147

خیبر پختونخوا، خناق سے متاثرہ بچوں کیلئے دوا کے آخری چار وائلز بھی ختم، ہسپتالوں میں دوا نہ ہونے پر 11 بچوں کی اموات، مزید اموات کا خدشہ

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا محکمہ صحت کے پاس خناق مرض کے متاثرہ بچوں کے لیے دوا انٹی ڈیپ تھیریا سیرم کے آخری چار وائلز بھی ختم ہوگئے، صوبے کے ہسپتالوں میں خناق کی دوا نہ ہونے سے کئی متاثرہ بچوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے، ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق بیمار بچوں کے والدین ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے چکر لگا رہے ہیں،لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت بڑے تدریسی ہسپتالوں نے ایم ٹی آئی کا درجہ پانے کے باوجود اے ڈی سی دوا کی نہ خریداری کر سکی ہے اور نہ ہی کوئی انتظام کیا جا سکاہے۔ اب تک صوبے میں 11 بچوں کی موت واقع ہو چکی ہے اس کے علاوہ جنوری 2017 ء سے اب تک گیارہ اضلاع سے 115 متاثرہ بچوں کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں سب سے زیادہ متاثرہ بچے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہیں جن کی تعداد 47 ہے اس کے علاوہ صوابی میں 18 بچوں کے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ خناق کے کیسز قبائلی علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں رپورٹ ہو رہے ہیں، یہ مرض قبائلی بچوں سے دوسرے اضلاع کے بچوں کو منتقل ہو رہا ہے، ای پی آئی پروگرام کے تحت صرف قبائلی علاقوں میں خناق کے متاثرہ بچوں کو اے ڈی سی دوا کے 1824 وائلز دیے گئے تھے لیکن خناق کے وبائی صورت اختیار کرنے پر کے پی کے حکومت کو مزید اے ڈی سی دوا منگوانا پڑی جو کہ اکتوبر میں 651 وائلز محکمے کو دیے گئے جو کہ گزشتہ روز ختم ہو گئے ہیں۔ اس وقت اینٹی ڈیپ تھیریا سیرم دوا ڈریپ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کے تحت نہ تو رجسٹرڈ ہے اور نہ ہی یہ دنیا میں ماسوائے روس اور انڈیا کے کوئی ادویہ ساز کمپنی اسے تیار کر رہی ہے، خصوصی آرڈر پر ہی یہ دوائی انڈیا یا روس سے منگوائی جا سکتی ہے۔
Facebook Comments