57

اسلام آباد دھرنا،حکومت کی درخواست پر فوج کاغیر متوقع ردعمل،کیا جواب دیاگیا اور مدد کس حد تک کی جائے گی؟ اندرونی کہانی سامنے آگئی،برطانوی نشریاتی ادارے اور نجی ٹی وی کے انکشافات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ فوج دارالحکومت میں سرکاری تنصیبات کی حفاظت پر مامور رہے گی تاہم دھرنے کیخلاف آپریشن میں حصہ نہیں لے گی، اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مظاہرین کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مذاکرات کیے جائیں۔ تاہم ابھی تک اس اجلاس میں یہ طے نہیں ہوا تھا کہ ان مذاکرات کو کیسے شروع کیا جائے گا۔اتوار کو ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابقوزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت وزیر اعظم ہا?س میں مشاورتی اجلاس ہواس میں وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ احسن اقبال، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے وزیراعظم اور شرکا کو دھرنا مظاہرین کے خلاف کارروائی، گرفتاریوں اور ملکی داخلی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں طے پایا کہ آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو طلب کیا گیا ہے اور پاک فوج سرکاری تنصیبات کی حفاظت کے لیے موجود رہے گی تاہم اس کا دھرنے کے خلاف آپریشن سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کی ذمہ داری پولیس اور سول سیکیورٹی اداروں کی ہے، انتظامیہ اور ضلعی پولیس کا کام ہے کہ وہ دھرنے والوں سے مذاکرات کریں اور مظاہرین کو پرامن طریقے سے منتشر کیا جائے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف نے وزیراعظم کو تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے عوام کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرسکتے، پاکستانی عوام فوج سے محبت اور اس پر اعتماد کرتے ہیں اور معمولی فوائد کے بدلے اس اعتماد کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا، ختم نبوت ترمیم کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرکے انہیں سزا دی جانی چاہیے، ملک میں بدامنی اور انتشار کی صورت حال ٹھیک نہیں کیونکہ اس سے دنیا میں پاکستان کی ساکھ متاثر ہوگی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ہمیں متحد رہنا ہے، پاک فوج حکومت کے ماتحت ہے اور سونپی گئی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن تمام آپشنز کو بروئے کار لانے کے بعد فوج آخری آپشن ہونا چاہیے، ریاست کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں فوج کو طلب کیا جانا چاہیے، جبکہ اسلام آباد میں اضافی نفری تعینات نہیں کی جائے گی اور صرف پہلے سے موجود جوانوں کو سرکاری عمارتوں کی حفاظت پر مامور کیا جاسکتا ہے۔آرمی چیف نے یہ بھی تجویز دی کہ الیکٹرانک میڈیا پر پابندی ختم کی جائے اور صرف مخصوص حالات میں مختصر مدت کے لئے پابندی لگائی جائے۔آرمی چیف کی تمام تجاویز کو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے منظور کرکے ان پر عمل درآمد کا حکم دے دیا۔برطانوی نشریاتی ادارے ’’بی بی سی ‘‘ کے مطابق اتوار کے روز ہونے والا اجلاس میں یہ پہلا موقع ہے کہ اس معاملے پر سویلین اور عسکری قیادت کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ مظاہرین کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مذاکرات کیے جائیں۔ تاہم ابھی تک اس اجلاس میں یہ طے نہیں ہوا تھا کہ ان مذاکرات کو کیسے شروع کیا جائے گا کیونکہ دھرنا دینے والوں کے قائدین کا کہنا ہے کہ ہفتہ کے روز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی طرف سے مظاہرین پر دھاوا بولنے کی وجہ سے فی الوقت حکومت کے ساتھ اس معاملے پر مذاکرات نہیں ہوں گے۔اجلاس میں ہفتہ کے روز دھرنا دینے والوں کے خلاف ہونے والی کارروائی میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ناکامی کے محرکات کا بھی جائزہ لیا گیا۔یاد رہے کہ اتوار کی صبح پاکستان کی وزارت داخلہ نے اسلام آباد میں حساس عمارتوں کی حفاظت کے لیے فوج کی تعیناتی کا حکم دیا تھا۔فیض آباد میں پولیس کا آپریشن ہفتہ کی رات سے معطل ہے اور اس دوران نجی نیوز چینلز کی نشریات کو بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم اس وقت فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کو بلاک کر دیا گیا۔سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کے حوالے سے حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ داخلہ کے احکامات پر ہفتہ کو سوشل میڈیا کی تین ویب سائٹس فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب کو ملک میں بند کر دیا گیا تھا اور تینوں ویب سائٹس فی الوقت غیر معینہ تک بند رہیں گی۔ادھر حکومت کی جانب سے بظاہر لائحہِ عمل میں تبدیلی لائی گئی ہے اور رینجرز نے فیض آباد پر ہراول دستے کا کام سنبھال لیا ہے۔اس کے علاوہ رینجرز کو فیض آباد کے اطراف میں کئی مقامات پر تعنیات بھی کر دیا گیا ہے۔ رینجرز اہلکاروں نے آئی جے پی روڈ، اسلام آباد ایکسپریس وے اور مری روڈ پر اپنی پوزیشنز سنبھال لی ہیں۔

Facebook Comments