106

داد بیداد …….. شیطانی چکر………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

  • کیا سعودی عرب اور ایران کے درمیاں جنگ ہونے والی ہے؟ دو بڑے واقعات کے بعد بین الاقوامی میڈیا میں سعودی عرب اور ایران کے درمیاں ممکنہ جنگ کا نقشہ دکھایا جارہا ہے پہلا بڑا واقعہ یہ تھا کہ امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیل کی دارالحکومت تسلیم کرکے مسلمانوں کو مشتعل کیا دوسرا بڑا واقعہ یہ تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے امریکی فیصلے کو مسترد کردیا امریکہ اور اسرائیل کے حق میں صرف 9ووٹ آئے ان میں سے دو ووٹ اُن کے اپنے تھے دو ووٹ برطانیہ اور فرانس کے تھے 5ووٹ ایشیائی ممالک کے تھے ان میں بھارت ، سعودی عرب ،مصر ، بحرین اور کویت شامل تھے ان دو اہم واقعات کے پسِ منظر میں ایک شیطانی چکر شروع ہو ا ہے یہ وہی شیطانی چکر ہے جو مارچ 1990ء میں شروع ہوا تھا چکر یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب اور ایران کے درمیاں جنگ کا ماحول بنانا شروع کیا ہے بلکہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں دونوں ممالک کے دفاعی حکام کی توجہ کیلئے باقاعدہ Tip اور اشارے دیے جارہے ہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت لکھا جارہا ہے کہ ایران کے پاس بہترین ڈرون جہاز ہیں روس کی ٹیکنالوجی کے جنگجو طیارے بہترین حالت میں ہیں ایران کا میزائل سسٹم بہت طاقتور ہے ایران جنگ کے پہلے دو دنوں میں سعودی عرب کے بجلی اور پانی کی سپلائی کا پورا نظام تبا ہ کرسکتا ہے خلیج فارس اور ابنائے ہرمز کی طرف سفر کرنے والے بحری جہازوں کو بارودی سرنگوں سے اڑا سکتا ہے ساتھ ساتھ سعودی عرب کوTip اور اشارہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ تمہارے پا س امریکہ کا دیا ہوا ایف 15،ایف 16 اور ایف 22جنگی

    طیاروں کا طاقتور بیڑا ہے تم ایران کے ایٹمی تنصیبات ، گیس اور تیل کی ریفائنری، دفاعی تنصیبات اور انفراسٹر کچر کو آسانی سے نشانہ بنا سکتے ہو یہ ایسا منظر ہے جیسے بٹیروں ، مرغوں ، بیلوں اور کتّوں کو لڑانے میں ماہر کھلاڑی داؤ پیچ آزماتے ہیں امریکی یا برطانوی حکام اور دانشور مسلمانوں کو ’’جانور‘‘ ہی سمجھتے ہیں مارچ 1990ء سے جولائی 1990ء تک کے اخبارات اُٹھائیں اور چند گھنٹے ماضی کی آغوش میں گزاریںآپ کو ایک کہانی ان اخبارات میں ملے گی واشنگٹن پوسٹ، گلف نیوز، خلیج ٹائمز، کیہان انٹرنیشنل یا برطانیہ اور پاکستان کا کوئی اخبار اُٹھائیں عراق اور کویت کی لڑائی کا پس منظر مطالعہ کریں مارچ 1990ء میں کویت نے عراق سے مطالبہ کیا کہ عراق، ایران جنگ کے دوران سرحدی علاقوں میں تیل کی دو تنصیبات امریکہ کی ضمانت پر تمہیں دئیے گئے تھے وہ مجھے واپس کرو 8 سالہ جنگ 1988ء میں ختم ہوگئی یہ کنوئیں ایران کے خلاف جنگ کے لئے تمہیں دئیے گئے تھے عراق نے امریکہ سے مدد طلب کی ، امریکہ نے کہا تیل کے کنوئیں واپس نہ کرویہ تمھاری ملکیت ہیں اگر کویت نے’’گڑ بڑ ‘‘ کیا تو حملہ کرکے کویت پر قبضہ کرو ’’ قدم بڑھاؤ صدام حسین ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ 30اگست 1990ء کی رات صدام حسین نے حملہ کیا اور دو گھنٹوں کے اندر کویت پر قبضہ کر لیاکویت کے امیر کو امریکہ نے سعودی عرب میں پناہ دیدی اور کویت پر عراق کا قبضہ ختم کرنے کیلئے ’’ آپریشن ڈیزرٹ اسٹارم‘‘ کے نام سے جنگ چھیڑنے کا اعلان کیا ، صدام حسین نے اس کو اُمّ الحرب یعنی ’’ مادر آف آل وارز‘‘ کا نام دیااس جنگ کے بعد امریکہ نے کویت ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مستقل فوجی اڈے قائم کئے2017ء میں امریکہ کا بحری بیڑہ دوحہ میں ہے35ہزار فوجی جدید سامان جنگ اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہوکر سعودی عرب سے لیکر ایران کی سرحد تک اپنے فوجی اڈوں میں جنگ کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور وائٹ ہاؤس کو امریکی تھینک ٹینکوں نے مشورہ دیا ہے کہ اپنی فوجی طاقت کو خلیج میں مزید مضبوط کرو، سعودی عرب اور ایران کے درمیاں جنگ چھیڑنے کے بعد اپنا کردار ادا کرو جنگ کا جو نقشہ بن رہا ہے وہ یہ ہے کہ ابتدائی دنوں میں سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کا ڈھانچہ تباہ کردینگے اس کے بعد امریکی فوج حرکت میں آئیگی سعودی عرب میں مقامات مقدسہ کا کنٹرول سنبھالے گی اور ایران میں ایٹمی تنصیبات اپنے ہاتھ میں لے کر ایران کو بھی عرا ق اور لیبیا کی طرح برباد کرکے رکھ دے گی اس طرح خطے میں اسرائیل کا آخری دشمن ختم ہوجائے گااو ر اسرائیل کی سرحد کو ایران تک توسیع دی جائے گی ڈاکٹر چوسو ڈوسکی امریکی یونیورسٹی میں عمرانیات کے پروفیسر ہیں اور سموئیل ہنٹنگٹن کی طرح عالمی شہرت یافتہ دانشور ہیں انہوں نے 1998ء میں گریٹر اسرائیل کا ایسا ہی نقشہ شائع کیا ہے جس میں بھارت اور اسرائیل کی سرحدیں ملی ہوئی ہیں درمیاں میں پاکستان بھی نہیں ہے اب نیاشیطانی چکر شروع ہوا ہے مسلمانوں کی دو بڑی کمزوریاں ہیں پہلی کمزوری یہ ہے کہ یہ ان پڑھ قو م سے تعلق رکھتے ہیں علم کے دشمن ہیں دوسری کمزوری یہ ہے کہ ایک کلمہ گو دوسرے کلمہ گو کا دشمن ہے ان کمزوریوں سے امریکہ اور اسرائیل بجا طور پر فائدہ اُٹھار ہے ہیں شیطانی چکر میں پہلے میڈیا آتا ہے پھر اسلحہ کے تاجرآتے ہیں پھر قرض دینے والے بینک آتے ہیں پھر تباہی آجاتی ہے
    لیتا ہوں مکتبِ غمِ دل میں سبق ہنوز
    مگر یہ کہ ’’رفت‘‘ گیا اور ’’بود‘‘ تھا

Facebook Comments