52

عمران خان ’نائٹ آﺅٹ‘ جہانگیر ترین کلین بولڈ! سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا

 

اسلام آباد (  آن لائن) سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کو نااہل قرار دینے سے متعلق مسلم لیگ (ن) کے رہنماءحنیف عباسی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں ناٹ آﺅٹ قرار دیا ہے البتہ جہانگیر ترین کو بے ایمان شخص قرار دیتے ہوئے تاحیات نااہل قرار دیدیا گیا ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان آف شور کمپنی کے شیئر ہولڈر ہیں اور نہ ہی ڈائریکٹر ہیں جبکہ لندن فلیٹ نیازی سروسز لمیٹڈ کا اثاثہ تھے۔ عمران خان نے بنی گالہ کی اراضی فیملی کیلئے خریدی جبکہ نیازی سروسز ظاہر کرنا ان پر لازم نہیں تھا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار دیگر جج صاحبان کیساتھ فیصلہ سنانے کیلئے کمرہ عدالت میں آئے تو فیصلہ سنانے سے پہلے تاخیر پر معذرت کی اور وجہ بھی بتائی کہ فیصلے کے پہلے صفحے پر غلطی تھی جس کے باعث 250 صفحے پڑھنے پڑے اور غلطی کو ٹھیک کرایا گیا۔فیصلے میں تحریک انصاف کیلئے غیر ملکی ممنوعہ فنڈنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان فارن فنڈنگ کے معاملے کو دیکھنے اور اثاثوں کی چھان بین کا پابند ہے جبکہ درخواست گزار اس سارے معاملے سے متاثر نہیں ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان آف شور کمپنی کے شیئر ہولڈر ہیں اور نہ ہی ڈائریکٹر ہیں، لندن فلیٹ نیازی سروسز لمیٹڈ کا اثاثہ تھے جبکہ عمران خان نے بنی گالہ کی اراضی خاندان کیلئے خریدی۔پی ٹی آئی رہنماءجہانگیر ترین سے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا کہ جہانگیر ترین انسائیڈر ٹریڈنگ کے مرتکب ہوئے اور پھر اعتراف جرم کیا اور جرمانہ بھرا۔ انہوں نے غلط بیانی کی اس لئے وہ ایماندار شخص نہیں ہیں، وہ صادق اور امین نہیں رہے، انہیں پارلیمانی سیاست سے تاحیات نااہل قرار دیا جاتا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ سنانے سے پہلے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے  کورٹ روم نمبر 1 کے باہر پولیس اہلکاروں کوتعینات کیا گیا۔سپریم کورٹ کی عمارت کے گرد بھی سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے اور اضافی خاردار تاریں بچھانے کے علاوہ 700 پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا جبکہ ریڈ زون میں بھی سیکیورٹی ہائی الرٹ کی گئی۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماءحنیف عباسی نے 2 نومبر 2016ءکو سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی جس میں عمران خان پر لندن فلیٹ چھپانے اور جہانگیر ترین پر اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔حنیف عباسی نے اپنی پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ دونوں نے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں اور کاغذات نامزدگی میں سچ نہیں بولا، جہانگیر ترین پرسٹاک مارکیٹ میں انسائیڈر ٹریڈنگ کا بھی الزام ہے ۔ اس لئے انہیں شق 62 کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔عمران خان نے 30 نومبر کو پہلا تحریری ثبوت عدالت میں جمع کرایا جبکہ 28 ستمبر کو جمائمہ خان کے دو خطوط بطور ثبوت پیش کئے۔ دوران سماعت عدالت نے متعدد بار عمران خان اور جہانگیر ترین کے وکلاءسے جوابات طلب کئے۔سپریم کورٹ نے اس کیس پر 405 دن میں 50 سماعتیں کیں اور 101 گھنٹے کارروائی ہوئی جس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت مکمل کر کے 14 نومبر 2017ءکو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

Facebook Comments