91

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی فیصلہ مسترد کردیا ، رکن ممالک نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دے دیا

  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی فیصلہ مسترد کردیا ، رکن ممالک نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دے دیا

نیویارک (  آن لائن) مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے پر امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں رکن ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس کو اسرائیل کا دارلخلافہ قرار دینے کا امریکی فیصلہ مسترد کردیا ،۔ جنرل اسمبلی کے  اجلاس میں امریکی فیصلے کے خلاف یمن اور ترکی کی مشترکہ قرارداد پر ووٹنگ ہو ئی جس میں128 ممالک نے قرارداد کی حمایت,  امریکہ اور اسرائیل سمیت 9 ممالک نے   قرارداد کی مخالفت کی جبکہ 35 ممالک نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔تفصیلات کے مطابق القدس کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے ، اس اجلاس میں یمن اور ترکی جانب سے امریکی فیصلے کے خلاف پیش کی گئی قراردادپرووٹنگ ہو گی۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہناتھا کہ  ہ اقوام متحدہ فلسطین کے لوگوں کی آخری امید ہے ٹرمپ کا فیصلہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے، امریکہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ دنیا برائے فروخت نہیں ، فلسطینی عوام کی قانونی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ سیکیورٹی کونسل میں قراردادکوویٹوکرناامریکا کی بڑی غلطی تھی، اس طرح کے رویے سے قیام امن کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہوگا۔ فلسطینیوں کی حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کابنیادی حصہ ہے اور پاکستان فلسطینیوں کےساتھ کھڑا ہے، پاکستانی حکومت اور عوام فلسطینی عوام کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی مندوب کا کہناتھا کہ اسرائیل نہتے فلسطنیوں کو خون میں نہا رہا ہے جبکہ ان مظالم میں امریکہ اسرائیل کی مکمل پشت پناہی کر رہا ہے، امریکہ نے اس سے قبل40مرتبہ اسرائیل کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کیا ہے۔ فلسطین تمام مسلمانوں اور امن پسند لوگوں کے دل و دماغ میں بستہ ہے ۔ ایران اس مشکل وقت میں فلسطینی مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی مندوب کا کہنا تھا کہ یہودیوں کی مقدس کتاب بائبل میں القدس کا تذکرہ600سے زائد مرتبہ آیا ہے، یروشلم اسرائیلی تاریخ کا حصہ ہے۔جنیوا کی قرارداد اور اقوام متحدہ کی کوئی بھی قرارداد ہمیں یروشلم کے مطالبے سے پیچھے نہیں کر سکتی،آپ لوگ اندھے ہیں اور فلسطینیوں کی کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپ تمام لوگ فلسطینیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ اسرائیل پر حملے اور دیگر معاملات پر اقوام متحدہ کا دوہرا معیار ہمیں قابل قبول نہیں ہے۔عرب ممالک نے کئی مرتبہ اسرائیل کی امن کی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیلی شہریوں پر میزائیل حملے ہوئے، ہماری گلیوں کو خون میں نہلایا گیا مگر اقوام متحدہ اس موقعے پر خاموش ہورہا ۔جن لوگوں نے اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کی ہے وہ دہشت گردوں کے سپانسر ہیں ۔ یمن القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہا ہے مگر اقوام متحدہ اس کے حوالے سے کوئی آواز بلند نہیں کرتا۔ اسرائیلی حکومت اپنے شہریوں پر ہونے والے حملوں کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔ آج کی قرارداد تاریخ مٰیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نکی ہیلے کا کہنا تھا کہ ہم اقوام متحدہ کے ذریعے دنیا بھر کے ممالک میں بھوکے افراد کو خوراک اورکپڑے دیتے ہیں ، امریکہ اقوام متحدہ کو فنڈز دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ1995ءکے قانون کے تحت کیا گیا ہے اور امریکی مفادات کے تحت کیا گیا ہے، اس فیصلے سے قیام امن کے پالیسیوں کو خطرہ پیدا نہیں ہوگا، دنیا کے کئی ممالک امریکی مداخلت ہی کی بدولت اپنے مسائل حل کرتے ہیں اور اس قرارداد کے ذریعے امریکہ کی توہین کی گئی ہے۔اقوام متحدہ کی اس قرارداد کی منظوری بھی امریکہ کو اپنے فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فلسطین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم امریکاکی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں ، ٹرمپ کے فیصلے کے بعدامریکاثالث کی حیثیت کھوچکاہے۔ امریکی فیصلے سے قبل سلامتی کونسل میں امریکا نے قراردادویٹو کردی تھی جبکہ سلامتی کونسل کے15میں سے 14ارکان نے قراردادکی حمایت کی تھی۔جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وینزیویلا کے صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازعہ کا دو ملکی حل نکالنا ہوگا اور اسرائیلی فورسز کو 1967ءسے پہلے کی سرحدوں تک محدود کرنا ہوگا ، ہم فلسطینی عوام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حل پیش کرتے ہیں اور ہمارا مطالبہ کہ القدس کو فلسطین کا دارلحکومت قرار دیا جائے۔

Facebook Comments