75

چیف الیکشن کمشنر ، نیب اور اعلی عدلیہ سے اپیل ؛۔جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب اور اُن کے بھائی زرنصیب جعلسازی کے ذریعے اُن کے فرم کا لائسنس استعمال کرکے مبینہ طور پر بہت بڑے پیمانے پر فراڈ کیا ہے ۔ اس کو بے نقاب کیا جائے ۔ ناصر احمد خان

چترال (نمائندہ آوازچترال ) چترال کے معروف گورنمنٹ کنٹریکٹر ناصر احمد خان نے چیف الیکشن کمشنر ، نیب اور اعلی عدلیہ سے اپیل کی ہے ۔ کہ جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب اور اُن کے بھائی زرنصیب جعلسازی کے ذریعے اُن کے فرم کا لائسنس استعمال کرکے مبینہ طور پر بہت بڑے پیمانے پر فراڈ کیا ہے ۔ اس کو بے نقاب کیا جائے ۔ اورمولانا گل نصیب فراڈ میں برابرکے شریک ہیں ۔ اس لئے وہ صادق اور امین نہیں رہے ہیں ۔ اس لئے اُسے جے یو آئی کی ذمہ داریوں سے فارغ کیا جائے ۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ جے یو آئی کے صوبائی امیر نے اپنے حلقے کے ترقیاتی فنڈ اپنے بھائی زرنصیب کے ذریعے محکمہ پاک پی ڈبلیو ڈی بٹ خیلہ میں میرے فرم کے نام پر جعلی دستخط کرکے ٹینڈر کروائے ۔ اور اپنے کاروباری پارٹنروں کو بھی میرا لائسنس حوالہ کیا ۔ اور بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کے فنڈ ہضم کر لئے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جے یو آئی ایک اسلامی پارٹی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ایسی پارٹی کی صوبائی قیادت ایک کرپٹ آدمی کے پاس ہونا اسلام کی تو ہین کے مترادف ہے ۔ اس لئے جے یو آئی کو چاہیے ۔ کہ وہ کرپٹ اور دھوکے باز قیادت سے جے یو آئی کو آزاد کرکے بے داغ قیادت کے حوالے کریں ۔ انہوں نے نیب ، اعلی عدلیہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ۔ کہ شفاف طریقے سے تحقیقات کیا جائے ۔ اور میرے دستخطوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کروا کر مجھے انصاف دلایا جائے ۔ اور جعل سازوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ اگر ان میں سے ایک دستخط بھی اصل نکلا ۔ تو میں ہر سزا کیلئے تیار ہوں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میں نے تھانہ اوچ میں اُن کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن باوجود میرے اصرار اور درخواست کے ایف آئی آر درج نہیں کیا گیا ۔ جبکہ دوسری طرف پاک پی ڈبلیو ڈی ریکارڈ نہیں دیتی ۔ انہوں نے کہا ، کہ نیب اس بات کی تحقیقات کرے ۔ کہ اتنے کم عرصے میں مولانا گل نصیب اور زرنصیب کے پاس بھاری سرمایا کہاں سے آیا ۔Image may contain: 1 person, sitting

Facebook Comments