62

مولانا سید الابرار صاحب کی وال سے مستعار۔۔۔ پرنس کریم آغا خان کی متوقع آمد !

پرنس کریم آغا خان 13 دسمبر 1936 کو سوئیزر لینڈ کے مشہور شہر جینوا میں پیدا ہوئے،
1957 میں آغا خان سوم کی وفات کے بعد 20 سال کی عمر میں اسماعیلیوں کے 49 واں امام بنے۔
اور تا ہنوز 60 سال کا طویل عرصہ بیت جانے تک اپنے اسی منصب پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان کا ادارہ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک دنیا کے تقریبا 35 ممالک میں انسانی زندگی کا معیار بہتر بنانے کے لئے ان ممالک کو مختلف شعبوں میں اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔
1960 میں شمالی علاقہ جات کا دورہ کر کے وہاں کی غربت دیکھ کر اپنی پریشانی کا اظہار کیا، بعد ازاں ایک جامع حکمت عملی کے تحت مختلف شعبوں میں لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی خاطر مختلف انداز میں شمالی علاقوں میں بھی ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا، جن میں آغا خان فاؤنڈیشن کے زیراہتمام بننے والا بجلی گھر، آغا خان ہیلتھ سروسز، اور آغا خان ہسپتال قابل ذکر ہیں۔اسلام ایک انسانیت دوست اور انسانیت نواز مذہب ہے، ایک دوسرے کی خوشی و غمی اور آپس میں لین دین کے تعلقات سے منع نہیں کرتا، شنید ہے کہ آمدہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں ہزہائی نس آغا خان 15 سال کے طویل عرصے بعد ایک مرتبہ پھر شمالی علاقہ جات کا دورہ کرنے والے ہیں۔ اسماعیلی برادری کا روحانی پیشوا ہونے کی حیثیت سے ان کی آمد ایک غیر معمولی آمد ہے، چترال آمد پر ان کو خوش آمدید کہتے ہیں، اہل خرد حضرات ان کے اس دورے سے علاقے کے لئے بھی کافی فوائد اور منصوبے نکال سکتے ہیں۔

Facebook Comments