98

دھرنے میں موجود کن افراد کا بھارت میں رابطہ ہے، احسن اقبال کاانتہائی سنسنی خیز انکشاف

اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے فیض آباد پر دھرنے والوں کیخلاف کارروائی عدالتی حکم کے مطابق کی ہے۔ حکومت عدالتی احکامات سے انکار نہیں کرسکتی۔ مظاہرین نے ایسے وقت میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے جب باہر کا دشمن بھی پاکستان کیخلاف سازش کررہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دھرنے میں موجود کچھ افراد بھارت میں رابطے قائم کیے ہوئے ہیں۔اور اس حوالے سے وزارت داخلہ مصدقہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔وزیر  نے داخلہ کہا کہ سیکورٹی ادارے اس تمام معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں۔ وزیر    داخلہ کہناتھا کہ دھرنے کا مقصد مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ہے اور اس کے ذریعے ریاست کو نقصان پہنچانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے فیض آباد پر دھرنے والوں کیخلاف کارروائی عدالتی حکم کے مطابق کی ہے۔ حکومت عدالتی احکامات سے انکار نہیں کرسکتی۔ مظاہرین نے ایسے وقت میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے جب باہر کا دشمن بھی پاکستان کیخلاف سازش کررہا ہے۔ دھرنا مظاہرین کے پاس آنسو گیس شیل فائر کرنیوالی بندوقیں ہیں جس سے انہوں نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر کارروائی کے دوران آنسو گیس شیل فائر کئے۔ پی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ ایک طرف باہر کا دشمن پاکستان کیخلاف لڑ رہا ہے اور دوسری طرف ایک گروپ نے بے بنیاد دعوؤں کی بنیاد ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ہے ، انہوں نے کہا کہ جس گروپ نے 20 دنوں سے فیض آباد پر دھرنا دیا ہوا ہے اسے سیاست میں آنا چاہئے ،وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس نے بہت احتیاط کیساتھ آپریشن شروع کیا تھا اور یہ کوشش رہی کہ کوئی جانی ومالی نقصان نہ ہو ،ہمیں اسلام آباد اور راولپنڈی کے لاکھوں لوگوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرناہے ، انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے براہ راست حکم دیا تھا کہ تین دن کے اندر فیض آباد خالی کرایا جائے جس کی وجہ سے حکومت نے کارروائی کی ، انہوں نے کہا کہ مظاہرین کو پریڈ گراؤنڈ میں دھرنا دینے کیلئے آمادہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی لیکن انہوں نے اس سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ جمعہ کو مظاہرین نے سیف سٹی پراجیکٹ کے کیمروں کی مین تار کاٹ دی تھی جس کی تحقیقات ہو رہی ہیں، انہوں نے مظاہرین پر ملک میں انارکی پھیلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا تھا ۔احسن اقبال نے کہا کہ جس بنیاد پر مظاہرین نے بیس دنوں سے دھرنا دیا ہوا ہے وہ بے بنیاد ہے ، حکومت ختم نبوتؐ پر ایمان رکھتی ہے اور اس قانون میں تبدیلی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں مظاہرین کو پرامن طریقے سے منتشر کرنے کیلئے بہت کوشش کی تاہم وہ لوگ دھرنے کو ختم کرنے پر راضی نہیں تھے ۔ ان کے رویئے نے حکومت کو طاقت کے استعمال پر مجبور کیا۔ انہوں نے کہا کہ دھرنے کے منتظمین نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ اپنایا تھا جس سے پاکستان سے باہر بھی بہت منفی پیغام گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں پیدا کئے گئے حالات پر باہر بیٹھا ہوا ہمارا دشمن بہت خوش تھا۔

Facebook Comments