160

ضلع اپر چترال کا اعلان ، تحریک انصاف کا امتحان

تحریر : محکم الدین ایونی چترال

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے چار سالہ حکومت کے آخری مہینوں میں اپر چترال کو ضلع کا درجہ دے کر ایک دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا ہے ۔ گذشتہ دنوں اس حوالے سے وزیر اعلی خیبر پختونخوا پر ویز خٹک اور قائد تحریک انصاف عمران خان نے چترال کا دو روزہ دورہ کیا ۔ اور ایک بڑے جلسۂ عام میں سب ڈ دویژن مستوج کو اپر چترال اور بونی کو اُس کا ہیڈ کوارٹر قرار دینے کا اعلان کیا ۔ اور اس کی نوٹیفیکیشن چند دنوں کے اندر کرنے کی یقین دھانی کی ۔ جو کہ نہایت خوش آیند ہے ۔ یہ اعلان انتظامی طور پر چترال کو درپیش مشکلات سے نکالنے کیلئے ایک بہت بڑا فیصلہ ہے ۔ جس کی کئی عشروں سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی ۔ لیکن کسی بھی حکومت نے اس کیلئے سنجیدہ قدم اُٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی ۔ بڑھتی ہوئی آبادی ، حکومتی عدم توجہ کے نتیجے میں خستہ حال انفراسٹرکچر اور سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایک طرف لوئر چترال پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا ۔ تو دوسری طرف دور دراز علاقوں کے لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے سینکڑوں کلومیٹر سفر کرنا پڑتا تھا ۔ بروغل ، یارخون ، تریچ ، کھوت ، لاسپور ، ریچ وغیرہ علاقوں کے لوگوں کو چترال پہنچنے کیلئے وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر رقم خرچ کرنے پڑتے تھے ۔ جو کہ غریب لوگوں کی بس سے باہر تھی ۔ چترال کے بہت سارے علاقے ایسے ہیں ۔ جہاں قیام پاکستان سے اب تک کوئی انتظامی آفیسر لوگوں کی مشکلات سے آگاہی حاصل کرنے کیلئے دورہ نہیں کیا ۔ جن میں زیادہ تر اپر چترال کے علاقے شامل ہیں ۔ اسی لئے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے ۔ کہ ایک طرف نئے ضلع کے ان لوگوں کو طویل سفر سے نجات مل جائے گی ۔ اور دوسری طرف ضلع کا ہیڈ کوارٹر بونی نزدیک ہونے کی وجہ سے اُن کے اخراجات میں بہت کمی آئے گی ۔ اور وقت بھی بچ جائے گا ۔ لیکن ان تمام توقعات کے باوجود نئے ضلع کے اعلان سے اپر چترال کے لوگوں میں کوئی خوشی دیکھنے میں نہیں آئی ۔ جبکہ توقع یہ کی جارہی تھی ۔ کہ نئے ضلع کے ہیڈ کوارٹر بونی میں خوشی کے اظہار کیلئے تقریبات منعقد کئے جائیں گے ، مٹھائیاں تقسیم ہوں گی ۔ اور شادیانے بجائے جائیں گے ۔ کم آز کم روایتی کھیل پولوکا انعقاد تو ہر صورت کیا جائے گا ۔ مگر خلاف توقع اس قسم کی کوئی تقریب اور خوشی کا اظہار دیکھنے میں نہیں آیا ۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے ، کہ نئے ضلع کے اعلان کو تحریک انصاف کی طرف سے ایک سیاسی انتخابی اعلان قرار دیا جارہا ہے ۔ اور جواز یہ پیش کی جارہی ہے ۔ کہ نئے ضلع کیلئے چترال کے سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ اس کیلئے ہوم ورک نہیں کی گئی ۔ اور اس کیلئے ابتدائی طور پر وزیر اعلی کی طرف سے کسی فنڈ کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ اور نہ نئے ضلع میں سرکاری اداروں کی تعمیر اور آفیسران کی تعیناتی کے حوالے سے عوام کو مطمئن کیا گیا ۔ جبکہ دوسری طرف موجودہ حکومت کا دورانیہ ختم ہونے میں چند مہینے رہ گئے ہیں ۔ آیندہ بجٹ پاس کرنے کا وقت موجودہ کومت کو ملتا بھی ہے کہ نہیں ۔ ان خدشات کی بنا پر ضلع اپر چترال کے لوگوں میں گومگو اور تذبذب و اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ اور تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ اس لئے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اگر لوگوں کے خد شات درست ہیں ۔ تو پاکستان تحریک انصاف چترال جو سیاسی کریڈٹ لینے اور الیکشن 2018جیتنے کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے ۔ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گی ؟۔ اس سلسلے چترال کے سیاسی سیانے لوگوں کا کہنا ہے ۔ کہ پاکستان تحریک انصاف کیلئے نیا ضلع ایک بڑے آزمائش کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اگر صوبائی حکومت اور مقامی تحریک انصاف کی قیادت نے دلچسپی دیکھائی ۔ نئے ضلع کو سٹبلشٹ کرنے کیلئے کردار ادا کیا ۔ تو آنے والے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو سپورٹ ملے گی ۔ بصورت دیگر اپر اور لوئر چترال دونوں میں پی ٹی آئی اپنی موجودہ ساکھ برقرار نہیں رکھ سکتی ۔ اپر چترال کے لوگوں کو یہ خدشات بھی ہیں ، کہ فی الحال نو مولود ضلع کے پاس ریونیو پیدا کرنے کے وسائل نہیں ہیں ۔ اور جہان وسائل موجود ہیں اُن سے استفادہ حاصل کرنے کی حکومتی سطح پر کوشش نہیں کی گئی ۔ گو کہ اپر چترال میں بڑی مقدار میں آبی ذخائر موجود ہیں ۔ لیکن ان آبی ذخائر سے بجلی پیدا کرکے اُن کی آمدنی حاصل کرنے کیلئے طویل وقت اور فنڈ درکار ہیں ۔ اس لئے ایسی آمدنی کیلئے مزید کئی عرصے تک انتظار کی صعوبتیں نئے ضلع کے عوام کو برداشت کرنی پڑیں گی ۔ اور سوختنی لکڑی و عمارتی لکڑی جن کی تمام ضروریات لوئر چترال پوری کرتی ہے ۔اپر چترال کو ان کے حصول میں مشکلات پیش آئیں گی ۔ اسی طرح ایسے ملازمین جو لوئر چترال میں اپنی ملازمتوں کی وجہ سے قیام پذیر ہونے کے باعث شہری سہولیات حاصل کر رہے ہیں ۔ اپر چترال منتقل ہونے کی صورت میں ان سہولیات سے محروم رہیں گے ۔ یہی وہ خدشات ہیں جن کی وجہ سے زیادہ تر لوگ اپر چترال ضلع کے اعلان پر دل سے خوشی کا اظہار نہیں کر پارہے ۔ لیکن تحریک انصاف کے کارکناں کو یہ تو قع ہے ۔ کہ تحریک انصاف کے ضلعی رہنما ایم پی اے و پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت بی بی فوزیہ ، سابق صدر عبداللطیف ، رحمت غازی ، محمد اسرار ، حاجی سلطان ، رضیت باللہ ، اور نو شامل شدہ شہزادہ سکندالملک اور شہزادہ آمان الرحمن کوشش کرکے وزیر اعلی کے اعلان پر عملدرآمد کرانے میں کامیاب ہوں گے ۔ اور نئے ضلع کی تمام ضروریات پوری کی جائیں گی ۔ اور الیکشن 2018کیلئے پاکستان تحریک انصاف کا راستہ ہموار کیا جائے گا ۔

Facebook Comments