51

ضلع کونسل چترال خواتین ممبران نے سات دن کی ڈیڈ لائن ۔ اُن کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتی کا ازالہ نہ کیا جائے ۔ ورنہ ضلع بھر کی بلدیاتی نمایندگان خواتین کو اس تحریک میں شریک کریں گی

چترال ( نمائندہ آواز چترال ) ضلع کونسل چترال میں فنڈ کی غیر مساویانہ تقسیم کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین ممبران نے سات دن کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے خبردار کیا ہے ۔ کہ اُن کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتی کا ازالہ نہ کیا گیا ۔ تو وہ ضلع بھر کی بلدیاتی نمایندگان خواتین کو اس تحریک میں شریک کریں گی ۔ اور بھر پور احتجاج کیا جائے گا ۔گذشتہ روز ضلع کونسل کے احاطے میں اُ ن کے احتجاجی کیمپ میں کریم آباد سے کونسلر ذولیخہ بی بی ، ہر چین لاسپور سے زرنگار ، ایون سے نسیم بی بی ، گرم چشمہ سے بی بی آرا و دیگر نے شرکت کی ۔ اور اُن کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر ممبر ضلع کونسل صفت گل اور حصول بیگم نے کہا ۔ کہ ضلع کونسل میں اُن کے ساتھ مسلسل حق تلفی ہو رہی ہے ۔ اُن کی آواز اور احتجاج کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی جارہی ۔ اس سے یہ صاف ظاہر ہو تا ہے ۔ کہ ضلع کونسل کے ذمہ داروں کے ایجنڈے میں خواتین کے حقوق کی پامالی کو اولیت حاصل ہے ۔ جو من پسند خواتین ممبران ہیں ۔ وہ اپنے حقوق بلا تاخیر اور بلا روک ٹوک حاصل کر لیتی ہیں ۔ لیکن اپوزیشن خواتین ممبران کو دُھتکارا جاتا ہے ۔ اور یہ ظلم وجبر وہ لوگ کر رہے ہیں ۔ جو دین اسلام کے علمبردار ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمیں یہاں تک کہا جا رہا ہے ۔ کہ آپ اپوزیشن میں ہیں ،اس لئے آپ کو فنڈ دینا یا نہ دینا ہماری مرضی ہے ۔ جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے ۔ کہ اس ملک اور ضلع چترال میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ اور جو لوگ جتنے بڑے دعوے کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ناانصاف اور اقربا پروری کو فروغ دینے والے ہیں ۔ صفت گل نے کہا ۔ کہ ہمیں اے ڈی پی سکیم کیلئے چہیتوں کی طرح 13لاکھ ملیں یا اپوزیشن ہونے کی جرم میں 8لاکھ روپے کوئی معنی نہیں رکھتے ۔ لیکن ہم چترال کی اُن تمام خواتین کو چترال کی ضلعی حکومت کا وہ چہرہ دیکھا نا چاہتی ہیں ۔ جو ضلع کونسل کے ذمہ داروں نے اُن سے روا رکھا ہے ۔ اور اُن کا یہ احتجاج اپنے حقوق کے حصول تک جاری رہے گا ۔

Facebook Comments