98

ایک یہودی مسجد نبوی میں داخل، تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دیں، دنیا بھر کے مسلمان غصے میں

ریاض(نیوزڈیسک)اسرائیلی شہری کی مسجد نبویؐ میں تصاویر،دنیا بھر کے مسلمانوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی، تفصیلات کے مطابق اسرائیل کے ایک شہری کی سعودی عرب کے شہر مدینہ کی مسجد نبوی میں تصاویر عرب دنیا کے سوشل میڈیا پر غم و غصے کا باعث بن گئیں،فیس بک کے پیج پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں اسے مسلمانوں کے مقدس شہر مدینہ کی مسجدِ نبوی میں دیکھا جا سکتا ہے۔روس میں پیدا ہونے والا31 سالہ اسرائیلیشہری بین تسیون اپنے ایران، لبنان، سعودی عرب اور اردن کے دورے کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتارہاہے، مسجد نبوی میں لی گئیتصویر کے بارے میں تسیون نے فیس بک پر کی جانے والی اپنی پوسٹ میں کہا’’سعودی عرب کے لوگ یہودی قوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے‘‘، ایک اور تصویر میں اس کوسعودی عرب کے ٹخنوں تک لمبے روایتی لباس میں تلوار کے ساتھ جسے ‘ثوب’ کہا جاتا ہے، ڈانس کرتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔تیسون نے اپنی ایک اور پوسٹ میں لکھا کہ ’’مشرقِ وسطیٰ میں امن ایک دوسرے کے لیے محبت اور عزت کے ساتھ‘‘تیسون کی تصاویر سامنے آنے کے بعد تنازعہ اس بات پر بھی ہے کہ غیر مسلمانوں کو مکہ کا دورہ کرنے سے منع کیاجاتاہے اور ان کو مدینہ کے مرکزی حصے میں داخل ہونے کی بھی اجازت نہیں جہاں مسجد نبویؐ ہے ، دوسری جانب تسیون کادعویٰ ہے کہ تمام مذہبی مقامات عام افراد کے لئے کھلے ہیں اور کہیں نہیں روکاجاتا،اسرائیل کے معروف اخبار ٹائمز آف اسرائیل سے گفتگو کرتے ہوئے تسیون نے بتایا کہ مسلمان ممالک کا دورہ کرنا اس کا شوق ہے اور میں تمام ثقافتوں اور عقائد کا احترام کرتاہوں،تسیون کا تعلق روس سے ہے لیکن وہ 2014ء سے اسرائیل کی شہریت اختیارکرچکاہے ،اس کا دعویٰ ہے کہ عرب دنیا کبھی میرے ساتھ دشمنی کے ساتھ پیش نہیں آئی اور انہوں نے مجھ سے ،اسرائیل سے اور یہودیوں سے ہمیشہ محبت کا اظہار ہی کیا ہے ،تسیون نے اپنے دوروں کی تفصیلات بھی بتائیں کہ کس طرح اس نے مطلوبہ ویزے حاصل کئے اور کس طرح قانونی طورپر وہ تمام مقدس مقامات میں داخل ہوا لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے یہ سفر روس کے پاسپورٹ پر کئے یا پھر اسرائیل کے،اس سے قبل تسیون اپنی ایران کے شہروں تہران اور قم کے دورے کی بھی تصاویر شیئر کرچکاہے ، اس میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ اسرائیل کے شہریوں کو ایران کے سفر کی اجازت نہیں ہے لیکن تسیون وہاں بھی جا پہنچا، تسیون کی اچھی اچھیباتوں کے باوجود اس کی پوسٹ کی جانے والی تصاویر پر مسلمانوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور سوشل میڈیا پر عربی ہیش ٹیگ ’’مسجد نبوی میں ایک یہودی‘‘ کو صرف چوبیس گھنٹوں میں نوے ہزار سے زیادہ بار ٹوئٹس کیاگیا،ٹویٹر پر صارفین نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا ایک صارف نے لکھا کہ ’’ یہودی مسجد نبوی میں ہے اور علماء جیلوں میں ، جبکہ ایک اور صارف نے اسے ’’آل سعود کے دور میں مسلمانوں کے دشمنوں کی جانب سے مسجد نبویؐ کی بے حرمتی قراردیا،تسیون کی پوسٹ کے بعد انسٹا گرام کو بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑا ہے او بڑی تعداد میں لوگوں کی ناراضگی کے بعد انسٹا گرام نے تسیون کا اکاؤنٹ بند کردیاہے۔

Facebook Comments