62

ریونیو مقابلے کی پوزیشن ہولڈرز ٹی ایم ایز کا اعلان جلد کیا جائے گا دنیا بھر کی توجہ پانی وصفائی کے شعبے پر ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں اسی شعبے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی۔ عنایت اللہ خان

پشاور (آواز چترال نیوز) سینئر وزیر بلدیات ودیہی ترقی خیبرپختونخوا و پارلیمانی لیڈ ر جماعت اسلامی عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ صفائی بارے عوامی آگہی عام کرنے اور عملے کی کارکردگی بڑھانے و حوصلہ افزائی کے لئے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز اور ڈبلیو ایس ایس سیز کے درمیان مقابلہ صفائی کرایا جائے گا، واٹسن سیل محکمہ بلدیات کے حکام جلد از جلد مجوزہ مقابلے کے لئے طریقہ کار وضع کریں پوزیشن لینے والی ٹی ایم ایز اور ڈبلیو ایس ایس سیز کو انعامات دیئے جائیں گے۔ وہ واٹسن سیل کے زیر اہتمام دو روزہ سینی ٹیشن فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، ڈپٹی سیکرٹری بلدیات محمد خالق اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈبلیو ایس ایس پی انجینئر خان زیب نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔ فیسٹیول کا انعقاد یونیسف، واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور اور دیگر سرکاری وغیر سرکاری تنظیموں کے اشتراک سے کیا گیا تھا جس میں تقریری اور پیٹنگز کے مقابلوں کے علاوہ مختلف تنظیموں نے سٹالز بھی لگا رکھے تھے فیسٹیول کا مقصد صفائی اور پانی بارے عوامی آگہی پیغام عام کرنا تھا۔پانی وصفائی کے شعبے میں بہتر کارکردگی پر ڈبلیو ایس ایس سی مردان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر ناصر غفور، انسانی فضلے سے پاک گاؤں کے لئے کوششیں کرنے پر بہترین کارکردگی کا ایوارڈ صوابی کی خیشنہ، واش بزنس ایوارڈ نگینہ جان، میڈیا ایوارڈ افتخار خان، واش ریسرچ ایوارڈ ہری پور یونیورسٹی کی عالیہ ناز، کمیونٹی لڈ ٹوٹل سینی ٹیشن ایوارڈ شاہ ناصر خسرو، بہترین سٹال کا ایوارڈ پی آر ڈی ایس اور آرٹ ایوارڈ اقراء یونیورسٹی کی حبیبہ کو دیا گیا، آگنائرز ڈپٹی سیکرٹری بلدیات محمد خالق، واٹسن سیل کے اسسٹنٹ کوآرڈی نیٹر ڈاکٹر عمران اللہ اور محمد شہاب کو بھی ایوارڈز دیئے گئے۔ سینئر وزیر عنایت اللہ نے کہا کہ ریونیو مقابلے کی پوزیشن ہولڈرز ٹی ایم ایز کا اعلان جلد کیا جائے گا دنیا بھر کی توجہ پانی وصفائی کے شعبے پر ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں اسی شعبے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی گئی شہری اور نیم شہری کے علاوہ دیہی علاقوں میں ٹیکنالوجی کی بدولت سہولیات تک رسائی آسان ہوگئی ہے جس کی وجہ سے گندگی بھی پیدا ہو رہی ہے شہری ودیہی علاقوں کو مکمل طور صاف کرنے کے لئے منظم منصوبہ بندی اور نظام کی ضرورت ہے حکومت نے کارپوریٹ طرز پر ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں کمپنیاں قائم کر دی ہیں جس کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ انہوں کہا کہ گلی محلوں اور سڑکوں پر گندگی پھینکنے کے انسداد بارے رائج قانون زیادہ موثر نہیں ہے جس پر نظر ثانی کی جائے گی جبکہ نالیوں کی بندش کا باعث بننے والے پلاسٹک بیگز بارے کارخانہ داروں، دکانداروں اور تاجر تنظیموں کو اس کے متبادل پر قائل کیا جائے گا ،پانی وصفائی بارے عوامی آگہی ضروری ہے اس مقصد کے لئے منتخب نمائندوں اور تعلیمی اداروں کی خدمات سے استفادہ کیا جائے ، 50 فیصد مسائل کی وجہ انسانی رویئے ہیں اگر رویئے تبدیل کئے گئے تو دیگر مسائل حکومتی منصوبہ بندی اور پالیسیوں کے ذریعے حل کئے جائیں گے۔سینئر وزیر بلدیات عنایت اللہ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر ناصر غفور کو گلی محلوں میں گندگی پھینکنے کے انسداد کے قانون کو موثر بنانے کے لئے تجاویز دینے کی ذمہ داری سونپ دی۔ سینی ٹیشن فیسٹیول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر نے کہا کہ گلی محلوں میں گندگی پھینکنے کی روک تھام کا موجودہ قانون موثر نہیں ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انجینئر ناصر غفور کو ہدایت کی کہ موجودہ قانون کا بین الاقوامی سطح پر رائج قوانین کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے جائزہ لیکر تجاویز پیش کی جائیں جس میں شہریوں کی ذمہ داری کا بھی تعین کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گندگی بیماریوں کا باعث بن رہی ہے شہری اور دیہی علاقوں میں گندگی کا پھیلاؤ روکنے کے لئے اگر ضرورت پڑی تو لوکل گونمنٹ ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی یا اس کے لئے علیحدہ قانون متعارف کرایا جائے گا۔

Facebook Comments