46

سزا دی نہیں دلوائی جا رہی ہے‘ دوہرا عدالتی معیار ختم کریں گے: نوازشریف

سزا دی نہیں دلوائی جا رہی ہے‘ دوہرا عدالتی معیار ختم کریں گے: نوازشریف

اسلام آباد (نا مہ نگار) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے نظرثانی فیصلہ میں ایسے الفاظ استعمال کیے گئے جیسا کہ ہمارے سیاسی مخالفین ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں وہی زبان اور الفاظ استعمال کئے گئے اور یہ نیب عدالت کو واضح پیغام تھا کہ نواز شریف کو ہر قیمت پر سزا دینی ہے یہ پہلے سے لکھا ہوا ہے جج سزا نہیں دے گا یہ سزا دلوائی جا رہی ہے، ہم عدالتوں کے دوہرے معیار کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، مجھے سزا دی نہیں جا رہی بلکہ سزا دلوائی جا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار نوازشریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ ایک میرا مقدمہ ہے اور ایک دوسروں کا مقدمہ ہے دونوں میں اصول اور ضابطے علیحدہ علیحدہ ہیں میرے مقدمہ میں کچھ اور ضابطے ہیں اور دوسروں کے مقدمہ میں کچھ اور ضابطے ہیں اور ابھی نظرثانی درخواست کا جو فیصلہ آیا ہے وہ ایک فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک پیغام تھا نیب عدالت کو پیغام تھا کہ نوازشریف کو ہر قیمت پر سزا دینی ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ایسے الفاظ استعمال کئے گئے جیسا کہ ہمارے سیاسی مخالفین ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں وہی زبان اور الفاظ استعمال کئے گئے اورنیب عدالت کو ایک واضح پیغام تھا کہ نواز شریف کو ہر قیمت پر سزا دینی ہے یہ پہلے سے لکھا ہوا ہے جج سزا نہیں دے گا یہ سزا دلوائی جا رہی ہے۔ یہ میری بات میڈیا نوٹ کرے، میں 1999ء میں بھی کہتا تھا کہ جب میرے خلاف طیارہ اغوا کیس بنا تھا اس وقت بھی میں نے یہ باتیں کی تھیں اور سب باتیں بعد میں سامنے آئیں اور واقعات سامنے آئے اور پھر میں آج واضح طور پر کہتا ہوں کہ سزا دی نہیں جا رہی یہ دلوائی جارہی ہے جبکہ کمرہ عدالت میں میاں نوازشریف سے سوال پوچھا کہ عمران خان کو ضمانت مل گئی اس پر آپ کا کیا ردعمل ہے اس پر نوازشریف کا کہنا تھا کہ عدالتوں کا دوہرا معیار ہے، ہم اس دوہرے معیار کیخلاف جدوجہد کررہے ہیں، ہم دوسرے معیار کا خاتمہ کریں گے اور اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ آن لائن/ صباح نیوز کے مطابق نواز شریف نے کہا ہے کہ نیب اور احتساب عدالت کو کہیں اور سے کنٹرول کیا جارہا ہے۔ مجھے سزا دی نہیں بلکہ دلوائی جارہی ہے اور مجھے جان بوجھ کر پھنسایا جارہا ہے۔ دوہرے معیار کے خاتمے کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ جو قصور ہم نے نہیں کیا اس کا بھی ہم سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ یہ احتساب نہیں انتقام ہے اور اس کے باوجود بھی ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ دوسری جانب نوازشریف کی زیرصدارت مسلم لیگ(ن)کا مشاورتی اجلاس ہوا جس میں احتساب عدالت میں پیشی اور نیب مقدمات سے متعلق امور پر غور کرتے ہوئے آئندہ کی سیاسی و قانونی حکمت عملی طے کی گئی۔ بدھ کو سابق وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت پنجاب ہائوس اسلام آباد میں مسلم لیگ کا غیررسمی اجلاس ہوا جس میں مریم نواز، خواجہ سعد رفیق، عابد شیر علی، مریم اورنگزیب، دانیال عزیز، امیر مقام اور آصف کرمانی نے شرکت کی۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے احتساب عدالت میں پیشی سے متعلق نکات پر غور کرتے ہوئے آئندہ کی سیاسی و قانونی حکمت عملی کا جائزہ لیا۔ آئینی اور قانونی امور کا جائزہ لینے کیلئے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف، خواجہ حارث اور مسلم لیگ (ن) کی لیگل ٹیم نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ قانونی ماہرین کی ٹیم کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو قانونی نکات پر بریفنگ دی گئی۔ نوازشریف کا ایبٹ آباد جلسے کے بعد لندن جانے کا پروگرام ہے اور اس حوالے سے انہوں نے قانونی ماہرین سے مشاورت کی ہے۔
اسلام آباد (محمد نواز رضا۔ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے قبل ازوقت انتخابات کے مطالبہ کو مسترد کر دیا ہے۔ اسمبلیوں کی آئینی مدت کی تکمیل کی راہ میں ہر رکاوٹ کو دور کیا جائے گا۔ سیاسی مخالفین کو سیاسی میدان میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔ مسلم لیگی رہنماؤں نے نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نتائج کی پروا کئے بغیر پوری قوت و استقامت سے عدالتی جنگ لڑیں۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ میدان چھوڑنے اور راہ فرار اختیار کرنے والا نہیں ہوں۔ ہر قسم کے مصائب برداشت کرنے کیلئے تیار ہوں۔ یہ بات مسلم لیگی رہنماؤں‘ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران‘ سندھ سے مسلم لیگ (ن) کے وفد‘ وکلاء کی ٹیم سے الگ الگ اجلاسوں میں کہی گئی جو نواز شریف کی زیرصدارت پنجاب ہاؤس میں منعقد ہوئے۔ نواز شریف نے احتساب عدالت میں پیشی کے بعد پنجاب ہاؤس میں مصروف دن گزارا اور متعدد میٹنگز اور ملاقاتوں کے بعد شام کو مری چلے گئے۔ پنجاب ہاؤس میں منعقدہ اجلاسوں میں راجہ محمد ظفر الحق ‘ خواجہ سعد رفیق‘ امیر مقام‘ چودھری جعفر اقبال‘ بیگم عشرت اشرف‘ گورنر سندھ محمد زبیر‘ چودھری محمد ریاض‘ دانیال عزیز‘ طلال چودھری‘ اٹارنی جنرل اوشتر اوصاف علی اور وکلاء ٹیم نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف جنہوں نے عدلیہ کے بارے میں جارحانہ طرزعمل اختیار کر رکھا ہے‘ اپنے بیانات میں نرمی پیدا کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔ مسلم لیگی رہنما اور وکلاء کی ٹیم انہیں عدلیہ کے بارے میں قدرے نرم رویہ اختیار کرنے پر راضی کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں سے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ کوئی انہیں ’’جیل یاترا‘‘ جانے سے نہ ڈرائے۔ وہ پاکستان کے عوام کی خاطر جیل کے مصائب برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نکلیں اور سیاسی مخالفین کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں کو رابطہ عوام کے سلسلے میں جلسوں کا اہتمام کرنے کی ہدایت کی۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن‘ پاکستان بار کونسل کے عہدیداران اور سینئر وکلاء نے میاں نواز شریف سے ملاقات کے دوران جمہوریت اور ووٹ کے تقدس کی خاطر انکا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ انہوں نے عدلیہ کی بحالی اور آزادی کی تحریک میں وکلاء کے ساتھ مل کر لانگ مارچ کیا۔ ملک میں انصاف اور قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد جاری رکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی استحکام کیلئے جمہوریت انتہائی ضروری ہے۔

Facebook Comments