80

چترال میں دوبارہ مردم شماری نہ کرانے اور اسمبلی سیٹ کی مجوزہ خاتمے کے فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو وہ اگلے عام انتخابات کا مکمل بیکارڈکرنے اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوں گے۔ صدر سرتاج احمد خان

چترال (نمائندہ آوازچترال) چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سرتاج احمد خان نے کہا ہے کہ چترال کے عوام مردم شماری کے نتائج کو یکسر مسترد کرتے ہیں جس کی بنیاد پر چترال سے صوبائی اسمبلی کی ایک نشست ختم کردی گئی ہے اور دوبارہ مردم شماری نہ کرانے اور اسمبلی سیٹ کی مجوزہ خاتمے کے فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو وہ اگلے عام انتخابات کا مکمل بیکارڈکرنے اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔سول سوسائٹی کے نمائندوں مولانا عبدالسمیع، معراج حسین لال، دین محمد، حمید احمد اور دوسروں کی معیت میں انہوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ چترال سے صوبائی اسمبلی کی نشست کا خاتمہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے کیونکہ رقبے کے لحاظ سے یہ پورے صوبے کا پانچواں حصہ ہے اور اس وسیع رقبے کے لئے صرف ایک ایم پی اے قطعی طور پر ناکافی ہے جبکہ مردم شماری کے نتائج بھی قابل قبول نہیں ہیں جن میں 95فیصد آبادی کو شمار میں نہیں لایا گیا ہے ۔ ان کا کہنا تھاکہ چترال کی چار لاکھ سے ذیادہ آبادی روزگار اور معاش کے سلسلے میں چترال سے باہر مختلف شہروں میں آباد ہیں جن کاشمار یہاں نہیں ہواہے۔ انہوں نے مختلف چھوٹے اضلاع شانگلہ ،تورغر، کوہستان، کرک، ٹانک کی مثا ل دیتے ہوئے کہاکہ وہاں کی آبادی چترال کے نصف ہونے کے باوجود دو ، دو نشستیں دی گئی ہیں لیکن چترال کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جارہا ہے۔ سرتاج احمد خان نے کہاکہ اس مسئلے پر چترال کی سیاسی قیادت اور سول سوسائٹی متحد ومتفق ہیں جوکہ پیر 15جنوری کو ایک مشترکہ یادداشت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پیش کریں گے جس میں صوبائی اسمبلی کی نشست کو بحال رکھنے کی استدعا کی جائے گی اورحلقہ بندیوں کی ڈرافٹ پروپوزل سے اسے ختم نہ کرنے کی صورت میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

Facebook Comments