59

پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن گروپوں میں تقسیم

کراچی (نمائندہ  نیوز) پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن میں ایک مرتبہ پھر گروپ بندی عروج پر پہنچ گئی۔ پیپلزپارٹی کراچی کے صدر ڈاکٹر عاصم اور جنرل سیکریٹری سعید غنی میں دوریاں مزید بڑھ گئی۔زرائع کے مطابق سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی اور پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر ڈاکٹر عاصم حسین نے سعید غنی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعید غنی کو اگر سندھ کابینہ کا حصہ بنایا گیا تو وہ پارٹی سے علیحدہ ہوجائیں گے جس پر سابق صدر آصف علی زرداری نے سعید غنی کو سندھ کابینہ میں شامل نا کرنے کا فیصلہ کیا۔ زرائع کے مطابق آصف علی زرداری بھی سعید غنی سے ناراض ہیں مگر فریال تالپور اور بلاول بھٹو سے سیاسی قربت کی وجہ سے سعید غنی اب بھی کراچی کے جنرل سیکریٹری کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔آصف زرداری کی سعید غنی سے ناراضگی اس وقت بڑھ گئی جب پی ایس 114 کی اہم شخصیت سابق ایم پی اے عرفان اللہ مروت کو سابق صدر آصف زرداری نے پارٹی ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا، وہ آصف زرداری سے ملاقات میں پیپلزپارٹی میں شمولیت کی یقین دہانی کرواچکے تھے مگر ملاقات کے اگلے ہی روز سابق صدر زرداری کی صاحبزادیوں آصفہ بھٹو زرداری اور بختاور بھٹو زرداری نے اس فیصلے کی کھل کر مخالفت کردی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اس حوالے سے اپنا بیان بھی جاری کیا تھا، زرائع کے مطابق اس معاملے میں سعید غنی نے کردار ادا کیا تھا جس پر آصف زرداری مے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔کچھ روز قبل ڈاکٹر عاصم کے استعفے کہ خبر میڈیا پر گردش کرتی رہی جس کی تردید خود ڈاکٹر عاصم نے کی اور کہا کہ میں نے استعفی نہیں دیا۔ دوسری طرف سعید غنی کے قریبی حلقوں کا یہ دعوی ہے کہ سعید غنی کو پی پی کراچی کا صدر اور سینیٹر مرتضی وہاب کو جنرل سیکریٹری بنایا جارہا ہے۔ زرائع کا یہ بھی کہنا ہے پارٹی کارکنان سعید غنی سے ناخوش ہیں اور پی ایس 114 کے سینئر کارکنان اور سعید غنی کے قریبی ساتھی بھی شکوہ کررہے ہیں کہ ضمنی انتخابات میں کامیابی کے بعد سعید غنی نے دوبارہ علاقے کا دورہ نہیں کیا اور وہ چنیسر گوٹھ کے بجائے ڈیفنس عسکری 4 میں اپنے بنگلے میں مقیم ہیں۔ واضح رہے سعید غنی نے 4 ماہ قبل پی ایس 114 کے ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

Facebook Comments