89

ڈاکٹر طاہر القادری کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جاری،راناثنااللہ اورشہبازشریف کے ا ستعفے کے مطالبے میں 7جنوری تک توسیع

  لاہور( آوازچترال)لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی سربراہی میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاﺅن کو بدترین دہشت گردی، ختم نبوتﷺکے قانون میں ہونے والی ترمیم کی پرزور مذمت کی گئی  ،اعلامیے میں راناثنااللہ اورشہبازشریف کے ا ستعفے کے مطالبے میں 7جنوری تک توسیع کی گئی ہے جبکہ 8 جنوری کو سٹیرنگ کمیٹی کا دوبارہ اجلاس ہوگا جو آئندہ کے لائحہ عمل کااعلان کرے گی۔

لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں اس اے پی سی میں شامل ہونے والی تمام جماعتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں اس دس نکاتی اعلامیے   کی تیاری میں سب جماعتوں کے نمائندوں نے حصہ لیا ۔پریس کانفرنس کے دوران پہلے پانچ نکات پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور اگلے پانچ نکات پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے پیش کئے۔قرارداد میں پیش کئے گئے اعلامیے کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاون ریاستی دہشت گردی کابدترین واقعہ ہے ہم سانحہ ماڈل ٹاون اور ختم نبوت ﷺکے قانون میں تبدیلی کی پرزورمذمت کرتے ہیں ۔اعلامیے میں راناثنااللہ اورشہبازشریف کے ا ستعفے کے مطالبے میں 7جنوری تک توسیع کی گئی ہے جبکہ 8 جنوری کو سٹیرنگ کمیٹی کا دوبارہ اجلاس ہوگا جو آئندہ کے لائحہ عمل کااعلان کرے گی۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہبازشریف ودیگرملزمان کے برسراقتداررہتے ہوئے شفاف تحقیقات ممکن نہیں ۔اے پی سی   اعلامیے ہے کہ شہداکے و ر ثا3سال میں صرف جسٹس باقرنجفی کی رپورٹ حاصل کرسکے باقرنجفی رپورٹ میں شہبازشریف اورراناثناللہ کوذمہ دارٹھہرایاگیا ہے، 125 پولیس افسران کے سمن ہونے کے باوجودایک بھی گرفتارنہیں کیاگیا واضح ہوگیاکہ حکومت انصاف کی فراہمی میں مکمل طورپرناکام ہوچکی۔اے پی سی کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاون میں شہیداورزخمی ہونےوالے پا کستان کے شہری تھے انصاف کے حصول کیلئے جدوجہدکرناتمام جماعتوں کی ذمہ داری ختم نبوتﷺ کے حلف نامے میں تبدیلی کے قانون میں ہونے والی ترمیم میں نواز شریف اور ن لیگ بطورجماعت ملوث ہے ،ابھی تک اس ترمیم میں شامل لوگوں کے نام بھی سامنے نہیں لائے گئے،جب تک ان کو سزانہیں دی جائے گی اس وقت یہ تنازع اپنی جگہ پر رہے گا۔اے پی سی میں تمام صوبائی اسمبلیوں ا  ور سینٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں ملوث شہباز شریف اور رانا ثنااللہ کے استعفوں کے مطالبے پر مبنی قراردادیں منظورکروائیں،اے پی سی میں چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی گئی ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں انسانیت ،سٹیٹ کے خلاف اور پبلک کے خلاف سنگین جرم پر سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے قتل انسانی کی اس سانحے کی صیحح اور مکمل تفتیش کے لئے غیر جانبدار جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم دیں جس کی مانٹیرنگ سپریم کورٹ کا ایک معزز جج خود کرے ۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی اندرونی اور بیرونی دباﺅکے تحت سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے ملزمان اور قومی دولت لوٹنے والے شریف خاندان کو کسی قسم کا این آراو نہ دیا جائے گاکو ئی ماوراے قانون ریلیف دیا گیا تو قوم اسے ہر گز قبول نہیں کرے گی۔
آل پارٹیز کی کانفرنس میں بنائی گئی سٹیر نگ کمیٹی میں پاکستان پیپلزپارٹی ،پاکستان تحریک انصاف،عوامی مسلم لیگ،پاکستان مسلم لیگ ق،مجس وحدت المسلمین،پاک سرزمین پارٹی اور مسلم کانفرنس کے نمائند ے شامل ہوں گے ،کمیٹی کے سیکرٹری جنرل اورکوآرڈینیٹر عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈاپور اور سردار محمد لطیف کھوسہ سٹیرنگ کمیٹی کے لیگل ایڈوائزرہوں گے۔

عوامی تحریک کے سربراہ نے پریس کانفرنس کے دوران   کہنا تھا کہ  کہ اب ماڈل ٹاؤن ہمارا مقدمہ نہیں رہا، آج سے اے پی سے اسے اون کرلے گی، یہ تمام جماعتوں کا مشترکہ مقدمہ ہے، اب اس پر فیصلے، لائحہ عمل اور اقدام بھی مشترکہ ہوگا، یہ لوگ گرفتار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ شریف برادران کہتے ہیں اے پی سی میں شامل پارٹیاں کسی کا کندھا استعمال کررہی ہیں، وہ بتائیں کہ سعودیہ میں کس کا کندھا استعمال کررہے ہیں۔طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اب معاملات قومی قیادت نے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں، اب عوامی عدالت بھی لگ سکتی ہے، احتجاج بھی ہوسکتا ہے، دھرنا بھی ہوسکتا ہے، آئین و قانون کے دائرے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، اب اگر دھرنا ہوگا تو آپ کے اقتدار کو مرنا ہوگا، آپ بچ نہیں سکتے، ہمارے ساتھ آئین و قانون اور جمہوریت کی طاقت ہے، پاکستان کے کروڑوں شہریوں کی طاقت ہے، ااور سب سے بڑھ کر اللہ کی طاقت ہے۔

Facebook Comments