116

گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر

Image may contain: 1 person, beardکون ظالم شاعر ِمشرق کے کلام کے اعجاز و ایجاز ، گیرائی و گہرائی اور پَہنائی و الہامی ہونے سے انکاری ہے۔ یہ بھی مسلم کہ ان کی شاعری فلسفہ ،منطق، کلام ، رمز و کنایہ اور دقیق علمی نکتہ سنجیوں سے مملو اور ‘لت پت’ ہے۔ اس امرسے بھی انکار کی گنجائش نہیں، کہ نہ صرف ان کی شخصیت متین تھی ، بلکہ شاعری بھی ترنجبین ہے۔اس میں بھی کلام نہیں، کہ اقبال ؒ ” اُمت مرحومہ ” کے سب سے بڑے شاعر تھے۔ یہ بھی تسلیم کرنے میں کوئی باک نہیں ، کہ انھوں نے غمزہ و عشوہ و ادا پر وارفتہ، مئے و نشاط کی دلدادہ ،جام و سبو پر زندہ، طاؤس و رباب کی پروردہ، جمال ِ ِ آبدار کے حضور خمیدہ ، شمیم ِجسم ِیار پر فریفتہ اور نکہت ِ زلف ِ جانان پر ترسیدہ و لرزیدہ اردو شاعری کو نہ صرف الگ رنگ و آہنگ سے نوازا بلکہ اسے آئینہ حق سے بھی روشناس کرکے دم لیا۔ لہٰذا اس میں کلام کی گنجائش نہیں ،پر ہمیں تو مقام عنوان پر براجمان شعر کا “بخیہ ادھیڑنا “ہے۔ ہمارے نزدیک یہ شعر فلسفہ و منطق و غیرہ الجھنوں سے پاک سیدھا سادھا ، صاف ستھرا اور اُجلا دُھلا شعر ہے۔ جس میں اقبالؒ نے اَفلاس کی ماری اور اضطراب میں مبتلا قوم کو “شکار” کے ذریعے “قوت لایموت” حاصل کرنے کا گر سیکھائے ہیں ۔ یہاں” گیسو” سے مراد صفات باری تعالیٰ ہیں نہ طرّہ جانان۔۔۔جن لوگوں نے بات اِس مجاز کی طرف لے جانے کی کوشش کی ہے ، لگتا ہے کہ ان کی “سخن دانی” میں چھید پڑ گئے ہیں اور وہ اپنی خود ساختہ تشریح سے نہ صرف شعر بلکہ شاعر اور اس کی قوم کے ساتھ بھی زیادتی کے مرتکب ہوئے ہیں۔۔۔ تو بتا رہا تھا کہ یہاں “گیسو” سے مراد کسی جانور کی ہیئت پر بناوہ گھونگٹ یا نقاب ہے جو شکاری شکار کو فریب دیکر قریب جانے اور” وار کے خطا “نہ جانے کے لیے پہنا کرتا ہے۔ اور “تابدار کرنے” سے مراد ‘مشاہدہ تجلیات’ ہے نہ اسے زلف ِ یار میں نکھار کا مطالبہ قرار دیا جاسکتا ہے ۔ بلکہ شاعر کہنا یہ چاہتا ہے کہ اس “کلاہ ِ دجل و فریب” اور “نقاب ِ دغا و خَدع” کو محلِ سَراب بنالو، اسے چرند کی کھال اور پرند کے بال سے خوب سجائے جاؤ تاکہ ہرگاہ تم “شکار” کی طرف لپکو یا رینگنے لگو تو تم اسے کوئی “غیر شریر ” جانور ہی محسوس ہونے لگو، اور ذرا بھی اسے محسوس نہ ہو کہ کوئی “انسان کا بچہ ” میری طرف لپک رہا ہے۔ یہ جو ہم نے مصرع اول کی شاندار ” توجیہ الکلام بمالایرضی بہ قائل ” کی ہے، مصرعِ ثانی چیخ چیخ کر ہمار ے ہاں میں ہاں ملا رہا ہے۔ اندازہ لگائیں کہ ” ہوش و خرد شکار کر” سے آخر شاعر کہنا کیا چاہتا ہے؟ کیا اس میں سر مصرع میں بتائے گئے گُر کی مزید وضاحت کے سو ا بھی کچھ ہے؟ ہم نے بیسیوں دفعہ اس پر غور کیا ، دل و دماغ کے دریچے ہر طرف سے وا کرکے اس پر سوچا، پر ہمیں سوائے اس کے کوئی مطلب سوجھائے نہ دیا کہ “تم شکاری گھونگٹ پہن کر پہلے شکار کے ہوش و عقل سلب کرلو۔” “شکار” سے مراد یہاں مَت مارنا اور ہوش اڑانا ہے۔ یعنی اپنی چالبازی اور دغا و فریب کے دام میں اسے یوں گرفتار کرڈالو کہ کسی صورت اس کو سوجھائی نہ دے کہ میرے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے۔اس کے بعد ہی تم کامیاب اور یقینی “شکار کھیل “سکتے ہو۔ دوسرے مصرع کے حصہ ثانی میں “قلب ” کے ساتھ “نظر” کی ترکیب اور لفظ “شکار” کے اعادہ سے ہماری لازوال تشریح میں گڑ بڑ سی پیدا ہورہی ہے، اس سلسلے میں پہلی اور اصح تر بات یہ ہے کہ یہاں پر “نظر” کا لفظ کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے ، جو کسی صورت ” روز اول ” سے رہ گئی ہو اور اصل لفظ “جگر” ہے۔ یا تو شاعر کو اس کی خبر نہ رہی ہو ، اور اقبال جیسے شاعر کے پاس اپنے ہی اشعار کی گردان کرتے رہنے کی فرصت کب تھی؟۔ پھر یہ کام ویسے بھی طبعِ شریف اور ظرفِ لطیف پر نہایت شاق گزرا کرتاہے۔سو اقبالؒ سے متعلق یہ گمان کہ وہ نظرثانی کی سرکھپائی سہہ لیتے تھے، سوئے ظن کے سوا کچھ نہیں ۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انھوں نے تصحیح کی ضرورت محسوس نہ کی ہو کیوں کہ شاعر کا مدعا دونوں صورتوں میں یکساں مبرہن ہے۔ (جس کی دلیل ہم پیش ہی کرنے والے ہیں ) یا پھر نشاندہی کے باوجود ، کاتبِ نامراد نےسستی و کاہلی کی وجہ سے تصحیح کی زخمت سے گریزاں رہا ہو۔ ہماری نظر کے مطابق “نظر ” کی جگہ “جگر” کے آنے سے وزن و بحرکے فساد کے بغیر شعر ہمارے پہنائے خلعت پر موزوں اترتا ہے ۔ بہرحال معاملہ جو بھی ہو، ہمارے نزدیک یہاں اصل لفظ “نظر” نہیں ، بلکہ ” جگر” ہی ہے ، جو یقینا مندرجہ بالا وجوہات میں سےکسی وجہ سے شکل بدل کر “نظر” میں ڈھل گیا ہو گا۔ اگر “جگر” کو کسی صورت آپ مان کے دینے والے نہیں ، حالانکہ کوئی معقول دلیل اس کے رد کرنے کی آپ کے پاس نہیں ہے، تو یہاں اصل لفظ ” ڈکار” مان لیں، یعنی ہڑپ کرجانا، اور ہم یہ بتائے بغیر آپ کو جانے نہیں دیں گے کہ “ڈکار” کو ہم کیونکر درست ماننے لگے ہیں۔ اگر آپ ہماری یہ تاویل اور “تحقیق” من و عن تسلیم کرلیتے تو مزید سرکھپائی کی ضرورت نہ پڑتی، نہ آپ کا وقت برباد ہوتا، مگر ہمیں معلوم ہے کہ آپ اتنی جلدی مان کے دینے والے لوگ نہیں ہیں، اس لیے مجبورا مزید دلائل سے نگاہیں خیرہ کرنا پڑے گا، بھلے سے آپ کا وقت برباد ہو یاسر میں درد ہونا شروع ہوجائے۔ ہماری اس معقول تاویل سے کسی کو اطمینان نہ ہوا ہو ۔۔۔ ہو بھی تو کیسے۔۔۔، تو برسبیل تنزل یہ تسلیم کرنے میں کہ یہاں اصل لفظ “جگر” نہیں “نظر” ہی ہے، اور چاہےآپ یہ کہنے لگ جائیں کہ “کتابت کی غلطی” کی بات ملمع سازی اور سخن طرازی کے سوا کچھ نہیں، پھر بھی ہمارا مدعا سزاوارِ استرداد ہے نہ ہم خود لائق قطعِ ارتباط۔ آپ کے دعویٰ کے مطابق “نظر” کو تسلیم کرتے ہوئے بھی ہم اپنا مدعا باآسانی ثابت کرسکتے ہیں ۔ اگر معاملہ یوں سمجھا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ شاعرِ مشرق قوم کے” شکاریوں ” کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ” جب تم”داؤ” پھینک کر ” وار” کرنے لگو تو سیدھا “نظر” کو نشانہ بناؤ۔” شکار کا دوسری بار اعادہ بجائے خود اس تاویل کی ممد ہے۔ یعنی شاعر شکار کے گُر سیکھاتے ہوئے کہنا چاہتا ہے کہ “تم شکار، کے قلب (دل) اور نظر (آنکھوں) میں سے کسی ایک کو نشانہ بناؤ” تاکہ شکار کا ہاتھ آنا یقینی بن جائے۔ اگر اس کو بھی درست نہیں مانتے، یقینا نہیں مانتے ہوں گے، کیوں کہ آ پ وہم کے شکار قوم کے افراد ہیں، اور خوامخواہ متذبذب ہونا آپ کی سرشت میں شامل ہے، تو سن لیجئے ! اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” فریب سے شکار کے ہوش و عقل کو پراگندہ کرنے کے بعد ، جب کوئی “نخچیر ِبے مایہ “تمھارے ہاتھ لگ جائے ، تو “قلب” اور “نظر” یعنی دل اور آنکھوں کو حقیر جان کر پھینکو مت، بلکہ یہ بھی چٹ کر جاؤ۔” اس صورت میں دوسرے مصرع میں دو مرتبہ استعمال ہونے والا شکار کے لفظ کے پہلے استعمال کو ” چالبازی” اور دوسرے استعمال کو ڈکارنے اور ہڑپ کرنے معنی پر محمول کرنا پڑےگا۔اس سے ایک تو شکم سیری کے دورانیہ میں تھوڑا اضافہ ہوگا، دوسرا بڑا اور دیر پا فائدہ یہ حاصل ہوگا کہ ان چیزوں کے کھانے سے “نظر ” تیز اور دل بڑا ہوگا ، یوں مزید ” کھیلنے “میں جھجک کا خاتمہ ہوگا،اگلا شکار آسانی سے ہاتھ آ جائے گا، اور تم یہ چھوٹے موٹے شکار کھیلتے کھیلتے دلیر اور تجربہ کار “شکاری “بن جاؤ گے۔ اگر دلیری کے ساتھ تجربہ شامل ہوجائے تو پھر مزے ہی مزے۔ ہر خون چوسنے ، ہر لقمہ بلا پرکھے، جانچے اور دیکھے نگلنے ، ہر ہاتھ لگی چیز مٹھی میں کرنے، ہر گام جلب میں مگن رہنے سے کوئی چیز تمھیں روکنے والی نہ ہوگی۔ کیونکہ “اکبر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست” اتنی خامہ فرسائی اور مغز خوری کے بعد پھر بھی اس شعر کے معنی و مفہوم میں کسی کو تردد ہی ہو ، تو میں غالب کی زبانی اس کے لیے دعا ہی کرسکتا ہوں کہ: یارب یہ سمجھے ہیں نہ سجھیں گے میری بات دل اور دے ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور

Facebook Comments