82

4مقدمات میں دہشت گردی دفعات ختم کرنے کی استدعامسترد زرداری کے ہوتے پی پی سے اتحاد ممکن

4 مقدمات میں دہشت گردی دفعات ختم کرنے کی استدعامسترد زرداری کے ہوتے پی پی سے اتحاد ممکن نہیں :عمران

اسلام آباد (نامہ نگار + این این آئی) اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی چار مقدمات میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت لگائی گئی دفعات کو ختم کرنے سے متعلق درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے ملزم عمران خان کی عبوری ضمانت میں آٹھ روز کی توسیع کر دی ہے اور انہیں 19دسمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے عمران کے وکیل بابر اعوان کو حکم دیا ہے کہ وہ اگلی سماعت پر اپنے موکل کی عبوری ضمانت میں توسیع کے بارے میں دلائل دیں گے۔ عمران کے وکیل نے ان درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور اس معاملے کو دہشت گردی کا رنگ دینا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مقدمات میں جن گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں ان میں سے کسی ایک نے بھی عمران خان کا نام نہیں لیا کہ وہ ان مقدمات میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان مقدمات کو سیشن جج کی عدالت میں بھجوا دیا جائے۔ سرکاری وکیل نے ان درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس دھرنے کا مقصد منتخب حکومت کو گرانا تھا۔ ملزم عمران خان نہ صرف اپنے کارکنوں کو سرکاری عمارتوں پر حملہ کرنے سے متعلق اکساتے رہے بلکہ سرکاری افسروں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیتے تھے۔، حملوں میں 26پولیس افسران و اہلکار زخمی ہوئے۔ بابر اعوان نے کہا کہ اگر بیان پر دہشتگردی کے مقدمات بنانے ہیں تو حکومتی وزرا پر بھی بننے چاہئیں، کیا بنٹے برآمد کر کے سزائے موت دی جاسکتی ہے؟ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل میں فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں کہیں بھی دہشتگردی کا عنصر نہیں ملا۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ اس دھرنے کے دوران ملزم عمران خان اور ان کی جماعت کے ایک رہنما عارف علوی کی ٹیلی فونک گفتگو بھی سامنے آئی ہے جس میں وہ اپنے کارکنوں کا پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہونے کے بارے میں بتا رہے تھے۔ عمران خان کے وکیل نے اس پر اپنا اعتراض ریکارڈ کرایا کہ انہیں بھی اس بارے میں آگاہ کیا جائے کہ سرکاری وکیل نے اس گفتگو کی ٹیپ کہاں سے حاصل کی؟ سرکاری وکیل نے عمران خان کے وکیل کے بارے میں کہا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ میں کوئی سقم موجود تھا تو بابر اعوان سینٹ کے رکن کے ساتھ ساتھ وزیر قانون بھی رہے ہیں تو انہیں اس وقت اس کی اصلاح کرنی چاہیے تھی۔ دوسری طرف عدالت پیشی کے بعد عمران نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ سابق صدر کے ہوتے ہوئے پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی میں کسی طرح کا اتحاد نہیں ہوسکتا، جو بھی حکومت آتی ہے وہ ریاست کے وسائل کو طاقت کے لئے استعمال کرتی ہے، ماڈل ٹائون میں جس طرح گولیاں چلائی گئیں وہ کسی طور قانون کے مطابق نہیں، (ن) لیگ والوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ چور ہیں تو باقی بھی چور ہیں، کوشش کی گئی کہ کسی طرح ڈرا دھمکا کے میرا منہ بند کرایا جائے اور میں پیچھے ہٹ جائوں۔ کسی جمہوری ملک میں پولیس نہتے شہریوں پر گولیاں نہیں چلاتی لیکن ماڈل ٹائون میں عوام پر گولیاں چلائی گئیں، ماڈل ٹائون واقعہ جیسی جمہوریت میں کوئی مثال نہیں ملتی، 14 نہتے لوگوں کو قتل کیا گیا اور 100 لوگوں کو گولیاں ماری گئیں یہ سارے پاکستانیوں کا کیس ہے وہ پاکستانی تھے اور انسان تھے ان کے حوالے سے 16 جماعتیں متفق ہیں۔ مجھ پر الیکشن کمشن اور سپریم کورٹ میں کیسز سمیت دہشت گردی کے کیسز کیے گئے، کوشش کی گئی کہ کسی طرح ڈرا دھمکا کے میرا منہ بند کرایا جائے اور میں پیچھے ہٹ جائوں۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ میرا اور پاناما کیس ایک جیسا ہے، پاناما کیس میں نوازشریف نے 30 ہزار کروڑ روپیہ باہر بھیجا، میرے کیس میں 60 لاکھ کے فلیٹ کی بات ہے جس میں 60 دستاویزات پیش کیں۔ لیکن نوازشریف نے پورے کیس میں صرف ایک قطری خط دیا۔ اگر اقتدار کی جنگ ہوتی تو پیپلزپارٹی اور نوازشریف کے ساتھ مل جاتا لیکن یہ کرپشن کے خلاف جنگ ہے تو زرداری کی پارٹی سے کیسے اتحاد کرلوں

Facebook Comments