62

اب میں 100مساجد تعمیر کروں گا کیونکہ۔۔۔‘ بابری مسجد شہید کرنے والے اس شخص نے اسلام قبول کر کے سب سے بڑا اعلان کردیا

 ’اب میں 100مساجد تعمیر کروں گا کیونکہ۔۔۔‘ بابری مسجد شہید کرنے والے اس شخص نے اسلام قبول کر کے سب سے بڑا اعلان کردیا

نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک)آج سے 25 سال قبل جب ہندو شدت پسندوں کے ایک بڑے ہجوم نے بابری مسجد پر حملہ کیا تو ان میں بلبیر سنگھ نامی ایک نوجوان بھی شامل تھا، بلکہ یوں کہئیے کہ وہ ان جنونیوں کی قیادت کرنے والوں میں سے ایک تھا۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ یہ شخص، جو مسلمانوں سے شدید نفرت رکھتا تھا، بابری مسجد پر حملے کے چند ماہ بعد ہی اپنے گمراہی پر مبنی نظریات سے تائب ہوگیا اور اسی دین کو قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا کہ جس کی دشمنی اس کا اوڑھنا بچھونا تھی۔ بلبیر سنگھ ماضی کا قصہ ہوگیا، اب اس کا نام محمد عامر ہے، جو ناصرف اسلام کا پرجوش مبلغ ہے بلکہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ وہ 100 مساجد تعمیر کرے۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق محمد عامر نے اپنے حالات زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا ”میں راجپوت ہوں، میری پیدائش پانی پت کے قریب ایک چھوٹے سے گاﺅں میں ہوئی۔ میرے باپ کا نام دولت رام تھا۔ مسلمانوں کے لئے اس کے دل میں اچھے جذبات تھے اور وہ ہمیشہ ان کے بھلے کی کوشش کرتا تھا۔ جب میں دس سال کا تھا تو ہمارا خاندان گاﺅں سے پانی پت شہر منتقل ہوگیا۔ اسی شہر میں پہلی بار مجھے راشٹریا سوائم سیوک سنکھ (آر ایس ایس) میں شمولیت کا موقع ملا اور میں شیو سینا کا رکن اور شدت پسند ہندو بن گیا۔میں نے اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور تاریخ، انگریزی اور سیاسیات کے مضمون میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ شیو سینا کی تعلیمات نے میرے دل میں اس احساس کو گہرا کردیا کہ مسلمانوں نے باہر سے آکر ہمارے دیش پر قبضہ کیا۔ جب دسمبر کے پہلے ہفتے میں ہم ایودھیا کے لئے روانہ ہوئے تو میرے دوست ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے ’کچھ کئے بغیر واپس نہیں آنا۔

Facebook Comments