107

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ چترال اور گولین گول ہائڈل پراجیکٹ کی افتتاح کے بعد مستوج سب ڈویژن کے عوام کو بجلی نہ ملی تو عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے ۔ سید سردار حسین شاہ

چترال (نمائندہ آوازچترال) چترال سے صوبائی اسمبلی کے رکن سید سردار حسین شاہ نے صوبائی حکومت کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنوری کے پہلے ہفتے میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ چترال اور گولین گول ہائڈل پراجیکٹ کی افتتاح کے بعد مستوج سب ڈویژن کے عوام کو بجلی نہ ملی تو عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے جن کی قیادت وہ خود کریں گے اور اس صورت میں صورت حال کسی کے قابو میں نہیں رہے گی۔جمعہ کے روز بونی کے مقام پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کے زیر اہتمام ریشن کے مقام پر پیڈو کے 4.2میگاواٹ بجلی گھر کی سیلاب بردگی کے بعد گزشتہ تین سالوں سے اپر چترال کے 21ہزار صارفین بجلی سے محروم ہیں جبکہ ان کو بجلی کی فراہمی صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہاکہ گولین گول بجلی گھر سے چترال کے لئے 36میگاواٹ بجلی کی منظوری سابق وزیر اعظم نواز شریف نے دی تھی جو چترال ٹاؤن اور مضافات میں پیسکو کے صارفین کی ضرورت پورا کرنے کے بعد بھی اتنی مقدار میں بچ جاتی ہے کہ اپر چترال کے 21ہزار صارفین کی مہیا جاسکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہا رکیا کہ پیڈو اس معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے اور ابھی تک پیسکو کے ساتھ معاہدے کرکے اس سے بجلی خریدنے کے لئے بات بھی شروع نہیں کی۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی طرف سے سیلاب زدہ ریشن بجلی گھر کی بحالی کا کام شروع بھی نہیں ہوا جبکہ اسے بحال میں چار سال سے ذیادہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اتنی طویل مدت تک اس کے صارفین کو انتظار میں نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی اسمبلی میں بھی اس بارے میں ایک قرارداد پاس ہوئی تھی کہ ریشن بجلی گھر کی تعمیر نو تک پیسکو کے گولین گول پراجیکٹ سے بجلی خرید کر اپر چترال کو دی جائے لیکن ا س پر بھی کوئی عمل نہیں ہوا۔

Facebook Comments