوتی،چاہتے ہیں قانون عوام اور نوازشریف کے بچوں سب کے لیے برابر ہو۔ہمارا شیوہ نہ توڑ پھوڑ ہے نہ جلا ؤ گھیرا ہے، ہمیں قانون ہاتھ میں لینا ہوتا تو سانحات برداشت نہ کرتے، سلطنت شریفیہ کے جرائم کے خلاف آج جمع ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) واحد جماعت ہے جس کانام اس کے سربراہ کے نام پر ہے، پوری دنیا میں ایک سیاسی جماعت ایسی نہیں جس کانام کسی شخص کے نام پر ہو،(ن) لیگ سلطنت شریفیہ کا سیا سی لشکر ہے، انہوں نے دہشت گردی کا کلچر متعارف کیا ہے، انہیں امن سے دشمنی ہے، انہوں نے بے نظیر بھٹو اور عمران خان کی کردار کشی کی، انہوں نے انسانیت پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیئے ہیں لیکن میں بتادینا چاہتا ہوں کہ یہ جمہوری جدوجہد اور احتجاج کی ابتدا ہے اسے انتہا تک لیجائیں گے۔ایک بھائی کو عدلیہ نے نااہل کیا دوسرے بھائی نے 14بے گناہوں پر فائرنگ کرائی، سپاہی سے لے کر آئی جی تک تقرر و تبادلہ ان کے ہاتھ میں ہے،گزشتہ 10سال میں ساڑھے 700 ارب روپے پنجاب پولیس کو دیئے گئے، پولیس نے جاتی امرا کو تو تحفظ دیا لیکن غریبوں کو تحفظ نہیں دیا۔پنجاب پولیس (ن) لیگ کا عسکری ونگ ہے، پنجاب ایک کارپوریشن کی طرح چلتا ہے، مسلم لیگ (ن) نے جمہوریت کے ہرے بھرے درخت کو آکاس بیل کی طرح زرد کردیا، جبکہ شریف برادران بھارتی ایجنٹوں کو اپنے اداروں میں تحفظ دیتے ہیں۔دوسرے سیشن سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پارلیمنٹ سے استعفے دینے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسی پارلیمنٹ پر جو مجرم کوپارٹی سربراہ بنائے اس پر لعنت بھیجتا ہوں، شیخ رشید کی استعفوں کی تجویز پر واپس جا کر پارٹی سے مشاورت کروں گا، ہوسکتا ہے اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملے پر شیخ رشید سے آملیں۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آج یہاں احتجاج کر کے چلے گئے تو سانحہ ماڈل ٹان کا انصاف نہیں ملے گا، جلسے کے بعد طاہرالقادری سے ملاقات کروں گا اور انہیں بتاؤں گا کہ احتجاج کو کیسے آگے لے کر جانا چاہیے، کیونکہ اب ہماری بہت پریکٹس ہوگئی ہے۔دنیا میں کہیں شہریوں پرپولیس کی طرف سے اس طرح گولیاں نہیں چلائی جاتیں۔ساری دنیا نے ٹی وی پر دیکھا کہ پولیس نہتے شہریوں پر گولیاں چلا رہی ہے۔زینب قتل کیس میں بھی پولیس نے شہریوں پر سیدھی فائرنگ کی، زینب کے والد نے پنجاب حکومت اور پولیس سے انصاف نہیں مانگا بلکہ انہوں نے آرمی چیف اور چیف جسٹس سے انصاف مانگا،کیوں کہ انہیں پتہ تھا کہ انصاف وہیں سے ملے گا۔خیبرپختونخوا پولیس میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں، پہلے پیسے لے کر پوسٹنگز اور ٹرانسفر کیے جاتے تھے۔جبکہ جرائم کے اعداد و شمار میں صوبے میں بہتری آئی ہے جبکہ دہشتگردی بھی کم ہوئی ہے۔عمران خان نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے آئی جی عباس خان سے پوچھا کہ پنجاب پولیس کرپٹ کیوں ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے میرٹ ختم کرکے پولیس میں بھرتی کی۔کرپشن کی دوسری وجہ پیسے دے کر پولیس کی نوکری ملنا ہے، جو پیسے دے کر بھرتی ہوا اس نے ریکوری تو کرنی ہے اپنے پیسوں کی۔انہوں نے شہباز شریف کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آپ مردان جائیں اور پولیس پر تنقید کریں گے تو لوگ آپ کو انڈے اور ٹماٹر ماریں گے۔انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں لڑکی کی بے حرمتی کے واقعے میں پولیس نے 9 ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ مشال خان قتل کیس میں 57میں سے 55ملزمان جیل میں ڈالے گئے۔عمران خان نے کہا کہ پورے وثوق سے کہتا ہے کہ ماڈل ٹاؤن میں سب کچھ حکم پر کیا گیا تھا۔40 سال سے ان دونوں بھائیوں کو جانتا ہوں، سابق وزیراعظم نواز شریف جمہوریت پر یقین ہی نہیں رکھتے، یہ ضیا الحق سے کہتے تھے کہ بڑا اچھا کیا ذوالفقار بھٹو کو پھانسی لگائی۔چار سال ہونے کو ہیں پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کا کوئی مجرم نہیں پکڑا گیا کیوں کہ یہ خود مجرم ہیں۔انہوں نے کہا کہ حافظ آباد میں ضمنی انتخاب کے موقع پر پولیس کے ایس پی (ن) لیگ کے لیے ووٹ مانگ رہے تھے۔عمران خان نے کہا کہ شیخ رشید کی پارلیمنٹ سے استعفوں سے استعفے سے متعلق باتوں سے اتفاق کرتا ہوں، ہم نے پہلے بھی استعفے دئیے تھے لیکن انہوں نے قبول نہیں کیے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم شیخ رشید کی تجویر پر انہیں جوائن کر لیں۔

Facebook Comments